مسند ارشاد جب میراث میں آتی ہے تو عقابوں کے نشیمن زاغوں کے تصرف میں چلے جاتے ہیں۔ یہ جب دامادوں کے ہاتھ میں آ جائے تو بات زاغوں سے بہت آگے چلی جاتی ہے۔ ٹیکساس کے موسموں پر قربانت شوم ، کہ اسرائیل کی کوزہ گری میں ، اب ان کے نشانے پر پاکستان بھی آ گیا ہے۔
ہفوات تازہ یہ ہیں کہ پہلے ثابت تو کیجیے کہ اسرائیل غاصب ہے۔ اسرائیل کو تو عالمی قوتوں نے اسی طرح قائم کیا جیسے بہت سارے اسلامی ممالک کو لکیریں کھینچ کر قائم کیا۔ پھر ہاتھ نچا نچا کر فرماتے ہیں کہ اس طرح تو پاکستان کو بھی بعض قوتیں غاصب کہتی ہیں۔
یعنی دامادی دانش یہ کہہ رہی ہے کہ بہت سارے اسلامی ممالک اور پاکستان کا قیام اسی طرح ہوا جیسے اسرائیل کا قیام ہوا۔چنانچہ اس استدلال کی بنیاد پر وہ غیر ضروری طور پر ہاتھ لہرا کررجز پڑھتے ہیں کہ ثابت تو کیجیے کہ اسرائیل غاصب ہے کیونکہ ایسے تو پاکستان کو بھی غاصب کہا جاتا ہے۔
مذہب بنیادی طور پر میرا میدان نہیں ، میں اس میں شاید صف نعلین کا طالب علم بھی نہیں ، اس لیے غامدی مکتب فکر کی مذہبی تحقیقات کے بارے میں ، کوئی رائے دینا میرے لیے ممکن نہیں۔ لیکن قانون اور تاریخ کی دنیا میں ، ان لوگوں کو جب جب بات کرتے دیکھا ، اس کا حاصل مایوسی کی اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اگر کوئی شخص اسرائیل اور پاکستان کے قیام کو ایک جیسا عمل قرار دیتا ہے تو یہ اس کی جہالت کے ابلاغ کے سوا کچھ نہیں۔ اگر وہ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ اسرائیل کو پہلے غاصب تو ثابت کرو کیونکہ یہ الزام تو پاکستان پر بھی لگتا رہتا ہے تو یہ تقابل بتاتا ہے کہ یہ جہالت ہی نہیں ، اس سے کچھ بڑھ کر ہے۔
اسرائیل اور پاکستان کو ایک صف میں کھڑا کر کے اسرائیل کا مقدمہ پیش کرنے کی یہ کوشش شرم ناک اور اذیت ناک تو ہے ہی ، اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہے کہ کیا یہ ذوق کی کثافت ہے یا یہ کوئی نیا فقہی پراجیکٹ ہے کہ اسرائیل کے بارے میں سماج کو ’ ڈی سنسٹائز ‘ کیا جائے ا ور اس عمل میں اگر پاکستا ن پر ہی فرد جرم عائد کرنا پڑے تو گریز نہ کیا جائے؟
حیرت ہوتی ہے اس گروہ کی منزل کیا ہے؟ کس کس چیز کو انہوں نے سینگوں پر نہیں لیا ۔اس دامادی چاند ماری کا تازہ نشان پاکستان ہے۔
اسرائیل کے قیام کو پاکستان کے قیام سے ملانا اور اسرائیل کی حمایت میں مقدمہ کھڑا کرتے ہوئے پاکستان کو غاصب قرار دینے کے ردیف قافیے ملانا ایک ایسی جسارت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جو ایسا سمجھتا ہے اس کے لیے سب سے اچھا مشورہ یہی ہے کہ پہلی فرصت میں کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرے۔
اسرائیل دنیا بھر سے یہودیوں کو ناجائز طور پر فلسطین میں آباد کر کے بنا ، جب کہ پاکستا ن کے لیے دنیا بھر سے صہیونیت کی انداز سے لوگوں کو ہانک کر نہیں لایا گیا۔ یہاں باقاعدہ ریفرنڈم ہوا۔ دھرتی کے بیٹوں سے پوچھا گیا کس کے ساتھ جانا چاہتے ہو ، جنہوں نے پاکستان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا وہ پاکستان کہلائے۔
جس وقت فلسطین میں باہر سے لائے گئے صہیونیوں کے لیے اسرائیل قائم کیا جا رہا تھا اس وقت فلسطین میں ان یہودیوں کے پاس صرف 6 فیصد زمین تھی اور اس میں بھی قریب 4 فی صد زمین وہ تھی عثمانی دور کی ’ ریاستی زمین ‘ تھی جسے انتداب کے زمانے میں صہیونی کمشنر سیموئل رابرٹ نے یہودیوں میں تقسیم کیا ۔ 1947 میں یروشلم میں یہودیوں کے پاس صرف دو فی صد زمین تھی۔ عکا میں ان کی ملکیت میں صرف تین فی صد زمین تھی، الخلیل ، رام اللہ ، بئر السبع اور نابلوس میں وہ ایک فیصد سے بھی کم زمین کے مالک تھے۔غزہ میں ان کے پاس صرف چار فی صد زمین تھی۔ المورد کے مسند نشینوں سے پوچھا جانا چاہیے کیا پاکستان بھی ایسے ہی قائم ہوا تھا؟ کیا پاکستان بنانے والوں کے پاس پاکستان کے علاقوں میں زمین کی ملکیت صرف چھ فی صد تھی؟
کیا پاکستان بنانے کے لیے بھی یورپ وغیرہ سے مسلح جتھے یہاں لائے گئے اور انہوں نے فلسطینیوں کی طرح یہاں مقامی لوگوں کا قتل عام کر کے پاکستان بنا لیا؟
جنرل اسمبلی نے فلسطین میں اسرائیل کے قیام کی قرارداد جس طرح منظور کی ا ور جس طرح مختلف ممالک سے امریکہ نے دھونس اور دبائو سے ووٹ لیے یہ ساری کہانی تو اب ڈی کلاسیفائی ہو چکی ہے۔ کیا پاکستان کے قیام میں بھی ایسا ہوا تھا؟
اسرائیل کا قیام تو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی تھی ۔ اس پر خود قوام متحدہ کی سب کمیٹی نے واضح موقف دیا اور اسے غیر قانونی قرار دیا۔ یہودیوں کی جبری آبادکاری بھی مسلمہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی۔ امریکی دبائو پر ایک غلط فیصلہ لے لیا گیا۔ اس واردات کو قیام پاکستان سے کیسے ملایا جا سکتا ہے؟
ایک اور عجب تماشا ہے ، جب ان کی واردات اور طریقہ واردات عیاں ہوتا ہے ا ور اس پر تنقید ہوتی ہے تو یہ اخلاقیات کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یعنی یہ خود تو مسلمانوں کی ہر حساسیت کو پامال کریں لیکن ان کے خود ساختہ بتوں پر کوئی پتھر کہیں سے آئے تو وہ بد اخلاقی۔
یہ خود تو اسرائیل کی محبت میں ایسے مجنوں ہو جائیں کہ پاکستان ہی پر پل پڑیں تو گوارا ہے لیکن کوئی ان کی اس حرکت پر تنقید کر دے تو اسے جذباتی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔
اسرائیل کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے داماد جی کہتے ہیں کہ پہلے ثابت تو کرو کہ اسرائیل غاصب ہے کیونکہ ایسے تو طالبان پاکستان کو بھی ڈیورنڈ لائن کے معاملے میں غاصب کہتے ہیں ۔ یہ موقف بھی جہالت اورر بد دیانتی کے سوا کچھ نہیں۔
اسرائیل کا غاصب ہونا محض الزام یا کسی ایک فریق کی رائے نہیں، امر واقع ہے۔ خود اقوام متحدہ اسرائیل کو قابض اور غاصب قرار دے چکی ہے۔ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی اتنی زیادہ قراردادیں ہیں کہ ایک کالم میں ان کا ذکر ممکن ہی نہیں ، یہ کئی کتابوں کا موضوع ہے۔ کیا اقوام متحدہ کی کوئی ایک قرارداد بھی ایسی ہے جس نے پاکستان کو وہ طعنہ دیا ہے جو داماد جی دے رہے ہیں۔
ایک الزام اور ایک امر واقعہ کوبرابر کھڑا کرنے کے لیے انتہائی درجے کی بد دیانتی درکار ہوتی ہے۔
انٹر نیشنل لا کی مسلمہ پوزیشن ہے کہ اسرائیل قابض اور غاصب ہے۔ سلامتی کونسل نے اپنی دو قراردادوں میں فلسطینیوں کو اس قابض اور غاصب اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت کا حق دے رکھا ہے۔کیا پاکستان کا معاملہ بھی ایسا ہے کہ داماد جی اسرائیل کا مقدمہ لڑتے ہوئے پاکستان پر بھی غاصب ہونے کی گرہ لگا دیں؟
عطار کا لونڈا بلاشبہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کی جہالت کو کالم کا موضوع بنایا جائے، لیکن یہ بات کرنا اس لیے ضروری ہے کہ عطار کی دکان اور اس کے برانڈ ایمبسڈرز کی ہنر کاری سے لوگ ہشیار رہیں۔