بھیس جوگ والا تے بات راٹھ والی

(آج آپ کے ساتھ ایک پرانا کالم شیئر کرتے ہیں جو ہم نے نومبر 2012 میں اُس وقت کے وزیرِ داخلہ کی شدید محبت میں لکھا تھا)

کہنے والے کہتے ہیں اور بتانے والے بتاتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی ساڑھے تین ہزار سال پہلے بالکل اِسی جگہ پر ایک بڑی سلطنت ہوا کرتی تھی جہاں آج کل پاکستان ہے۔ اس سلطنت کے بادشاہ کا نام آر۔ملک تھا۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ بادشاہ بہت حسین و جمیل اور وجیہ تھا، خصوصاً اس کے بال بہت اسٹائلش اور اوپر کی جانب اُڑتے ہوئے گھنگریالے تھے۔ اور اُس وقت کے تمام بادشاہوں میں سب سے عقلمند۔ ہر مسئلے کا ایسا ایسا حل نکالتا تھا کہ لوگ عش عش کر اُٹھتے تھے اور کئی دن تک کرتے رہتے تھے۔

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ اس کی سلطنت میں چوریاں زیادہ ہونے لگیں۔ لوگ صبح اُٹھتے تو گھر کا قیمتی سامان غائب ہوتا۔ لوگوں نے تمام جتن کر لیے، راتوں کو پہرے دیئے، گھروں کو چائنا کے تالے لگائے (چائنا اُس وقت بھی تالے بہت اچھے بناتا تھا) لیکن قیمتی سامان پھر بھی چوری ہو جاتا۔ آخر تنگ آ کر لوگ اپنی پریشانی لے کر بادشاہ کے پاس پہنچے۔

بادشاہ اس وقت اپنے گھنگریالے بالوں میں کنگھی کر رہا تھا۔ جب وہ کنگھی کر کے فارغ ہوا تو لوگوں نے اپنا مدعا پیش کیا۔ ساری بات سن کر بادشاہ مسکرایا اور بولا، "بہت آسان حل ہے، میں ابھی آپ کی یہ پریشانی حل کیے دیتا ہوں۔” ساتھ ہی اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ "جاؤ، سب کے گھروں سے قیمتی سامان سمیٹ کر میرے محل میں لے آؤ۔”

ظاہر ہے سامان ہی نہیں رہا، سو چوریاں بند ہو گئیں، اور لوگ اس ذہانت سے بھرپور حل پر کئی دن تک عش عش کرتے رہے۔

اس کے باوجود بادشاہ کو یہ پریشانی تھی کہ اس کے اپنے ملک والے اسے وہ قدر و منزلت نہیں دیتے تھے جس کا وہ حقدار تھا۔ جب وہ اپنی ناقدری پر بہت دکھی ہوتا تو اپنے مُرشد کے پاس چلا جاتا تھا، جو ایک بہت بڑے غار میں رہتے تھے اور باہر کبھی نہیں نکلتے تھے۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ و جغرافیہ اس زمینی غار کا محلِ وقوع بالکل وہی بتاتے ہیں جہاں اِس وقت اسلام آباد میں پریزیڈنسی واقع ہے۔ بادشاہ آر۔ملک مرشد سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ۔۔۔ خیر، ایک مرتبہ جب بادشاہ مرشد کے پاس جا کر حسبِ معمول لوگوں میں اپنی ناقدری کا رونا رویا، تو مرشد نے کہا:

"اگر تو اتنا ہی دُکھی ہے تو یاد رکھ، جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔”

پھر انہوں نے اس کے گھنگریالے بالوں میں اپنا ہاتھ پھیرا اور فرمایا:

"اگر تجھے مقامِ اعلیٰ چاہئے تو کھال چکنی رکھ۔”

"اس کا کیا مطلب ہوا یا مرشد؟”

مرشد نے جواب دیا:

"کوشش ابھی سے شروع کر، اس کا فائدہ تجھے کچھ ہزار سال بعد ہوگا، جب انہیں لوگوں کی ایک نسل پر تُو وزیرِ داخلہ مقرر ہوگا۔”

"لیکن مرشد، میں تو بادشاہ ہوں، وزیر بن کر میں ڈی گریڈ نہیں ہو جاؤں گا؟”

"اوئے، تُو کب کھپے گا اور کب سمجھے گا؟ اُس وقت کا وزیر آج کل کے بادشاہوں سے بھی زیادہ طاقتور اور بااختیار ہوگا!” مرشد چڑچڑے ہو کر بولے۔

"لیکن مرشد، بادشاہ کون ہوگا؟”

"وہ تو میں خود ہی ہوں گا۔۔۔” مرشد نے ماتھے پر آئی لٹیں جھٹکے سے پیچھے کیں اور مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا، "لیکن تب بادشاہ کو صدر پکارا جائے گا، نہ کہ بادشاہ۔”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے