ہمارے ہاں اگر کوئی وزیر اپنے دفتر میں اخبار سے ایک مکھی مار دے تو یہ پریس ریلیز جاری ہو جاتی ہے:
"وزیر موصوف نے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف عملی اقدام اُٹھا لیا!”
رابعہ نور نے آذربائیجان کے شہر باکو میں کک باکسنگ ورلڈ چیمپئن شپ جیت کر گولڈ میڈل اپنے گلے میں ڈالا، تو میرے کانوں میں کہیں دور ایک صدائے بازگشت سنائی دی:
"یہ ہے شہباز شریف صاحب کا ویژن!”
"سر، یہ آپ کا ویژن ہے!”
رابعہ نور نے ہمت، مہارت اور محنت کے بل پر دنیا کے سامنے پاکستان کا پرچم سربلند کیا، لیکن افسوس کہ اس بار کسی نے شہباز شریف صاحب کو بتایا ھی نہیں کہ: سر، یہ آپ کا ویژن ہے۔
ایئرپورٹ پر کیا سماں تھا؟ نہ کوئی وفاقی وزیر، نہ کوئی مشیر، حتیٰ کہ کوئی چھوٹا موٹا چیئرمین بھی نہیں۔ کوئی پروٹوکول نہیں، کوئی بینر نہیں، کوئی سرکاری اعلان نہیں۔ بس خاموشی تھی اور ایک سنہری تمغہ، جو اس بچی نے دنیا کے سامنے اپنے ملک کے نام کیا۔ صرف اس کے گھر والے موجود تھے، کیونکہ اس مرتبہ شہباز شریف صاحب کو بتایا ہی نہیں گیا کہ: سر، یہ آپ کا ویژن ہے۔
حکومت کہاں تھی؟ شہباز شریف صاحب، جو لاہور کی سڑکوں پر لیپ ٹاپ لیے نوجوانوں کے درمیان سائیکل دوڑایا کرتے تھے، بے قصور ہیں کیونکہ کسی نے انہیں اطلاع ہی نہیں دی کہ ان کا ویژن اب باکو تک پہنچ چکا ہے۔ اگر کسی نے وزیراعظم کو بتایا ہوتا کہ ان کے ویژن نے ایک کک باکسر کو گولڈ میڈل دلوا دیا ہے، تو وہ شاید اپنے آپ کو مبارکباد دینے میں اتنے مصروف ہو جاتے کہ رابعہ کا نام بھی بھول جاتے۔ لیکن رابعہ نور کو سرکاری سطح پر پذیرائی تو مل جاتی۔
اگر رابعہ نور کسی پارٹی ورکر کی بیٹی ہوتی، یا کسی ایم این اے کے کزن کی بہن کی بیٹی کی ہمسائی، تو کم از کم ایک لوکل کونسلر ضرور آتا، اور دو تصویریں فیس بک پر ڈال کر کیپشن دیتا:
"قوم کی بیٹی کا شاندار استقبال، خراجِ تحسین۔”
لیکن رابعہ تو بلدیہ ٹاؤن کی ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ بلدیہ والے صرف الیکشن کے دن اہم ہوتے ہیں، باقی دنوں میں وہ بس "دھند سے باہر” ہوتے ہیں۔
رابعہ نور کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت بھی ہے، ہمت بھی، اور ملک سے محبت بھی۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی ان کی پیٹھ تھپتھپائے۔ لیکن یہاں تو ہاتھ بھی پیٹھ پر تب ہی رکھا جاتا ہے جب ووٹ مانگنا ہو یاپھر "ٹھوکنا” ہو۔
ویژن کی لسٹیں بنانے والو!
اگلی بار جب آپ "ویژن” کی لسٹ بنائیں، تو رابعہ نور کا نام ضرور شامل کریں۔ اس نوجوان لڑکی نے ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے ملک میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، بس انہیں پہچاننے اور سپورٹ کرنے کی دیر ہے۔ کھلاڑیوں کے ساتھ ایسا سلوک مت روا رکھیں کہ ان کے اندر مایوسی، بے یقینی اور ناامیدی جنم لے۔ اگر ہم اپنی آنے والی نسل کی قابلیت اور حوصلے کو سراہیں گے، تو یہی لوگ وہ ہوں گے جو ملک کا نام روشن کریں گے۔ ورنہ آج کی خاموشی اور بے توجہی کل کے بڑے خوابوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔ لہٰذا آئندہ ویژن کی فہرستوں میں ایسے باصلاحیت نوجوانوں کو جگہ دیں جو محنت اور جذبے سے ملک کا پرچم بلند کرتے ہیں، کیونکہ یہی ہمارا اصل اثاثہ اور مستقبل ہیں۔
اور ائندہ اس قسم کی شرمندگی سے محفوظ رہنے کے لیے شہباز شریف صاحب کو ایک بندہ نئے سرے سے بھرتی کرنا چاہیے جو صرف ان کو یہ بتاتا رہے کہ اس وقت ان کا ویژن کہاں کہاں پر کار فرما ہے.