ادریس ہادی خان: یورپ میں مقیم، پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم اور کامیابی سے ہم کنار کرنے والے ایک باکمال نوجوان کا تذکرہ

موجودہ دور بلا شبہ سائنسی، مادی، تیکنیکی، انتظامی اور ادارہ جاتی اعتبار سے بے حد ترقی یافتہ، سمارٹ اور متاثر کن ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ سیاسی، معاشی، سماجی، اخلاقی، جذباتی اور نظریاتی طور پر حد درجہ پیچیدہ، تہہ در تہہ اور بے شمار مسائل و مشکلات رکھنے والا بھی ہے۔ اس لیے ہم روز طرح طرح کی تضادات کا ہر سطح پر مشاہدہ کر رہے ہیں جس نے انسانی بنیادوں پر سوچنے سمجھنے والے تمام افراد کو بے چین کر رکھا ہے لیکن اس سے آگے بڑھ کر ایک اور تقسیم بھی نمایاں ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں جو پورے خلوص، یکسوئی اور جذبے سے انسانی فلاح و بہبود کے کاموں میں جت جاتے ہیں اور ان ہی میں اپنی پوری ہستی سے مصروف عمل رہتے ہیں، اپنی تمام تر صلاحیتیں اسی مقصد میں کھپاتے ہیں اور اجر کی امید اپنے رب سے لگا لیتے ہیں جبکہ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو حالات کی ستم ظریفی سے مایوس ہو کر کشمکش کا شکار، جو عملی طور پر کچھ بھی نہیں کر پاتے اور یوں صرف شکوے شکایات جاری رکھتے ہوئے حالات کا رونا رونے میں زندگی کے ماہ و سال گزارتے ہیں۔ ان میں اول الذکر مثبت سوچ اور اپروچ والے ہیں اور ثانی الذکر منفی سوچ والے۔

وہ افراد جو مثبت سوچ کے علمبردار ہوتے ہیں اور تعمیری سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں وہ پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشروں کی تشکیل و تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی پرامید سوچ اور فعال کردار مواقع کے لیے گویا ایک منبع کے طور پر کام کرتا ہے اور ایسے لوگ سماج میں اجتماعی بہتری کو فروغ دیتے ہیں جو کہ مختلف النوع چیلنجوں کا مقابلہ تو خوب کرتے ہیں لیکن حالات کی خرابی کو جواز بنا کر فارغ بیٹھنے کو گوارہ کبھی نہیں کرتے۔ ایسے افراد خدا پر پختہ یقین سے سرشار ہو کر میدان عمل میں اپنے حصے کی ذمہ داری والہانہ انداز میں نبھا کر خود کو خوشنودی رب کا مستحق ثابت کرتے ہیں اور سماج کی تعمیر و تشکیل میں گراں قدر حصہ شامل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں کا کردار روشنی اور خوشبو کی مانند چار سوں اپنے اثرات پھیلا دیتا ہے۔ یہ لوگ فطری طور پر دوسروں کو آگے بڑھانے کا آفاقی نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

پاکستان میں بد قسمتی سے طبقاتی تقسیم، معاشی تفریق، حکومتی نااہلی اور سماجی ناہمواری نے قومی سطح پر بہت بڑا خلا پیدا کی ہے۔ اس لیے رضاکارانہ بنیادوں پر تعمیری سرگرمیوں کے ذریعے، مختلف خدمات کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے مثلاً کمیونٹی سروسز، تعلیمی اقدامات یا ہنگامی حالات میں پیدا والے مسائل کا حل وغیرہ، ایسے رضا کار سماجی بہتری میں ایک فعال حصہ ڈالتے ہیں، اور مختلف مسائل کو مدنظر رکھ کر ان کے حل کے سلسلے میں، اپنی گراں قدر خدمات کی وساطت سے مثالی احترام پاتے ہیں۔ اپنی بے انتہا اہمیت کے پیش نظر تعلیم و تربیت کا میدان موجودہ دور میں سب سے زیادہ توجہ اور محنت کا مستحق قرار پاتا ہے کیونکہ تعلیم و تربیت میں رہنے والی کمی آگے چل کر غربت، جہالت، بیماری اور بے روزگاری کا اژدھا بن کر قومی سطح پر تعمیر و ترقی کا راستہ روک لیتا ہے۔

مثبت سوچ کے ذریعے معاشرے کی بہتری کے لیے وقف لوگ قسم قسم کی رکاوٹوں پر قابو پانے کے عزم سے سرشار رہتے ہیں۔ تعمیر و ترقی کے بے پایاں امکانات پر ان کا غیر متزلزل یقین انہیں ہر دم مستحق افراد اور طبقات کے ساتھ تعاون اور ہمدردی پر آمادہ رکھتا ہے اور یوں ایک زیادہ ہم اہنگ، خوشحال، متحد، لچکدار اور مضبوط سماج کی تشکیل و تعمیر کے راستے کشادہ ہو رہے ہیں۔ میرے برسوں کے مشاہدے اور مطالعے نے جس یقین سے مجھے سرشار کیا ہیں وہ یہ کہ جو اللہ کے لیے انسانوں کے مددگار بن کر کام کرنے کے لیے اٹھتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ ناقابلِ تصور برکتوں، رحمتوں، سعادتوں اور کامیابیوں سے ایسے نوازتے ہیں کہ وہ قابلِ رشک بن جاتے ہیں۔

ان کے ہاتھوں سے بڑے بڑے کام انجام پا جاتے ہیں۔ آج ہم اسی روح سے سرشار ایک ایسے نوجوان کا تذکرہ احباب سے کرنے جا رہے ہیں جو خالق کائنات نے نہ صرف بے شمار صلاحیتوں سے فراوانی کے ساتھ نوازا ہے بلکہ اس ہمت اور حوصلے سے بھی سرفراز ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے دلجمعی اور خلوص کے ساتھ سماجی فلاح و بہبود اور انسانی خدمت و بہتری کا کام مستقل مزاجی سے لیں۔ میں ذکر کر رہا ہوں برادرم ادریس ہادی خان جو کہ بغرض تعلیم لتھوانیا میں مقیم ہے لیکن ان کے اوقات اور صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ پاکستانی نوجوانوں میں عالمی سطح کے تعلیمی مواقع کے بارے آگاہی اور تیاری کے حوالے سے صرف ہو رہا ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کی خوش قسمتی ہے کہ ادریس ہادی خان مختلف ذرائع سے کام لے کر خود ضرورت مند نوجوانوں تک پہنچنے کی کوشش کرہا ہے اور اس عمل میں دن رات مشغول رہتا ہے۔

برادرم ادریس ہادی خان، لوئر دیر، خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اعلی تعلیم یافتہ، پشتو زبان کا منفرد شاعر، پرجوش سماجی کارکن اور فلاح و بہبود کے ایک مضبوط پس منظر اور ممتاز شناخت رکھنے والے نوجوان ہے۔ آپ نے جامعۂ پشاور سے گریجویشن کرنے کے بعد، سماجی کارکن کے طور پر ایک شاندار مشن اور پر عزم سفر کا آغاز کیا۔ سوشل ورک میں ایک نئے آئیڈیا کے ساتھ ایک نئے انداز میں کام کا آغاز کیا یعنی”سکول سوشل ورک” کے نام سے ایک تعلیمی پراجیکٹ صوبہ بھر میں متعارف کرایا۔

ادریس ہادی خان کا تعلیمی اور سماجی ادراک انسانی عظمت و کرامت، اخلاقی شعور و فضیلت، الہامی صداقت و حقانیت، معاشرتی فلاح و بہبود، مادی ترقی و توازن اور نظریاتی حقیقت پسندی و وسیع الظرفی سے عبارت ہے۔ آپ ایک مہذب، سنجیدہ، خوش مزاج، وسیع النظر، سلیقہ شعار اور انسان دوست نوجوان ہے۔ آپ کے لہجے میں کمال درجے کی شیرینی، چہرے پر متاثر کن اعتماد، کوششوں میں انسانی خیرخواہی نمایاں اور پروگراموں میں تعلیمی فروغ کو اولیت حاصل ہے۔ آپ دل و جان کی اتھاہ گہرائیوں سے چاہتے ہیں کہ نوجوان قومی اور بین الاقوامی سطح پر پھیلے تعلیم کے بے انتہا مواقع سے فائدہ اٹھا کر کامیابی حاصل کریں۔

ادریس ہادی خان کا "تعلیم اور سماجی بہبود” کے اشتراک کے منصوبے میں مہارت کا اندازہ ان کی قومی اور بین الاقوامی سطح کی تنظیموں کے ساتھ موثر انداز میں کام کرنے سے لگایا جاسکتا ہے، جہاں اس نے ایک پیشہ ور سماجی اور تعلیمی کارکن کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو کامیابی سے بروئے کار لایا ہے۔ ادریس ہادی خان کو پاکستان میں اسکول کے سماجی کام (School Social Work) کا "ٹریل بلیزر” ہونے پر فخر ہے، دوستی ویلفیئر آرگنائزیشن میں کام کرتے ہوئے اس فیلڈ کو پہلی بار متعارف کرایا اور اس کے لئے انتھک محنت کی۔ اس نے اپنے ریسرچ پراجیکٹ کے لیے بھی اسکول سوشل ورک کا انتخاب کیا۔ کئی اداروں اور نمایاں شخصیات نے اسکول کے سماجی کارکن کے طور پر ان کی کوششوں کو خوب سراہا۔

ادریس ہادی خان نے کمیونٹی کی ایک اہم خدمت انجام دینے کے لیے لوئر دیر میں طلباء اور اساتذہ کو درپیش مختلف نفسیاتی، سماجی اور تعلیمی مسائل کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ حل کرنے کے لیے مختلف سیشنز کا اہتمام بھی کیا۔ انہوں نے یہ سیشنز مختلف اسکولوں اور کالجوں میں منعقد کیے ہیں، جس کا مقصد کمیونٹی کے افراد کی فلاح و بہبود اور تعلیمی نتائج کو بڑھانا ہے۔

ادریس ہادی خان کو 2023 میں، مشہور زمانہ یورپی اسکالر شپ ایراسمس منڈوس سے نوازا گیا۔ سوشل ورک کے شعبے میں منتخب ہونے والے واحد پاکستانی طالب علم کے طور پر، وہ ESWOCHY (European Joint Master in Social Work with Children and Youth) پروگرام کے تیسرے کوہورٹ فیز کے طور پر یورپ میں اپنی تعلیم حاصل کرنے کے لیے تیاریوں میں مصروف ہے۔ یہ باوقار پروگرام چار معروف یونیورسٹیوں کے کنسورشیم کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے، لیتھوانیا میں مائکولاس رومیرس یونیورسٹی، لٹویا میں ریگا اسٹراڈینز یونیورسٹی، سلوواکیہ میں روزومبروک میں کیتھولک یونیورسٹی، اور پرتگال میں ISCTE یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف لزبن کے اشتراک سے یہ تعلیمی پروگرام مکمل ہوگا۔

ادریس ہادی خان کی سماجی کاموں کے لیے انتھک لگن اور ان کی نمایاں کامیابیاں بلاشبہ اس میدان پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ ESWOCHY اسکالرشپ کے ذریعے حاصل کردہ تجربہ اور علم انہیں بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک پرجوش، مخلص اور مہربان وکیل کے طور پر نمایاں کر رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی سطح پر سماجی کاموں میں حصہ ڈالنے کے لیے بھرپور جذبے سے سرگرم عمل ہے۔

ادریس ہادی خان نے آج کل اپنے ملک کے ان تعلیم یافتہ نوجوان کو، جو کہ حالات سے قدرے مایوس ہیں، کو بین الاقوامی سکالرشپس جیتنے کی طرف راہنمائی کرنے کا سلسلہ شروع کر چکا ہے۔ جس میں سوشل میڈیا پر لائیو پروگرامات شامل ہیں اور جس میں انہیں اپنے بعض سابقہ پاکستانی اساتذہ کا تعاون بھی حاصل ہے۔

ادریس ہادی خان نے حال ہی میں، ضلع دیر پائیں کے مقام پر ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے DSH Foundation کے نام سے باقاعدہ ایک شعوری اور تعلیمی کونسلنگ کی بنیاد رکھی ہے جس میں براہ راست اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو تعلیمی اور سماجی مشاورت فراہم کی جاتی ہے۔

ادریس ہادی خان نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں کہ کس طرح اپنی محنت، تعلیم اور جذبے سے نہ صرف خود ایک باوقار مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ اپنے قلبی اور ایمانی خلوص اور مہربانی سے معاشرے کے فلاح و بہبود میں ایک قابلِ ذکر حصہ شامل کر رہا ہے۔ نوجوانوں اور خاص کر طالب علموں کو میرا مشورہ ہے کہ ادریس ہادی خان کو سوشل میڈیا پر فالو کریں اور ان کے مشوروں اور معلومات سے استفادے کی کوشش کریں ان شاءاللہ آپ امکانات اور مواقع سے بھرپور ایک نئی دنیا میں داخل ہو جائیں گے جو کہ آپ کی زندگی کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دے گی۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ادریس ہادی خان کو طویل زندگی، کثیر خوشیاں، لامحدود اطمینان، غیر متزلزل عزم اور بے انتہا برکتوں سے نوازے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے