اسلام آباد؛( 9 اپریل 2025 ) انصاف تک رسائی کے راستے میں حائل مشکلات اور ان کے حل کے لئے ضروری اقدامات پر مشاورت کے لئے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ( این سی ایچ آر ) یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( یو این ڈی پی ) کے اشتراک سے اسلام آباد میں دو روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس کا موضوع ”وعدے سے عمل تک:
انصاف اور اصلاحات کے لیے ایس ڈی جی 16 کو فروغ دینا“ ہے جس میں سینئر سرکاری حکام، انسانی حقوق کے ماہرین، عدلیہ کے ارکان اور سول سوسائٹی کے نمائندے حصہ لے رہے ہیں۔ کانفرنس کا مقصد پاکستان کے انصاف کے نظام کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کرنا اور اس نظام میں حقوق پر مبنی اصلاحات کی تجاویز دینا ہے۔
کانفرنس میں نظام انصاف سے جڑے تین پہلوؤں پر خاص توجہ دی جائے گی جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے، عدلیہ، اور تعزیری نظام شامل ہے ۔ اس تمام کوشش کا اہم مقصد خصوصاً کمزور طبقات جیسے خواتین، نوعمر افراد اور اقلیتی برادریاں، کیلئے نظام ِ انصاف کو زیادہ مؤثر، جوابدہ اور منصفانہ بنانا ہے۔
یورپی یونین کی سفیر ڈاکٹر رینا کیونکا نے اس اہم مکالمے کے انعقاد پر این سی ایچ آر کو سراہا۔ انہوں نے کہا”آج کے دُور میں دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے کہ قومی انسانی حقوق کے ادارے اپنے کردار کو مکمل طور پر نبھائیں اور انسانی حقوق کے محافظ بن کر سامنے آئیں۔ انسانی حقوق سے ہماری وابستگی کا اصل پیمانہ ہمارے الفاظ نہیں بلکہ ہمارے اقدامات کا اثر ہوتا ہے۔ یورپی یونین انصاف، قانون کی حکمرانی اور تمام پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی کوششوں میں آپ کا پختہ حامی رہے گا۔“
این سی ایچ آر کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے انصاف کے شعبے میں اصلاحات کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”حکومتیں تنہا انصاف نہیں قائم کر سکتیں، سول سوسائٹی تنہا احتساب کو یقینی نہیں بنا سکتی، اور ڈونرز تنہا اداروں میں اصلاحات نہیں لا سکتے۔ لیکن مل کر، ایک حکمتِ عملی کے تحت اشتراک سے، ہم انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کر سکتے ہیں۔“
یہ کانفرنس پاکستان کے انصاف کے نظام میں اصلاحات کے ایجنڈے کو پائیدار ترقی کے ہدف 16، GSP+ اسکیم اور عالمی انسانی حقوق کے بنیادی معاہدوں سے ہم آہنگ کرتی ہے۔ این سی ایچ آر کو "اسٹیٹس اے” ملنے کے بعد، پاکستان نے SDG 16.A.1 کے تحت اپنی ایک اہم بین الاقوامی وابستگی پوری کر لی ہے۔یہ کانفرنس اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے ان خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے جو SDG 16 کے مکمل حصول میں باقی ہیں۔ کانفرنس میں کیس اسٹڈیز اور مباحثہ کے ذریعے شرکاء اہم چیلنجز پر غور کریں گے، جن میں قبل از مقدمہ حراست، قانونی تاخیر، نظامی تعصب، اور پسماندہ ترین طبقات کو انصاف تک رسائی میں درپیش رکاوٹیں شامل ہیں۔
وزیر مملکت برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی، کھئیل داس نے انصاف کے شمولیتی پہلو کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ”حقیقی انصاف صرف جرم یا سزا کی عدم موجودگی نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی وقار کے تحفظ اور تمام شہریوں کے لیے یکساں حقوق کی ضمانت ہے، خواہ ان کا مذہب، نسل یا سماجی پس منظر کچھ بھی ہو۔“
یو این ڈی پی کے ریزیڈنٹ ری پرینٹیٹیو ڈاکٹر سیموئیل رزک نے انصاف کی فراہمی کے لیے نئے اور تخلیقی طریقوں کو اپنانے اور ان کے دائرہ کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ ”ہمیں ڈیجیٹل سلوشنز جیسے کہ ورچوئل عدالتیں، ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ، اور آن لائن قانونی معاونت کی تبدیلی لانے والی صلاحیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔یو این ڈی پی نے خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان میں ورچوئل عدالتیں قائم کرنے میں معاونت فراہم کی، جس سے خیبر پختونخواہ میں صرف اس سال 130 فیصد کیسوں کی سماعت میں اضافہ ہوا۔ یہ تسلسل عوامی مرکوز اصلاحات کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔“
یورپی یونین اور یو این ڈی پی پاکستان کی حمایت سے، "حقوق پاکستان ” II منصوبے کے تحت یہ کانفرنس کل چھ تھیمز ذیلی ورکنگ گروپس کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی، جن سے ٹھوس سفارشات کی پیشکش کی توقع کی جا رہی ہے۔ ان گروپس کا مقصد پولیس کے جوابی میکانزم کو بہتر بنانا، کیسوں کے بیک لاگ کو کم کرنا، قانونی امداد کا دائرہ بڑھانا، قیدیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا اور عدالتوں کو زیادہ رسائی پذیر اور متاثرین مرکوز بنانا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی شخص پیچھے نہ رہ جائے۔