28 مئی 2025 کو یوم تکبیر کے حوالے سے پورے ملک میں عام تعطیل "Public Holiday” دی گئی۔ عوامی اور حکومتی حلقوں میں خوشیوں اور شکرانے کی تقریبات منائی گئیں۔ اس دن کی اہمیت کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ 27 سال پہلے پاکستان نے اپنے پڑوسی ملک ہندوستان جس سے ہر وقت پاکستان کے وجود اور سالمیت کو خطرہ درپیش رہتا ہے، کے مقابلے میں ایٹم بم بنا کر اس کے 6 کامیاب تجربے (دھماکے) کرکے طاقت کا توازن اور حساب برابر کردیا اور ملک کی جغرافیائی سرحدوں کو محفوظ بنایا۔
میں نے بھی اس دن کی چٹھی کو غنیمت جان کر اسے کسی مثبت سرگرمی میں گزارنے کا ارادہ کیا۔ اور مناسب سمجھا کہ ایٹم بم اور اس کی 80 سالا تاریخ پر کچھ سطریں اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کروں۔دنیا نے پچھلے 400 سالوں سے سائنس کی دنیا میں ترقی کی جو منازل طے کئے ہیں ان کے سامنے عام عقلیں تماشائے لب بام ہیں۔ اگر 1609 میں گیلیلیو کا ایجاد کردہ ٹیلی سکوپ اس کا شاید پہلا عجوبہ تصور کیا جاتا ہے تو آج 21 ویں صدی کے پہلے ربع تک مندر جہ ذیل میدانوں میں انسانی کمالات ناقابل یقین معجزے ہیں۔
01: کمپیوٹر۔Computer
02: انٹرنیٹ Internet
03: مصنوعی ذہانت Artificial Intelligence
04: سینولائیٹکس Senolytics
05: جین تھیرپی Gene Therapy
06: کار ٹی۔ سیل تھیرپی CAR T-Cell Therapy
07: کوانٹم فزکس Quantum Physics
08: نیورال انٹرفیسز Neural Interfaces
09: گریویٹیشنل ویوز Gravitational Waves
10 نینو ٹیکنالوجی Nanotechnology
11: کوانٹم ایرر کریکشن Quantum Error Correction
انسان بذات خود محو حیرت ہے کہ دنیا مزید کیا سے کیا ہو جائیگی۔ جنگوں کے دوران دشمن کو زیر کرنے، اسے دباؤ میں لانے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے جدید میزائل، لیزر ٹیکنالوجی اور جوہری ہتھیاروں اور ہائیڈروجن بموں کی بہت بڑے پیمانے پر تیاری نے انسان کو ایک طرح سے سخت مصیبت اور ٹینشن میں بھی مبتلا کر رکھا ہے۔ جس دنیا پر آج ہم آباد ہیں اس کا مادہ 92 قدرتی عناصر سے بنا ہوا ہے۔ لوہا، سونا،کاربن، آکسیجن، ہائیڈروجن، پلوٹونیم اور یورینیم وغیرہ ان کے اقسام ہیں۔ ان عناصر میں کچھ ایسے بھی ہیں جو منظم اور سلسلہ وار زنجیری تعامل "Sustain Chain Reaction” کے حامل ہیں مثلاً یورینیم اور پلوٹونیم۔ ایٹم بم بھی انہیں یورینیم اور پلوٹونیم وغیرہ کے ایٹموں کے مرکزوں Nucleui کو توڑ کر جوہری توانائی حاصل کرکے ایک بہت ہی پیچیدہ طریقے سے بنایا جاتا ہے۔
ایک ایٹم بم ایک ایسا دھماکہ خیز ہتھیار ہے جو اپنی تباہ کن طاقت کو نیوکلیئر رد عمل Nuclear” Reaction”خاص طور پر نیوکلیئر فشن یعنی جوہری مرکزے کو تقسیم کرنے یا نیوکلیئر فیوژن یعنی جوہری مرکزوں کو آپس میں ملانے سے حاصل کرتا ہے۔ یہ دونوں قسم کے رد عمل بے پناہ توانائی خارج کرتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر تباہی اور جانی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ ایٹم بم کا ایجاد، اس کی تکمیل کے تمام پروسس اور اس کا تصور کسی ایک سائنسدان کے بس کی بات نہیں۔ یہ اتنا سادہ اور آسان ہتھیار ہرگز نہیں جس کے ایجاد اور تشکیل کے تمام پروسس کسی ایک سائنسدان نے انجام دئے ہوں۔ سائنس کی دنیا سے بے خبر عام لوگوں کا خیال ہے کہ ایٹم بم کا بانی اور ایجاد کنندہ صرف جرمنی کا یہودی سائنسدان البرٹ آئن سٹائن ہے۔ اگر چہ یہ حقیقت جزوی طور طور درست ہے لیکن آئنسٹائن نے 1905 میں اپنے پیپر "Does the Inertia of a Body Depend Upon Its Energy Content””کیا کسی جسم کا جمود (انرشیا) اس کی توانائی کے مواد پر منحصر ہوتا ہے؟” میں اپنے مشہور زمانہ مساوات (E=mc²) کے ذریعے جوہری توانائی کے حصول کا تصور دیا۔ اس مساوات کی مزید توجیہ میں وقت، سپیس اور فاصلے کا فلسفہ بھی پوشیدہ ہے۔
