افغان طالبان کے کمانڈر سعیداللہ سعید کا واضح پیغام: پاکستان میں مسلح کارروائیاں دینی نافرمانی قرار

کابل / پشاور — افغان طالبان کے ایک اہم کمانڈر سعیداللہ سعید نے پولیس اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فتنتہ الخوارج اور بیرون ملک عسکری سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کو سخت تنبیہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست، خصوصاً پاکستان میں، امیر کے حکم کے خلاف لڑائی شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔

https://x.com/SaboohSyed/status/1927719008855368051

کمانڈر سعیداللہ سعید کا کہنا تھا کہ مختلف گروہوں میں شامل ہو کر بیرون ملک جہاد کرنے والے افراد کو حقیقی مجاہد نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ حملے کرنے والے افراد شریعت کی نظر میں فساد کے مرتکب ہیں، نہ کہ جہاد کے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاد کا اعلان یا اجازت دینا صرف ریاستی امیر کا اختیار ہے، کسی انفرادی شخص یا گروہ کا نہیں۔ اگر ریاستی قیادت یہ فیصلہ کر چکی ہو کہ پاکستان نہ جایا جائے، تو اس حکم کے خلاف جانا دینی نافرمانی کے مترادف ہوگا۔

کمانڈر نے کہا کہ جو افراد یا گروہ اپنی انا، ذاتی وابستگی یا گروہی مفادات کی بنیاد پر جہاد کے نام پر حملے کرتے ہیں، وہ شریعت اور افغان امارت دونوں کے نافرمان شمار ہوں گے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق کمانڈر سعیداللہ کا یہ بیان پاکستان کی داخلی سلامتی، انسدادِ دہشتگردی کے بیانیے، اور عالمی سطح پر اس کے سفارتی مؤقف کو مضبوط کرتا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ بھارت کی ایما پر کام کرنے والے دہشتگرد گروہوں کا نام نہاد جہاد درحقیقت ریاست، شریعت اور امن کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں دہشتگردی کے کئی واقعات کی ذمہ داری ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہ قبول کر چکے ہیں، اور افغان سرزمین کے استعمال پر بین الاقوامی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یہ پیغام نہ صرف شدت پسند نظریات کو چیلنج کرتا ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت بھی سمجھا جا رہا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے