انسان کو اپنی زندگی میں بعض ایسے سوالات کا سامنا ہے جن کے درست جوابات کا وہ ہمیشہ سے متمنی رہا ہے۔ یہ سوالات انسان کے لیے اس لیے اہم ہیں کیونکہ ان کا اس کی زندگی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ چنانچہ انسان انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر انسانی دماغ ہمیشہ ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں رہا ہے۔
ان ہی سوالات میں سے ایک اہم سوال "تقدیر” کا ہے۔ انسان ہمیشہ سے یہ جاننے کا خواہاں رہا ہے کہ آیا وہ اس دنیا میں مجبورِ محض ہے یا اسے ہر شے پر اختیار حاصل ہے۔ ان سوالات کے مختلف جوابات کی بنیاد پر انسانوں میں بڑے بڑے فرقے وجود میں آئے۔ کسی نے انسان کو مجبورِ محض قرار دیا تو کسی نے اسے قادرِ مطلق ٹھہرایا۔ لیکن ان مسالک کو اختیار کرنے کے باوجود انسان ان سوالوں کے حوالے سے اپنے ضمیر کو مطمئن نہ کر سکا کیونکہ جب وہ عملی زندگی سے ان نظریات کا تقابل کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اپنائے ہوئے مسلک اور عملی زندگی کے تجربات میں کوئی مطابقت نہیں ہے۔
انسان نے تقدیر کے متعلق جو جوابات دیے، ان کی وجہ سے مزید پیچیدہ سوالات نے جنم لیا۔ مثلاً اگر انسان مجبورِ محض ہے تو پھر اسے اعمال کا ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ دنیا میں جیلوں اور سزاؤں کا پھر کیا جواز رہ جاتا ہے؟ اس نظریے کے مطابق دنیا میں پائے جانے والے "ثواب و عذاب” کا تصور بے معنی ہو جاتا ہے۔ موت کے بعد ہمیں خالقِ کائنات کے سامنے جواب دہ کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ کیونکہ عقلی لحاظ سے سزا و جزا کا تعین اختیار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، عدمِ اختیار کی صورت میں تو جزا و سزا کا کوئی منطقی جواز ہی باقی نہیں رہتا۔
اسی طرح اگر ہم دوسرے طرزِ فکر کا جائزہ لیں، جس کے مطابق انسان ہر چیز پر قادر ہے، تو یہ بھی عقل کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اگر انسان کو ہر چیز پر اختیار حاصل ہے تو وہ بیمار کیوں ہوتا ہے؟ مرتا کیوں ہے؟ اس کے ہاتھوں سے بعض اوقات ایسے کام کیوں سرزد ہو جاتے ہیں جو اس کی مرضی کے خلاف ہوتے ہیں؟ کیا اختیار ہوتے ہوئے بھی کوئی شخص بیمار ہونا یا مرنا چاہے گا؟ عقل کہتی ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اپنی مرضی سے بیمار یا ہلاک ہونا چاہے۔
عملی زندگی کے ان حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان دونوں نظریات کی غلطی واضح ہو جاتی ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انسان نے جب بغیر کسی معقول اور مدلل ذریعہ علم کے ایسے سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی تو اس رویے نے اسے مزید الجھنوں میں مبتلا کر دیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا تقدیر کے حوالے سے کوئی ایسا علمی ذخیرہ موجود ہے جو ہماری عملی زندگی سے ہم آہنگ ہو؟ جب ہم اس طرح کی علم کی تلاش کرتے ہیں تو ہمیں اسلام کے سوا کسی اور نظام میں اس مسئلے کا مناسب اور معقول حل نظر نہیں آتا۔ اسلام نے جو راہنمائی دی ہے وہ بالکل ہماری عملی زندگی کے مطابق ہے۔
اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان نہ تو مجبورِ محض ہے اور نہ ہی ہر شے پر قادر۔ یعنی انسان کی زندگی میں بعض امور ایسے ہیں جو اس کے اختیار میں ہیں، اور ان کے کرنے یا نہ کرنے میں وہ آزاد ہے، جبکہ کچھ معاملات ایسے ہیں جن میں وہ بے بس ہے۔ جب ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو انہی تعلیمات کی تصدیق ہوتی ہے۔
جیسے کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى”
"اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے کوشش کی۔”
یہ انسان کے اختیار پر دلالت ہے۔
اسی طرح ایک اور مقام پر آیا ہے:
"ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ”
"خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ان (اعمال) کی وجہ سے جو انسانوں کے ہاتھوں نے کمائے۔”
یہ آیات انسان کے اختیار پر دلالت کرتی ہیں۔
لیکن اسی قرآن میں ہم یہ بھی پڑھتے ہیں:
"يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ”
"اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔”
اور سورۂ انفال میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا:
"لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ”
"اگر آپ زمین کی تمام دولت بھی خرچ کر دیتے تو ان کے دلوں میں محبت پیدا نہ کر سکتے، مگر اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا۔”
ان آیات سے انسان کی بے بسی ظاہر ہوتی ہے۔
اسلامی تعلیمات کے ان دونوں پہلوؤں سے جو نکتہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان نہ تو ہر شے پر قادر ہے اور نہ ہی بالکل بے بس۔ چونکہ اسلام خدائی تعلیمات پر مبنی ہے، اس لیے اس میں کوئی تضاد یا تعارض ممکن نہیں۔ نتیجتاً تقدیر کے حوالے سے اسلامی موقف یہی بنتا ہے کہ انسان محدود اختیار رکھتا ہے — اور یہی چیز ہم اپنی عملی زندگی میں روز دیکھتے ہیں کہ بعض کام ہم اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں اور بعض ہمارے بس سے باہر ہوتے ہیں۔
اس لیے تقدیر کے حوالے سے اگر کوئی فکر یا تعلیم عملی طور پر قابلِ قبول ہو سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہی کی تعلیمات ہیں۔
اب ایک اشکال پیدا ہوتا ہے جب ہم تقدیر سے متعلق اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں تو پھر انسانی ذہن میں اس موضوع کے بارے میں سوالات ختم کیوں نہیں ہوتے؟ اور یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے تقدیر پر زیادہ قیل و قال سے منع فرمایا۔
اس معمّے کو سمجھنے کے لیے ہمیں انسان کی فطرت کا جائزہ لینا ہو گا، اور ایک مثال سے بات واضح کی جا سکتی ہے۔ مثلاً ایک شخص ایک کمرہ بنانا چاہتا ہے اور اپنے دوست سے قرض مانگتا ہے۔ دوست کہتا ہے کہ وہ اتنے پیسے دے گا جتنے اس کام کے لیے ضروری ہیں۔ مگر قرض لینے والا بار بار یہی پوچھتا ہے کہ کتنے پیسے دو گے؟ جب تک اسے digits میں رقم کا اندازہ نہ ہو، وہ مطمئن نہیں ہوتا۔
یہی رویہ انسان نے تقدیر کے بارے میں بھی اپنایا ہے۔ حالانکہ جتنا علم انسان کے لیے ضروری تھا، اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے وہ عطا فرما دیا۔ اس سے زیادہ کسی چیز کو سمجھانا ممکن نہیں، کیونکہ انسان خود اپنی عملی زندگی میں ہر وقت اس کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
انسان اپنی غیر ضروری تجسس (over curiosity) کی وجہ سے تقدیر کے بارے میں متعین شرح فیصد (percentage) جاننا چاہتا ہے کہ وہ کتنے فیصد آزاد ہے اور کتنے فیصد نہیں، حالانکہ اس بارے میں ٹھیک ٹھیک شرح فیصد جاننا ممکن ہی نہیں۔ اسی لیے حضور پاک ﷺ نے تقدیر کے بارے میں بے فائدہ قیل و قال سے منع فرمایا۔
اس ارشاد کا مطلب یہ نہیں کہ تقدیر کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے سوال ہی نہ کیے جائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی فضول بحثوں میں نہ الجھیں جن سے نہ فائدہ حاصل ہو اور نہ حقیقت کا مکمل علم۔ یہ ایک غلط تعبیر ہے کہ اسلام تقدیر کا مدلل جواب نہیں رکھتا، اس لیے سوال سے روکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے اس مسئلے کو نہایت مدلل انداز میں واضح کیا ہے۔
اسلام سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ ایسی غیر ضروری معلومات دے جن کا جاننا ممکن ہی نہیں، نہ صرف احمقانہ طرزِ عمل ہے بلکہ عقلی طور پر بھی ناجائز مطالبہ ہے۔
ویسے تو تقدیر کے حوالے سے جتنے بھی ضروری سوالات ہو سکتے ہیں، اسلام کے اصولی مؤقف سامنے آنے کے بعد وہ سب اسی اصولی مؤقف کے تناظر میں حل ہونے چاہییں۔ مگر موضوع کی نزاکت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان چند سوالات کا ایڈریس کرنا مفید ہوگا جن کے بارے میں زیادہ تر لوگ بار بار سوال کرتے ہیں۔ اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ فلاں کی تقدیر میں اگر قتل، چوری، ڈاکا، ظلم وغیرہ جیسے گناہ اللہ نے پہلے سے لکھ دیے ہیں، تو ان گناہوں پر ان کو سزا کیوں دی جاتی ہے؟
اسی طرح طلبہ کی طرف سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر ہماری تقدیر میں ڈاکٹر یا کمشنر بننا لکھا نہیں گیا، یا پہلے سے طے شدہ ہے، تو ہم محنت کیوں کریں؟
اس قسم کے تمام سوالات کا اگر مجموعہ بنایا جائے اور اسے توحید کے تناظر میں دیکھا جائے، تو ان سارے سوالات کا انسان کو تشفی بخش جواب مل جائے گا۔ دیکھیں! جب ہم خدا کو مانتے ہیں تو صفات کے ساتھ ہی مانتے ہیں، صفات کے بغیر خدا کو ماننا، نہ ماننے کے برابر ہے۔
اب جب ہم خدا کو صفات کے ساتھ مانتے ہیں تو لازمی طور پر خدا کو عادل بھی تسلیم کریں گے۔ اور اللہ کے عدل کی صفت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ انسان کو کسی ایسے عمل پر سزا نہیں دیتا جس کے کرنے یا نہ کرنے میں وہ بے بس ہو۔
اسی طرح خدا اپنے قول کا سچا ہے۔ اس نے جب خود یہ بتایا ہے کہ "میں انسان کو اس کی سعی کا بدلہ دیتا ہوں”، تو انسان کو اس حوالے سے بالکل مطمئن رہنا چاہیے کہ مجھے اپنی محنت کا پھل نہیں ملے گا یا مجھے کسی ایسے کام کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا جس میں میں بے بس ہوں۔
لیکن اس ضمن میں یہ بات ذہن نشین کرنی ہوگی کہ میں سزا کا مستحق ہوں یا نہیں؟، میری کسی سعی و محنت کا کیا بدلہ ملتا ہے اور کس شکل میں ملنا چاہیے؟—یہ سارے حساب و کتاب (calculation) ہم نے خود سے نہیں کرنے، بلکہ یہ کام خدا کا ہے، کیونکہ ہمارے پاس وہ tools ہی نہیں ہیں جو کسی عمل کے exact calculation کے لیے درکار ہوتے ہیں۔
اس لیے ہمارا کام محنت کرنا ہے، اور نیکی کے معیار کے مطابق نیکی کرنا ہے—وہ معیار نیکی کا جو ہمیں خدا اور اس کے رسول نے بتایا ہے۔
ایک مومن کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج کے حصول کے لیے بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ بھرپور محنت کرے، پھر اللہ پر بھروسہ کر کے نتائج کو اسی کے سپرد کر دے۔ وہ بڑا قدردان ہے، اور اپنے بندوں کے ہر ادا سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی نعمتوں کا حقیقی مستحق ہے اور کون محروم کیے جانے کے لائق ہے۔