معلوم نہیں کاشف کے والدین کاشف کی خاموشی کو نفرت کا نام کیوں دیتے تھے حالانکہ خاموشی کو نفرت کے علاوہ کئی دوسرے نام بھی دیے جا سکتے ہیں۔ وہ کم گو ضرور تھا مگرہمیشہ سے یوں خاموش نہیں رہتا تھا۔اب ایک طویل عرصے سے اسے چھپ لگ گئی تھی اور اس ماں باپ کو ایک عجیب وہم نے جکڑ رکھا تھا۔ وہ دنیا کے ہر منظر کے لیے محض ایک تماشائی بن چکا تھا۔
ایک دن کاشف کو گاؤں کی قریب پرانے کھنڈر میں ایک آئینہ ملا ۔وہ اسی آئینہ کواٹھا کر گھر روانہ ہوا تو راستے ہی میں اسے یہ محسوس ہوا کہ یہ آئینہ دوسرے آئینوں سے مختلف ہے اس آئینے میں کاشف کو دوسرے لوگوں کے مستقبل کی کامیابی اور ناکامی نظر آتی تھی۔اس عجیب و غریب ائینے کی خبر علاقے میں پھیلی تو گاؤں کا ہرشخص اپنا مستقبل دیکھنے کے لیے کاشف کے پاس آنے لگا .اب کاشف اور کاشف کا آئینہ گاؤں کی پہچان بن چکا تھا اس لیے تو گاؤں سے باہر کے لوگ بھی اپنا مسقبل معلوم کرنے کی خاطر قطار میں کھڑے نظر آتے تھے ۔
کاشف کی خاموشی کا مسئلہ تو ختم ہوگیا تھا مگر اب کاشف کے والدین اس بات سے پریشان تھے کہ اس آئینہ میں کاشف کا مسقبل نظر نہیں آتا تھا۔ کاشف نے بارہا کوشش کی تھی۔ وہ آئینے کوکبھی اوپر کرکے دیکھتےتو کبھی الٹا کرکے دیکھتا لیکن علاوہ از صورت کچھ بھی نظر نہ آتا تھا۔ ایک طرح سے یہ آئینہ کاشف کے لئے بے کار تھا۔ اب کاشف کامعمول یہ بنا تھا کہ دن میں مخصوص تعداد کے لوگوں کو ان کا مسقبل دیکھاتا تھا۔
ایک دن ایک اجنبی لڑکی اپنا مسقبل معلوم کرنے کاشف کے پاس آئی اور کاشف سے کہنے لگی مجھے میرا مستقبل دکھاؤ۔ کاشف نے اپنے ہاتھوں میں آئینہ پکڑ کر لڑکی کو اس کا مستقبل دکھانا چاہا تو عین اسی وقت اس نے لڑکی کی پراسرار آنکھوں میں کچھ عجیب روشنی دیکھی۔ اسے لڑکی کی آنکھوں میں اپنا مستقبل نظر آنے لگا تھا۔ کاشف نے غیر ارادی طور پر لڑکی سے اس کا نام پوچھا۔ لڑکی نے بتایا کہ اس کا نام آئینہ ہے۔ یہ سنتے ہی ایک عالمِ حیرت میں کاشف کے ہاتھوں سے آئینہ گر کر ٹوٹ گیا۔ کاشف نے جلدی سے آئینہ کا ایک ٹکڑا اٹھایا لیکن آئنہ اب ایک عام آئینہ بن چکا تھا۔اور اس کے ٹوٹنے کا کوئی ملال کاشف کے چہرے پر موجود نہ تھا۔معلوم نہیں کاشف کے والدین کاشف کی خاموشی کو نفرت کا نام کیوں دیتے تھے حالانکہ خاموشی کو نفرت کے علاوہ کئی دوسرے نام بھی دیے جا سکتے ہیں۔
وہ کم گو ضرور تھا مگرہمیشہ سے یوں خاموش نہیں رہتا تھا۔اب ایک طویل عرصے سے اسے چھپ لگ گئی تھی اور اس ماں باپ کو ایک عجیب وہم نے جکڑ رکھا تھا۔ وہ دنیا کے ہر منظر کے لیے محض ایک تماشائی بن چکا تھا۔
ایک دن کاشف کو گاؤں کی قریب پرانے کھنڈر میں ایک آئینہ ملا ۔وہ اسی آئینہ کواٹھا کر گھر روانہ ہوا تو راستے ہی میں اسے یہ محسوس ہوا کہ یہ آئینہ دوسرے آئینوں سے مختلف ہے اس آئینے میں کاشف کو دوسرے لوگوں کے مستقبل کی کامیابی اور ناکامی نظر آتی تھی۔اس عجیب و غریب ائینے کی خبر علاقے میں پھیلی تو گاؤں کا ہرشخص اپنا مستقبل دیکھنے کے لیے کاشف کے پاس آنے لگا .اب کاشف اور کاشف کا آئینہ گاؤں کی پہچان بن چکا تھا اس لیے تو گاؤں سے باہر کے لوگ بھی اپنا مسقبل معلوم کرنے کی خاطر قطار میں کھڑے نظر آتے تھے ۔
کاشف کی خاموشی کا مسئلہ تو ختم ہوگیا تھا مگر اب کاشف کے والدین اس بات سے پریشان تھے کہ اس آئینہ میں کاشف کا مسقبل نظر نہیں آتا تھا۔ کاشف نے بارہا کوشش کی تھی۔ وہ آئینے کوکبھی اوپر کرکے دیکھتےتو کبھی الٹا کرکے دیکھتا لیکن علاوہ از صورت کچھ بھی نظر نہ آتا تھا۔ ایک طرح سے یہ آئینہ کاشف کے لئے بے کار تھا۔ اب کاشف کامعمول یہ بنا تھا کہ دن میں مخصوص تعداد کے لوگوں کو ان کا مسقبل دیکھاتا تھا۔
ایک دن ایک اجنبی لڑکی اپنا مسقبل معلوم کرنے کاشف کے پاس آئی اور کاشف سے کہنے لگی مجھے میرا مستقبل دکھاؤ۔ کاشف نے اپنے ہاتھوں میں آئینہ پکڑ کر لڑکی کو اس کا مستقبل دکھانا چاہا تو عین اسی وقت اس نے لڑکی کی پراسرار آنکھوں میں کچھ عجیب روشنی دیکھی۔ اسے لڑکی کی آنکھوں میں اپنا مستقبل نظر آنے لگا تھا۔ کاشف نے غیر ارادی طور پر لڑکی سے اس کا نام پوچھا۔ لڑکی نے بتایا کہ اس کا نام آئینہ ہے۔
یہ سنتے ہی ایک عالمِ حیرت میں کاشف کے ہاتھوں سے آئینہ گر کر ٹوٹ گیا۔ کاشف نے جلدی سے آئینہ کا ایک ٹکڑا اٹھایا لیکن آئنہ اب ایک عام آئینہ بن چکا تھا۔اور اس کے ٹوٹنے کا کوئی ملال کاشف کے چہرے پر موجود نہ تھا۔