کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود نے ایک نئے ویڈیو پیغام میں کھلے عام اعلان کیا ہے کہ غیر مسلم دشمن ریاستوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنا اور ان سے امداد قبول کرنا نہ صرف اسلامی تعلیمات کے تحت جائز ہے بلکہ بعض حالات میں ضروری بھی ہے۔
ولی محسود نے اپنے موقف کو مذہبی تناظر میں پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ "کافر” (غیر مسلم) اقوام سے اتحاد قائم کرنا اور ان کی حمایت حاصل کرنا جب ضروری سمجھا جائے تو جائز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں اقدامات جائز اور بعض اوقات ناگزیر ہیں۔
یہ بیان پاکستان کے اس دیرینہ دعوے کو تقویت دیتا ہے کہ بھارت اس کی سرحدوں کے اندر دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔ محسود کے اعلان سے پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے پہلے جاری کی گئی متعدد تحقیقاتی رپورٹس کی طرف توجہ مبذول ہوتی ہے۔ ان رپورٹس میں مسلسل الزام لگایا گیا ہے کہ بھارت ٹی ٹی پی کو مالی، لاجسٹک اور انٹیلی جنس مدد فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، رپورٹس میں بھارت پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، جس میں ٹی ٹی پی ایک اہم آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔
پاکستان نے عالمی سطح پر بارہا ان خدشات کا اظہار کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ریاستی مخالف عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کر رہی ہیں۔
حالیہ خضدار سکول بس حملے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ ٹی ٹی پی کو بھارت کی طرف سے امداد، معاونت اور سرپرستی حاصل ہے۔
https://x.com/SaboohSyed/status/1927716954791350541
پاکستان نے گزشتہ سال سے ٹی ٹی پی کو ‘فتنہ الخوارج’ کا نام دیا ہے کیونکہ یہ گروہ اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام کا نام استعمال کیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار محسود کے اعتراف کو دہشت گرد گروہ اور غیر ملکی سرپرستوں کے درمیان اتحاد کو جواز فراہم کرنے کے لیے مذہبی بیانیہ کی ہیر پھیر قرار دیتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے سربراہ کا یہ بیان ایک واضح یاد دہانی ہے کہ ٹی ٹی پی جیسے گروہ نہ صرف اندرونی خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی امن کو خراب کرنے اور جغرافیائی سیاسی ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کے لیے مذہب کا بھی استحصال کرتے ہیں۔
نور ولی محسود اسلام کو مسخ کر کے مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں سے تعاون کو جائز قرار دیتا ہے، جو عدل اور وحدت جیسے بنیادی اسلامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وہ فتنۂ خوارج کا پیروکار ہے جو مسلمانوں کو کافر ٹھہرا کر امت میں تفرقہ پھیلاتے ہیں۔
نور ولی محسود دین اسلام کی تعلیمات کو اپنے پرتشدد ایجنڈے کے تابع کرتا ہے اور مستند دینی علم کو رد کر کے مذہب کو انتہا پسندی کے جواز کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
خوارج کی طرح نور ولی بھی مسلمانوں کو دشمن قرار دے کر فرقہ واریت کو ہوا دیتا ہے اور اس وحدت و اخوت کو مجروح کرتا ہے جس کا حکم اسلام دیتا ہے۔
فتنۂ خوارج جیسے گروہ اسلام کے نام پر فساد برپا کر رہے ہیں اور ان کا مقصد امت کو کمزور کرنا ہے۔ اسلام دشمنوں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف تعاون کو حرام قرار دیتا ہے۔