کہتے ہیں، ہر بُری چیز میں کچھ نہ کچھ اچھائی ضرور چھپی ہوتی ہے۔ اب سگریٹ نوشی کو ہی لیجیے.اس قوم کے جوہرِ قابل نے اسے بھی ایک نفع بخش مشغلہ بنا دیا ہے۔ آج کے اس پُرفریب دور میں سگریٹ وہ واحد ساتھی ہے جو بغیر نخرے کے آپ کا ساتھ نبھاتا ہے۔ یہ سلگتا ہے، جھلستا ہے، اور ساتھ ہی آپ کو بھی لے ڈوبتا ہے۔
سگریٹ نوشی کو دخانی عمل یا عملِ تدخین بھی کہا جا سکتا ہے، اور سگریٹ لائٹر کو آلاتِ تدخین۔
دفتر میں کام کرنے کو دل نہ کرے تو بس جیب سے سگریٹ نکالیے، گہرا کش لیجیے، اور یوں ظاہر کیجیے جیسے پورے دفتر کا بوجھ آپ ہی کے ناتواں کاندھوں پر ہے۔ دھواں چھوڑنے سے بندہ اتنا مصروف لگتا ہے جیسے اقوامِ متحدہ کی پریس کانفرنس سے ابھی فارغ ہوا ہو۔ بعض تو کش لگاتے ہوئے ایسے خلا میں گھورتے ہیں جیسے ستاروں کی چالیں پڑھ رہے ہوں۔
آج کے تنہائی زدہ دور میں، جب دوست احباب صرف فیس بک کی "ری ایکشن” تک محدود ہو چکے ہیں، سگریٹ وہ مخلص دوست ہے جو ہر وقت دستیاب ہوتا ہے۔ چاہے بارش ہو یا دھوپ، دفتر ہو یا چھت، سگریٹ ہمیشہ وفاداری سے آپ کے ساتھ سلگتا ہے۔ نہ یہ آپ سے شکوہ کرتا ہے، نہ وقت مانگتا ہے—صرف تھوڑا سا جگر مانگتا ہے، وہ بھی دھواں بن کر ہوا میں اُڑنے کے لیے۔
اور جن لوگوں کو وقت کاٹنے میں دشواری ہوتی ہے، ان کے لیے بھی یہ مشغلہ کسی نعمت سے کم نہیں۔
بقول شاعر:
بس ایک شغل ہے اپنا تو آج کل
سگریٹ کا کش لگا کے، دھواں اس کا دیکھنا
بھوک کم کرنے کا بھی یہ ایک آزمودہ نسخہ ہے۔ اگر آپ ڈائٹنگ میں ناکام ہو چکے ہیں تو سگریٹ نوشی کو آزمائیے۔ چند دنوں میں نہ صرف بھوک کا نام و نشان مٹ جائے گا بلکہ چہرے پر ایک مدقوق سی زردی پھیل جائے گی۔ سن باتھ لیے بغیر ہی آپ دن بدن "ٹین” ہوتے جائیں گے، یہاں تک کہ لوگ کہیں گے:
"He was a good man with laltain.”
ویسے بھی، جب پیٹ خالی ہو اور پھیپھڑے بھرے ہوں تو وزن تو اُڑ ہی جاتا ہے، بندہ نہیں تو کم از کم اُس کی بھوک ضرور۔
یہ دوستوں میں مقبول ہونے کا بھی آزمودہ نسخہ ہے۔ اگر آپ کے پاس سگریٹ ہے تو آپ کے گرد فوراً ایک محفل جم جائے گی۔ ایک کش تم، ایک کش وہ، اور ایک کش دوستی کا۔ "لائٹر ہے کسی کے پاس؟” جیسے جملے وہ سحر رکھتے ہیں کہ اجنبی بھی قریب آ جاتے ہیں—چاہے آپ کسی بھی ملک میں ہوں۔ سگریٹ نوشی نہ صرف دلوں کو ملاتی ہے بلکہ لنگر انداز ہونے کا جواز بھی فراہم کرتی ہے۔
سگریٹ کا اصل لطف تب آتا ہے جب آپ تنہا بیٹھے ہوں، سامنے آسمان ہو یا چھت، اور کانوں میں اسرار کا گانا ہو:
"سگریٹ کو سلگا رکھا ہے، اک پیکٹ منگوا رکھا ہے…”
یہ امتزاج دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیتا ہے۔ بندہ اگر شاعر نہ بھی ہو تو کم از کم دھوئیں میں غزلیں ضرور بنتی ہیں۔
اور جب سگریٹ کا دھواں آہستہ آہستہ فضا میں مرغولے بناتا ہے، رفیع کی آواز میں ساحر لدھیانوی کی یہ غزل وجد طاری کر دیتی ہے:
"میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
ہر فکر کو دھوئیں میں اُڑاتا چلا گیا”
یہ اشعار سگریٹ نوشی کے عاشقوں کی زندگی کا نعرہ بن چکے ہیں—نہ صرف کش میں کیف ہے بلکہ غم میں شاعری بھی ہے۔
سگریٹ نوشی بے سہارا لوگوں کے لیے ایک بہترین سہارا ہے۔ اختر جمال نے کیا خوب کہا ہے:
"جلتی ہوئی سگریٹ بجھائی نہیں میں نے
جینے کے لئے اور سہارا بھی نہیں تھا”
سگریٹ نوشی کرنے والے شخص کے قریب مچھر تک نہیں آتے۔ چاہے وہ کھلی فضا میں بیٹھا ہو یا باغ میں نیم کے نیچے، آس پاس کے مچھر دُور سے ہی سلام کر کے نکل جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات پڑھ رکھی ہوں: "دھوئیں والے بندے کو نہ کاٹو، وہ خود ہی ختم ہو رہا ہے!”
تو صاحبو! اگر آپ نے ابھی تک سگریٹ نوشی شروع نہیں کی تو جلدی کیجیے۔ قریبی سٹور سے سگریٹ اور لائٹر خرید کر لائیے، اور کش لگائیے۔ زندگی تو ویسے بھی عارضی ہے، کیوں نہ اسے دھوئیں میں اُڑا دیا جائے؟
(نوٹ: اگر میرا یہ کالم پڑھ کر کسی نے سگریٹ نوشی شروع کر دی تو اس کا بار مجھ پر ہرگز نہ ہو گا۔ بلکہ یوں کہنا بہتر ہوگا کہ انتظامیہ ذمہ دار نہ ہوگی۔)