کراچی ایوارڈز 2025: سماجی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین

کراچی پاکستان کا معاشی اور ثقافتی مرکز، نہ صرف اپنی مصروف زندگی اور گہماگہمی کے لیے جانا جاتا ہے بلکہ ان بے شمار افراد اور اداروں کے لیے بھی مشہور ہے جو خاموشی سے معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہی جذبوں کو سراہنے اور اجاگر کرنے کے لیے کے-الیکٹرک کے زیرِ اہتمام ہر سال "کراچی ایوارڈز” کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں ان اداروں اور شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے جو اپنے جذبہ خدمت سے کمیونٹیز کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔

کراچی ایوارڈز 2025 کا موضوع "خدمت کا جذبہ رہے روشن سدا” انہی کوششوں کا اعتراف ہے، جس میں شفافیت اور میرٹ کو بنیاد بناتے ہوئے مختلف سماجی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اداروں کو سراہا گیا۔ اس تقریب کا مقصد نہ صرف ان اداروں کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے بلکہ دیگر تنظیموں کو بھی معاشرتی بھلائی کے سفر میں شامل ہونے کی ترغیب دینا ہے۔

کے-الیکٹرک جہاں صوبہ سندھ کے کچھ اضلاع کو بجلی فراہم کرتی ہے، وہیں بلوچستان کے ضلع حب اور لسبیلہ کو بھی بجلی کی فراہمی کے-الیکٹرک کے ذمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لسبیلہ سے ہمارا ادارہ ویلفیئر ایسوسی ایشن فار نیو جنریشن وانگ لسبیلہ اس ایوارڈز کی نامزدگی کے لیے اہل ٹھہرا۔ کے-الیکٹرک کی طرف سے ایوارڈز کے لیے اظہارِ دلچسپی کی طلبی کے بعد، کراچی، لسبیلہ اور حب کے اضلاع میں فلاحی خدمات فراہم کرنے والے اداروں نے اس ایوارڈز میں نامزدگی کے لیے اپنی درخواستیں جمع کیں۔

کراچی ایوارڈز کے ذمہ داران کے مطابق جیوری نے ان اضلاع سے موصول شدہ 166 درخواستوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جس میں اداروں کی کارکردگی، سماجی اثرات اور خدمات کے معیار کو شفاف اور منصفانہ طریقے سے پرکھا گیا۔ جیوری میں شامل نمایاں شخصیات جیسے جاوید جبار، بیلا رضا جمیل، آفیہ سلام، شہزاد رائے اور دیگر ماہرین نے تعلیم، صحت، سماجی کاروبار اور ماحولیاتی استحکام جیسے اہم شعبوں میں اداروں کے اثرات کا جامع تجزیہ کیا۔

ایوارڈز کے عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے سعد امان اللہ خان، چیئرمین کے ایچ آئی ایوارڈز جیوری اور کے-الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن نے کہا کہ کوئی ایک ادارہ اکیلا ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا، اس کے لیے تبدیلی کے علمبرداروں اور سہولت کاروں کے ایک پورے نظام کی ضرورت ہوتی ہے جو مل کر کام کریں۔ کے ایچ آئی ایوارڈز تعاون کے اس پہیے کا کام کرتے ہیں، جو ان افراد اور اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتے ہیں جو ایک مضبوط اور جامع پاکستان کے مشترکہ مقصد کے لیے کوشاں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس شفاف اور آزادانہ جائزے کے عمل کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ آڈٹ فرم EY نے مستحکم کیا، جبکہ SEED وینچرز نے بطور ایوارڈ آفس پارٹنرز اہم کردار ادا کیا۔

الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے اس موقع پر کہا کہ کے ایچ آئی ایوارڈز ایک ادارہ جاتی سطح کا ایسا پلیٹ فارم ہے جو نہ صرف مثبت سماجی اقدامات کو سراہتا ہے بلکہ تبدیلی کے خواہاں افراد اور اداروں کو یکجا کرتا ہے، تاکہ وہ کراچی کی ترقی کے سفر کو آگے بڑھا سکیں انہوں نے مزید کہا کہ کے۔ الیکٹرک کے بورڈ کے تعاون سے ہم نے انعامی رقم کو 40 ملین سے بڑھا کر 60 ملین روپے کر دیا ہے، جو ہمارے غیر متزلزل یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ کمیونٹی کی سطح پر کیے جانے والے مثبت اقدامات حقیقی اور دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔
کے-الیکٹرک کی چیف ڈسٹری بیوشن اینڈ مارکیٹنگ کمیونیکیشنز آفیسر، سعدیہ دادا نے ایوارڈز کی انفرادیت پر بات کرتے ہوئے کہا: "جب ہم نے اس سفر کا آغاز کیا تو ہمارا مقصد کارپوریٹ سماجی خدمات میں شفافیت اور مساوات لانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہ ایوارڈز متعارف کرائے تاکہ ادارے اپنے کام کے لیے درخواست دے سکیں اور ان کی خدمات کو تسلیم کیا جا سکے۔ اس سال 166 تنظیموں نے قدم آگے بڑھایا تاکہ کراچی میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔ خاص طور پر، میں ان میں خواتین کی قیادت میں چلنے والی تنظیمیں بہت متحرک ہیں جو ثبوت ہے کہ خواتین اس شعبے میں حقیقی تبدیلی لا رہی ہیں۔”

ایوارڈز کی تقریب میں کئی معروف اداروں کو کراچی اور اس کے عوام کی خدمت میں ان کی انتھک محنت کے اعتراف میں نوازا گیا۔ ان میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ، خاردار جنرل اسپتال، اور نمایاں رہے، جنہوں نے مختلف شعبوں میں دو دو ایوارڈز اپنے نام کیے۔ اس کے علاوہ معزز ادارے جیسے HANDS، انڈس اسپتال، LRBT، اور بیت السکون بھی کامیاب اداروں میں شامل رہے۔
اس سال پہلی بار 10 نئے اداروں کو بھی ایوارڈز سے نوازا گیا، جن میں دربین، ڈریم فاؤنڈیشن ٹرسٹ، تحریکِ نسواں، چارٹر فار کمپیشن، الفت ویلفیئر آرگنائزیشن، دعاء فاؤنڈیشن، ٹرانسپیرنٹ ہینڈز، شائن ہیومینٹی، مہر دار آرٹ اینڈ پروڈکشن اور خاردار جنرل اسپتال شامل ہیں۔ ان اداروں نے مختلف سماجی شعبوں میں نمایاں اثرات مرتب کیے اور کراچی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

بلوچستان کی معروف سماجی تنظیم "وانگ” نے اس سال کے ایوارڈز میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ وانگ اس سے قبل بھی کراچی ایوارڈز حاصل کر چکی ہے۔ تنظیم کو تعلیم، صحت اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وانگ کے ڈائریکٹر پروگرام خلیل رونجھو اور وانگ لیب آف انوویشن کے ڈائریکٹر آفتاب رونجھو نے ایوارڈ وصول کیا۔

خلیل رونجھو نے ایوارڈ وصول کرنے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ ایوارڈ نہ صرف وانگ کے لیے ایک اعزاز ہے بلکہ بلوچستان کی محنتی اور پسماندہ کمیونٹیز کے لیے بھی امید کی ایک کرن ہے۔ ہم اپنی خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ ایوارڈ بلوچستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاکہ ہم روشن مستقبل کی راہیں ہموار کر سکیں اس موقع پر وانگ نے کے الیکٹرک کی منیجمنٹ کا شکریہ ادا کیا ہے

کراچی ایوارڈز 2025 کا بنیادی مقصد ایسے اداروں اور افراد کو سراہنا ہے جو معاشرتی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سال کے ایوارڈز نے سماجی خدمت کے جذبے کو مزید فروغ دیا اور مختلف شعبوں میں سرگرم عمل اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ان کی خدمات کو اجاگر کیا۔

یہ تقریب نہ صرف اداروں کی کاوشوں کو سراہنے کا ذریعہ بنی بلکہ دیگر تنظیموں کے لیے بھی ایک مثال قائم کی کہ وہ بھی سماجی بھلائی کے اس سفر میں شامل ہو کر ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔کراچی ایوارڈز 2025 نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ خدمتِ خلق کا جذبہ ہی کسی معاشرے کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ یہ ایوارڈز نہ صرف ان اداروں اور شخصیات کی کاوشوں کا اعتراف ہیں جو معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم عمل ہیں بلکہ یہ ایک مشعلِ راہ بھی ہیں، جو دوسروں کو بھی اس راستے پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

ایسے مواقع ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی ترقی صرف انفراسٹرکچر یا معیشت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ان لوگوں کی خدمات سے ممکن ہوتی ہے جو خاموشی سے دوسروں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔ وانگ سمیت دیگر اداروں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں بے شمار لوگ اور تنظیمیں اپنے وسائل اور وقت کو معاشرتی بھلائی کے لیے وقف کر رہی ہیں۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ مزید پھیلے گا اور کراچی سمیت پورے ملک میں ایک بہتر اور زیادہ مربوط معاشرہ تشکیل پائے گا جہاں خدمت کا جذبہ سدا روشن رہے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے