بہت بہت مبارکاں۔
ستے خیراں تے ستے دھمالاں!
بھارت کے خلاف جنگ ہم نے جیت لی۔
بہت بڑی بات ہے۔
ایک دم پاکستان کا تاثر دنیا بھر میں تبدیل ہو گیا۔
اوورسیز پاکستانی جہاں کہیں بھی ہیں، اپنے گردونواح میں رہنے والے لوگوں کے درمیان سر اٹھا کر چلنے لگے۔
خوشیاں بھی منائی گئیں، بھنگڑے بھی ڈالے گئے۔
لیکن اب باقی چیزوں کا کیا ہوگا؟
نوکریاں پہلے بھی ناپید تھیں، جنگ جیتنے کے بعد بھی نظر نہیں آ رہیں۔
بجلی اور گیس کے بل پہلے بھی قابو میں نہیں تھے، اب بھی وہی کیفیت ہے۔
غربت پہلے بھی بہت تھی، آج بھی ویسی کی ویسی ہے۔
ڈگریاں لے کر طلبہ پہلے بھی سڑکوں پر گھوم رہے تھے، اب بھی ہاتھوں میں فائلیں لیے نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔
غربت کی لکیر سے نیچے پہلے بھی ہزاروں لاکھوں زندگیاں بسر ہو رہی تھیں، آج بھی وہیں کھڑی ہیں۔
بجٹ بنانے کے لیے پہلے بھی خزانہ خالی تھا، اب بھی پیسے نہیں۔
آئی ایم ایف کا پیر تسمہ پا پہلے بھی ہماری گردن میں جکڑا ہوا تھا، آج بھی اسی طرح تنگی کا پھندہ بنا ہوا ہے۔
لوگ پہلے بھی پاکستان چھوڑ کر بھاگ رہے تھے، اب بھی ایمبیسی میں لائنیں لگی ہیں۔
تو سوال یہ ہے کہ:
اندرونی معاملات سے کب نمٹا جائے گا؟
یہاں کی فتح کب حاصل ہوگی؟
یہاں کب خوشحالی آئے گی؟
میاں صاحب جب سے سیاست میں آئے ہیں، پاکستان کو پیرس بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
مگر ابھی تک تو پیرس ایک خواب ہی ہے — نہ سڑکوں پر، نہ گلیوں میں، نہ نظام میں، نہ اداروں میں۔
ہماری روزمرہ کی زندگی میں وہی پرانے مسائل ہیں: کھڈے، گندگی، ٹریفک کا ہجوم، اور فکری مفلسی۔
ہمارے ہاں نظام کب درست ہوگا؟
امریکہ، آسٹریلیا یا یورپ کو تو جانے دیجیے،
ملائشیا کے پاسپورٹ پر یورپ میں اینٹری فری ہے، لیکن پھر بھی کوئی ملائشین ملک چھوڑ کر یورپ نہیں جاتا۔
ملائشیا کو بھی چھوڑ دیں،
اگر صرف دبئی کے معیار کا کوئی ٹریفک سسٹم بن جاتا…
اگر دبئی جیسی قانون کی عملداری قائم ہو جاتی…
تو شاید ہم بھی ترقی کی کسی راہ پر چل نکلتے۔
اگر 100 فیصد نہ سہی، 50 فیصد آدمی ایماندار ہو جاتے۔
اگر ہمارے بازاروں میں خالص مال فروخت ہونا شروع ہو جاتا۔
تو یہ بھی کسی بڑی قومی تبدیلی سے کم نہ ہوتا۔
لیکن سوال یہی ہے:
اس سب سے کون لڑے گا؟
اس لڑائی کے لیے کون سپہ سالار بنے گا؟
اس لڑائی کے لیے کون سے طیارے اڑیں گے؟
اس لڑائی کے لیے کون سا اسلحہ و بارود درکار ہوگا؟
یہ وہ جنگ ہے جو سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔
یہ معرکہ میدانِ جنگ میں نہیں، ضمیر کی عدالت میں برپا ہوتا ہے۔
یہ مقابلہ توپ، ٹینک اور میزائل سے نہیں، ارادے، دیانت اور انصاف سے جیتا جاتا ہے۔
یہ لڑائی اس بددیانتی سے ہے جو ہماری ذات، ہمارے اداروں، اور ہمارے فیصلوں میں سرایت کر چکی ہے۔
یہ لڑائی ان ترجیحات سے ہے جو ہمیں اصل مسائل سے دُور لے جاتی ہیں۔
سچ یہی ہے کہ جب تک پاکستان کا عام آدمی ایماندار نہیں ہوگا،
جب تک وہ روزمرہ جھوٹ بولنا بند نہیں کرے گا،
جب تک وہ حرام خوری اور رشوت خوری کو “چالاکی” سمجھتا رہے گا،
جب تک وہ بدکاری کو ترقی اور بے حیائی کو آزادی سمجھتا رہے گا،
تب تک نہ نظام بدلے گا، نہ حالات۔
یہ قوم بیرونی دشمن سے تو شاید ہزار بار جیت سکتی ہے،
لیکن اگر اندر کا انسان نہ بدلا،
تو یہ جیتیں صرف خبروں کی زینت بنیں گی، زمینی حقیقت نہیں۔
قومیں توپ سے نہیں، تول سے بگڑتی ہیں۔