پاکستان کا آئین، جو کہ 1973 میں نافذ ہوا تھا، ملک کے تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ دستور نہ صرف لوگوں کی آزادی، سلامتی اور وقار کو تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں سماجی انصاف، معاشی مواقع اور سیاسی عمل میں شمولیت کے حقوق بھی عطا کر رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آئین میں درج یہ حقوق عملی طور پر عوام کو حاصل بھی ہیں؟ جواب نہیں تو سوال بنتا ہے کہ کیوں نہیں؟، اس وقت انہی دو سوالات پر ہم اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عوام اپنے بنیادی حقوق سے کیوں محروم ہیں؟
آئین میں درج بنیادی حقوق
پاکستان کے آئین میں مال و جان کے تحفظ کا حق بنیادی حقوق کے تحت دیا گیا ہے۔ یہ حق آئین پاکستان مجریہ 1973 کے دفعہ نمبر 9 میں یوں درج ہے۔
"کسی شخص کو اس کی زندگی یا آزادی سے قانونی طریقہ کار کے بغیر محروم نہیں کیا جائے گا۔”
اس دفعہ کے تحت ہر شہری کو اپنی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کا حق حاصل ہے، اور ریاست اس کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ دفعہ نمبر 24 میں جائیداد کے حقوق کا بھی تحفظ کیا گیا ہے۔ اگر کسی کو ان حقوق کی خلاف ورزی کا سامنا ہو، تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ یہ تو رہا معاملہ مال و جان کے تحفظ کا اس کے علاؤہ بھی کئی بنیادی حقوق شہریوں کو حاصل ہیں آئیے نکات کی صورت میں ملاحظہ کرتے ہیں
1. آرٹیکل 25 کے تحت مساوات کا حق: ہر شہری قانون کی نظر میں برابر ہے اور امتیازی سلوک ممنوع ہے۔
2. آرٹیکل 19 کے تحت آزادیٔ اظہار کا حق: ہر شہری کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔
3. آرٹیکل 20 کے تحت مذہبی آزادی کا حق: ہر فرد کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہے۔
4. آرٹیکل 25-A کے تحت تعلیم کا حق: ریاست 5 سے 16 سال کی عمر تک کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔
5. آرٹیکل 38-D کے تحت صحت کا حق: ریاست شہریوں کے لیے بنیادی صحت کی سہولیات مہیا کرے گی۔
6. آرٹیکل 4، 9، 10-A کے تحت انصاف کا حق: ہر شہری کو قانونی تحفظ اور منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے۔
یہ حقوق کاغذ پر تو بہت شاندار انداز میں درج ہیں، لیکن زمینی حقائق اس سے بہت زیادہ مختلف ہیں۔ مال و جان کو تحفظ حاصل ہے نہ ہی اظہار رائے کی آزادی کو، بہت بڑی ابادی کو تعلیم کا حق حاصل ہے نہ ہی صحت سے متعلق سہولیات کا، کاروبار کو تحفظ میسر ہے نہ ہی انصاف دستیاب ہے۔ بے شمار لوگ نہ صرف اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں بلکہ حقوق سے متعلق بنیادی شعور کا بھی اچھا خاصا فقدان پایا جاتا ہے۔ قوم بے شمار خطرات، صدمات اور نقصانات کے ساتھ رہنے پر مجبور ہے اور اسے ضروری تحفظ اور سلامتی بالکل میسر نہیں۔
پاکستان کی تاریخ سیاسی اتار چڑھاؤ سے بھری پڑی ہے۔ بار بار مارشل لاوں کا نفاذ، اداروں کی نااہلی اور غیر فعالیت، انتخابی عمل کی غیر شفافیت، منتشر سیاسی ماحول، حکومتوں کی غیر مستقل انداز حکمرانی اور طرح طرح کی بدعنوانی نے عوامی حقوق کی فراہمی کو غیر یقینی بنایا ہے۔ اداروں کی کمزوری اور پالیسیوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث آئین پر عمل نہیں ہو پا رہا۔
اگرچہ ملک میں آئین انصاف کی ضمانت دیتا ہے، لیکن عدالتی نظام کی سست روی، مقدمات کی لامتناہی دورانیے تک تاخیر اور عام آدمی تک انصاف کی عدم رسائی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ملکی عدالتوں میں لاکھوں (تقریباً 25 لاکھ) مقدمات زیر التوا ہیں، اور غریب شہری انصاف کے حصول سے محروم، یہاں وہاں بھٹک رہے ہیں۔
