یوم تکبیر، یوم نجات اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان – پاکستان کے ناقابلِ فراموش دن

ہر قوم کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو اس کی قومی خودداری، آزادی، اور قربانیوں کی یادگار بن جاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے 28 مئی اور 10 مئی دو ایسے ہی دن ہیں جنہیں ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ ان دنوں کی اہمیت کو جاننے کے لیے ہمیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اس کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قربانیوں اور خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کرنا ہوگا۔

10 مئی 1998

10 مئی 1998 کو بھارت نے پوکھران کے مقام پر ایٹمی تجربات کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی تھیں، لیکن اصل میں ایٹمی دھماکے 11 اور 13 مئی کو کیے گئے تھے۔تاہم، 10 مئی کا دن اس لیے اہم ہے کہ:

یہ وہ دن تھا جب بھارتی حکومت نے دنیا سے خفیہ طور پر ایٹمی تجربات کی تیاری مکمل کر لی تھی۔

بھارت کی بی جے پی حکومت، جس کی قیادت وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کر رہے تھے، نے فیصلہ کیا کہ وہ 1974 کے بعد دوبارہ ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ کرے گی۔بھارتی سائنسی اداروں نے 10 مئی کو پوکھران میں تمام تکنیکی اقدامات کو حتمی شکل دی، اور اگلے دن یعنی 11 مئی 1998 کو بھارت نے تین ایٹمی دھماکے کیے۔اس کے بعد 13 مئی 1998 کو بھارت نے مزید دو ایٹمی دھماکے کیے، جس کے بعد مجموعی طور پر پانچ ایٹمی تجربات کیے گئے۔

ان تجربات کا مقصد نہ صرف اپنی ایٹمی صلاحیت ظاہر کرنا تھا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنا بھی تھا۔ بھارت کے ان اقدامات نے پاکستان کے لیے ایک سخت چیلنج پیدا کر دیا، اور اسی چیلنج کے جواب میں پاکستان نے 28 مئی کو یوم تکبیر مناتے ہوئے ایٹمی دھماکے کیے۔

28 مئی – یوم تکبیر

28 مئی 1998 کا دن پاکستانی قوم کے لیے "یوم نجات” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس دن بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے جن سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ گیا۔ بھارت کے ان اقدامات نے پاکستان کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ پوری قوم غصے، بے بسی اور تشویش کی کیفیت میں مبتلا تھی۔ مگر یہی دن پاکستانی قوم کے لیے بیداری اور حوصلے کا دن بھی ثابت ہوا۔ پاکستانی قیادت، عوام، اور سائنسدانوں نے فیصلہ کیا کہ اب خاموشی کی کوئی گنجائش نہیں، اور پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کرنا ہوگا۔

بالآخر ، 28 مئی 1998 کو پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں یوم تکبیر کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔ یہ وہ دن تھا جب پوری دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان اب ایک ناقابلِ تسخیر ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ ان دھماکوں نے نہ صرف بھارت کی برتری کا خواب چکنا چور کیا، بلکہ پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان – محسنِ پاکستان

یومِ تکبیر کی کامیابی کے پیچھے جس شخصیت کا سب سے بڑا کردار ہے، وہ ہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ ان کی محنت، قربانی، اور بے لوث خدمات کے بغیر یہ کارنامہ ممکن نہ ہوتا۔ انہوں نے اپنی زندگی پاکستان کے دفاع کے لیے وقف کر دی۔ جب دنیا پاکستان پر پابندیاں لگا رہی تھی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم دن رات محنت کر رہے تھے تاکہ وطن عزیز کو ناقابلِ شکست بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف ایک عظیم سائنسدان تھے بلکہ ایک سچے محبِ وطن بھی تھے۔ انہوں نے دنیا کی بڑی پیشکشوں کو ٹھکرا کر اپنی وفاداری پاکستان سے نبھائی۔ ان کی خدمات کو دنیا تسلیم کرے نہ کرے، پاکستانی قوم انہیں محسنِ پاکستان کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی۔

10 مئی 2025 کا دن پاکستانی عوام کو ایک بار پھر یاد دلا گیا کہ دشمن آج بھی پاکستان کے وجود سے خائف ہے۔ حالیہ پاک-بھارت کشیدگی، جس میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی اور پاکستانی افواج کا بھرپور جواب شامل تھا، اس حقیقت کی یاد دہانی تھی کہ دشمن کبھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ لیکن پاکستانی قوم نے 28 مئی 1998 کو جو فیصلہ کیا تھا—یعنی پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنانا—وہی آج ہمارا سب سے مضبوط دفاع ہے۔ یومِ تکبیر صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی بھی جارحیت اب مہنگی پڑ سکتی ہے۔ دشمن جان چکا ہے کہ پاکستان کے پاس اب صرف جذبۂ ایمانی نہیں بلکہ ناقابلِ تسخیر دفاعی طاقت بھی ہے، جس کا سہرا ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے محسنین کے سر ہے۔ 10 مئی کی کشیدگی ہو یا مستقبل کا کوئی چیلنج، 28 مئی کا سبق یہی ہے: پاکستان نہ جھکے گا، نہ رکے گا۔

آج جب ہم 10 مئی اور 28 مئی کو یاد کرتے ہیں، تو ہمیں صرف ایک کامیابی کی کہانی یاد نہیں آتی بلکہ قربانی، حوصلے، اور عزم و استقلال کی وہ داستان بھی یاد آتی ہے جو پاکستان کے سچے بیٹوں نے رقم کی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان دنوں کو صرف یاد نہ کریں بلکہ ان سے سبق بھی سیکھیں کہ قومی غیرت، یکجہتی اور قربانی سے ہی قومیں سر بلند ہوتی ہیں۔

اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
پاکستان زندہ باد

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے