اگر پاکستان میں کاروں کے ٹریفک حادثات کا ریکارڈ چیک کیا جائے تو پتا چلے گا کہ ننانوے فیصد کاریں تقریباً نئے ماڈلز کی تھیں، خاص طور پر شمالی علاقہ جات میں جتنے بھی حادثات ہوئے ہیں وہ اچھی کنڈیشن والی کاروں کے تھے۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ لوگ 82 کرولا یا 87 سوک لے کر سیاحت پر نکل پڑیں۔ مزید یہ کہ جتنے بھی حادثات ہوئے، ان میں کاروں میں مکینیکل فالٹ نہیں پایا گیا۔ بابوسر ٹاپ سائیڈ پر بریک فیل ہونے کی شکایت ہے لیکن اس کی وجہ بریک کا مسلسل استعمال ہے، جس کی وجہ سے بریک کام کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
اگر ہم راولپنڈی سے شمال کی طرف حادثات کی وجہ دیکھیں تو اس میں سب سے زیادہ قصور ڈرائیور کا ملتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مری، نتھیا گلی وغیرہ جہاں سیاحوں کے جانے کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور مشکل پہاڑی سڑکیں ہیں، وہاں حادثات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے (ہاں، برفباری کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئی تھیں لیکن وہ ٹریفک حادثہ نہیں کہا جا سکتا)۔ پھر شمالی علاقہ جات میں اتنے حادثات کیوں ہوتے ہیں؟ اس کی واحد وجہ ڈرائیوروں کی غفلت اور لاپرواہی ہے۔ ابھی تک جتنی کاروں کے حادثات کی کار کے اندر سے بنائی گئی ویڈیوز دیکھی ہیں، ان میں ہمیشہ ڈرائیور ہی قصور وار نکلا ہے۔
سرگودھا سے لاہور موٹر وے پر جاتے ہوئے پانچ جوان حادثے کا شکار ہوئے، پانچوں کی وفات ہو گئی۔ کار کے اندر ایک بندہ ویڈیو بنا رہا تھا، جس میں صاف نظر آ رہا تھا کہ انہوں نے ڈرائیور کو ہلاشیری دے کر ایک کار سے مقابلے پر اکسایا۔ اچانک اگلی کار کی سائیڈ لگی اور یہ سڑک سے نیچے گڑھے میں جا گرے۔
میرا وادی سون کی سڑکوں پر گاڑی چلانے کا تجربہ زیادہ ہے۔ اس میں ایک تو پہاڑ پر چڑھائی والی زِگ زیگ اسٹائل کی سڑک ہے، اس کے بعد ہموار علاقہ آ جاتا ہے، دونوں طرف کھیت ہیں، خوبصورت نظارے ہیں، آبادی کم ہے۔ سڑک بہترین کارپٹ ہے۔ نظارے دیکھتے ہوئے، ساتھ بیٹھے لوگوں سے گپ شپ لگاتے ہوئے، کار کی اسپیڈ خود بخود ہی تیز ہوتی چلی جاتی ہے۔ مگر اس سارے منظر میں ایک خرابی ہے، ہموار علاقے میں بنائی گئی اس سڑک پر کہیں کہیں curve ہیں یا یوں کہہ لیں کہ سڑک بل کھاتی رہتی ہے۔ بظاہر یہ چیز اہم نہیں ہے، لیکن جب آپ زیادہ رفتار سے اس جگہ پر پہنچتے ہیں تو پھر معاملہ تھوڑا سا آؤٹ آف کنٹرول ہو جاتا ہے۔ اب یہ آپ کی مہارت پر ہے کہ آپ اس بل کھاتی ہوئی جگہ سے کیسے بچ نکلتے ہیں، لیکن تھوڑا آگے پھر اسی طرح کا بل آتا ہے۔ ہر بندہ ہمیشہ اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا کہ ہمیشہ بچتا جائے۔
اگر آپ ناران سے آگے بابوسر ٹاپ کی طرف جائیں، وہاں بھی راستہ تقریباً ہموار ہے، بل کھاتی ہوئی خوبصورت موٹروے نما سڑک ہے اور اسی جگہ پر حادثات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں، ہمارے ڈرائیوروں کو اس جانب توجہ دینی چاہئے، پہاڑی علاقے اور عام میدانی علاقے میں ڈرائیونگ کا فرق سمجھنا چاہئے۔
لیز پر گاڑیوں کا جلدی مل جانا، آن لائن کام کرنے والوں کی ڈالروں میں آنے والی آمدن، نجی شعبے میں تنخواہوں کا معیار بہتر ہونا، رشوت کا عام ہونا،ان وجوہات کی وجہ سے نئی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ گاڑیاں خریدنے والے کبھی نہ کبھی شمال کی سیر کو ضرور نکل پڑتے ہیں۔ نئی نئی گاڑی خرید تو لی ہے لیکن نہ چلانے کا تجربہ ہے، نہ کوئی "سوفک سینس” ہے، بس اندھا دھند گاڑی بھگانے کا شوق ہے۔
کچھ دن پہلے واہ کینٹ سے سسر کی سوزوکی آلٹو پر سات لوگوں کو لے جانے والا آٹھواں مسافر سب کو لے مرا۔ اور اب گجرات کے نوجوان حادثے کا شکار ہوئے۔ کئی دیگر چھوٹے موٹے حادثات کی تصاویر تو فیس بک پر آئی ہیں، مگر چونکہ جانی نقصان نہیں ہوا، اس لئے یہ حادثات زیادہ ہائی لائٹ نہیں ہوئے۔
ضروری تو یہی ہے کہ مستقبل کے المیوں سے بچنے کے لیے کچھ سخت فیصلے کیے جائیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پولیس وین کا گشت زیادہ ہونا چاہئے، جو مقررہ حدِ رفتار کراس کرنے والے ڈرائیوروں کو بھاری جرمانے کرے اور انہیں ایک آدھ رات تھانے میں رکھے تاکہ ان کے ہوش ٹھکانے آ جائیں۔ جب تک لاپروا ڈرائیوروں پر سختی نہیں کی جائے گی، یہ حادثات کم ہوتے نظر نہیں آتے۔