آئین میں معاشی انصاف کا وعدہ کیا گیا ہے، لیکن ملک میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے غربت کو بہت بڑے پیمانے پر جنم دیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے غریب طبقات تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی حقوق سے محروم رہتے ہیں۔
مذہبی اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کو بھی آئین میں تحفظ حاصل ہے، لیکن عملی طور پر انہیں ہر جگہ امتیازی سلوک، پر تشدد رویوں اور قانونی تحفظ کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔ اقلیتی برادریوں پر مذہبی تعصب، جبکہ خواتین کو گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل و غارتگری اور جنسی ہراسانی جیسے مسائل جا بجا درپیش ہیں۔
آزادیٔ اظہار کو آئین میں تحفظ حاصل ہے، لیکن برسرِ زمین صحافیوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو ہر طرح کے دباؤ کا سامنا ہے۔ وقت بہ وقت اور جا بجا ان کی گرفتاریاں عمل میں آ رہی ہے حتیٰ کہ انہیں قتل کرنے کی وارداتیں بھی بے دھڑک ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال بلاشبہ بنیادی انسانی حقوق کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ سوشل میڈیا پر سنسرشپ جاری ہے، مہینوں ایکس (سابقہ ٹویٹر) بند رہتا ہے اور مختلف میڈیا ہاؤسز پر غیر رسمی پابندیاں لاگو ہیں۔ یہ صورت حال عوامی آگہی کو بھی زیادہ سے زیادہ محدود کر رہی ہے۔
آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت ریاست مفت اور لازمی تعلیم کا وعدہ کرتی ہے، لیکن ملک میں اسکولوں کی کمی، معیارِ تعلیم کی حد درجہ پستی اور بچوں کے اسکول چھوڑنے کی بلند شرح اس وعدے کو پورا نہیں ہونے دیتی۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر اور تعلیم جیسے اہم ترین حق سے محروم ہیں۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی لاکھوں لوگوں کو نجی ہسپتالوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے۔ صحت سے متعلق سرکاری ڈھانچے اور عوامی ضروریات کے درمیان کوئی جوڑ نہیں۔ جعلی ڈاکٹروں، جعلی ادویات اور جعلی میڈیکل ٹیسٹوں کی بھرمار نے عوام کو ہر طرح سے بے بس کر کے رکھ دیا ہے۔
اصلاح احوال کیسے ہو؟
1. آئین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کو اپنے فرائض احسن طریقے سے نبھانے چاہئیں۔
2. عدالتی نظام کی اصلاح کی جائے تاکہ عام شہریوں کو سستا اور فوری انصاف مل سکے۔
3. تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور نجی شعبے پر انحصار کم سے کم کیا جائے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے ملک کے بڑے کاروبار بن چکی ہیں اور ان میں سب کچھ ہے لیکن تعلیم اور صحت نہیں۔
4. اقلیتوں اور خواتین کے خلاف امتیازی قوانین کو ختم کر کے انہیں مکمل تحفظ اور اعتماد دیا جائے۔ اقلیتی برادریاں زمانوں سے اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان کا مسلسل خوف، عدم تحفظ اور تشویش میں رہنا ایک مسلمان معاشرے کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ ہمیں اپنا مزاج اور نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔
5. میڈیا کی آزادی کو یقینی بنایا جائے اور صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی روک تھام کی جائے۔ ہم میڈیا کی آزادی کے نام پر شور تو بہت کریں لیکن اس کو یقینی بنانے پر توجہ کوئی نہ دیں تو یہ بہت بڑی منافقت سمجھی جائے گی۔ چودہ سال قبل ہم نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں اپنے شعبے کے زیر اہتمام ایک تقریب میں نامور صحافی حامد میر کو مدعو کیا تھا انہوں نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ "پاکستان میں میڈیا کو دو فیصد آزادی بھی حاصل نہیں، یہ محض غلط فہمی ہے کہ پاکستان میں میڈیا آزاد اور مضبوط ہے”۔
کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان کا آئین ایک ترقی یافتہ، فلاحی اور انصاف پر مبنی معاشرے کا خواب تو دکھاتا ہے، لیکن واقعتاً اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے سے قاصر ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے حکومت، اداروں اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ جب تک قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی، شفافیت نہیں ہوگی، احتساب نہیں ہوگا، جواب دہی نہیں ہوگی، بدعنوانی اور غیر ذمہ داری ختم نہیں ہوگی اور مجموعی طور پر تمام ادارے مضبوط نہیں ہوں گے، تب تک آئین کے وعدے محض کاغذی کارروائی ہی رہیں گے اور یہ کبھی برسر زمین حقیقت نہیں بن سکیں گے۔ عوام کو اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے اور حکمرانوں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ صرف اسی صورت پاکستان ایک حقیقی جمہوری اور فلاحی ریاست بن سکتا ہے۔ عوام اور ریاست کے درمیان حقوق و فرائض کا تعلق ایک انتہائی نازک اور بنیادی نوعیت کا رشتہ ہے جو معاشرے کے استحکام، ترقی اور انصاف کی بنیاد تشکیل دیتا ہے۔ اس تعلق کی خیر خواہانہ اور منصفانہ کیفیت کا حصول ایک مثالی معاشرے کی پہچان ہے، لیکن حقیقت میں اس کا عملی مظاہرہ اکثر و بیشتر چیلنجز سے بھرپور ہوتا ہے۔
ریاست کا بنیادی فریضہ عوام کے بنیادی حقوق (جیسا کہ تعلیم، صحت، تحفظ، روزگار اور انصاف) کو یقینی بنانا ہے۔ دوسری طرف، عوام کا فرض ہے کہ وہ قوانین کا احترام کریں، ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں، اور اجتماعی بھلائی کے لیے اپنا ہر ممکن کردار ادا کریں۔ حقیقت میں، یہ توازن تب ہی قائم ہوتا ہے جب ریاست عوامی مفادات کو ترجیح دے اور عوام اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر ادا کریں۔ ریاست اور عوام کے درمیان خیر خواہانہ تعلق کا انحصار باہمی اعتماد پر ہے۔ اگر ریاست عوامی وسائل کو منصفانہ طور پر تقسیم کرے، شفافیت اور جوابدہی کو اپنائے، تو عوام میں اس کے لیے مطلوبہ وفاداری پیدا ہوتی ہے۔ حقیقتاً، جب ادارے کرپشن، اقربا پروری، یا استحصال کا شکار ہوں، تو رفتہ رفتہ یہ اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ منصفانہ تعلق کا تقاضا ہے کہ ریاست ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھے، خواہ وہ کسی بھی مذہب، علاقے، نسل، یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔ حقیقت میں طبقاتی تفریق، اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، یا طاقتور عناصر کے لیے قوانین میں خصوصی نرمی اس توازن کو خراب کر دیتی ہے۔
عوام کا فرض ہے کہ وہ ریاست کے قوانین کا بہر صورت احترام کریں، ٹیکس ادا کریں اور قومی مفاد میں اپنی اجتماعی ذمہ داری کما حقہ محسوس کریں۔ لیکن، اگر ریاست عوام کی بنیادی ضروریات پوری نہ کرے، تو لوگوں میں فرائض سے بیزاری پیدا ہوگی۔ مثال کے طور پر، اگر حکومت تعلیم یا روزگار کے مواقع نہ دے، تو عوام میں بغاوت یا عدم تعاون کی کیفیت جنم لے سکتی ہے۔ اس طرح اگر ملک کے مختلف حصوں میں مبہم آپریشنز، مبہم کاروائیوں، مبہم ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ ریاست سے قوم کا رشتہ کمزور کرنے کا باعث بنے گا۔ اس طرح خیر خواہانہ تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ ریاست عوام کی آواز سنے اور انہیں درپیش مسائل کے حل کے لیے معتبر مشاورتی طریقہ کار اپنائے۔ یاد رکھیں آمرانہ رویے، میڈیا کی آزادی پر پابندیاں، یا عوامی احتجاج کو دبانے کی کوششیں قوم اور ریاست کے رشتے کو خراب کر رہی ہیں۔ جن معاشروں میں ریاست اور عوام کا تعلق تاریخی طور پر استحصالی رہا ہے (جیسا کہ نوآبادیاتی دور میں ہوا تھا)، تو اس وجہ سے عوام میں شک کا عنصر پایا جاتا ہے، ایسے معاشروں میں پھر اعتماد کی بحالی کے لیے ریاست کو اضافی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس عمل میں بخیلی سے قطعاً کام نہیں لینا چائیے۔