ہنگری سے تعلق رکھنے والے سائنسدان اور آئنسٹائن کے شاگرد لیو زیلرڈ "Leo Szilard” نے زنجیری تعامل (Chain Reaction) کا نظریہ پیش کیا۔ ان ریکو فرمی Enrico Fermi نامی سائنسدان نے ایٹمی توانائی کے حصول اور ایٹم بم بنانے کے لئے نیوکلیئر ریکٹر ڈیویلپ کیا۔ امریکہ کے جےرابرٹ اوپن ہائیمر J.Robret Oppenheimer نامی سائنسدان نے دیگر سائنسدانوں کی مدد سے دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی صدر روزویلٹ کے قائم کردہ پروجیکٹ مین ہاٹن (Manhattan Project) میں دنیا کا پہلا ایٹم بم تیار کرکے 16 جولائی 1945 کو اس کا کامیاب تجربہ کیا۔ ایٹم بم بنانے کی اصل محرکات کے لئے آئنسٹائن کا تذکرہ بہت لازمی ہے۔ اس کے ذکر کے بغیر ایٹم بم کی کہانی ادھوری اور بد مزا رہ جائیگی۔ آئنسٹائن 14 مارچ 1879 کو جرمنی میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم میونخ شہر میں حاصل کی اور پھر 1905 میں یونیورسٹی آف زورچ Zurich سوئٹزرلینڈ سے فزکس میں Ph.D کی ڈگری حاصل کی۔
کچھ عرصہ سوئٹزرلینڈ ہی میں بطور کلرک رہنے کے بعد Zurich یونیورسٹی میں فزکس کے لیکچرر اور بعد میں پروفیسر بن گئے۔ 1914 میں سوئٹزرلینڈ کو چھوڑ کر واپس جرمنی آئے اور برلن یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر تعینات ہوئے۔ وہ اسی عہدے پر 1914 سے 1933 تک رہے۔ 1930 میں جرمنی میں نازی فاشسٹوں کی حکومت آئی جنہوں نے یہودیوں پر زمین تنگ کر دی۔ ایڈولف ہیلٹر 30 جنوری 1933 کو جرمنی کے چانسلر بن گئے۔ چونکہ آئنسٹائن یہودی النسل اور زائونسٹ خیالات کے حامل تھے اسلئے اس نے جرمنی میں اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے امریکہ کا سمندری سفر اختیار کیا اور 17 اکتوبر 1933 کو امریکہ پہنچ گئے۔ وہ نیو جرسی میں پرنسٹن انسٹیٹیوٹ آف اڈوانس سٹدیز میں بغیر کسی انتظامی ذمہ داری اور ٹیچنگ کے پروفیسر بن گئے اور طبیعیات کی دنیا کے اپنے نظریات کو ایڈوانس کرنے میں مصروف ہو گئے۔
یہی پر وہ 18 اپریل 1955 کو 76 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ دوسری عالمی جنگ شروع ہونے سے 30 دن پہلے 2 اگست 1939 کو آئن سٹائن نے لیو زیلرڈ Leo Szilard کے شدید اصرار پر امریکہ کے صدر روزویلیٹ کو ایک خط لکھا اور جرمن نازیوں کا ایٹم بم بنانے کے ممکنہ خطرے سے اس کو آگاہ کیا۔ یکم ستمبر 1939 کو جرمنی نے پولینڈ ہر حملہ کرکے اسے فتح کیا اور دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی۔ روزویلٹ نے آئن سٹائن کے دستخط شدہ خط کا 19 اکتوبر 1939 کو مثبت رسپانس دیتے ہوئے اس کے خطرے کو تسلیم کیا اور مین ہاتن پروجیکٹManhattan” Project” کا آغاز کرکے ایٹم بم بنانے کے لئے ریسرچ سنٹر قائم کیا۔ 9 اکتوبر 1941 کو روزویلٹ نے ایٹم بم بنانے کی منظوری دے دی۔ دسمبر 1942 میں روزولٹ نے مین ہاتن پروجیکٹ کے لئے 500 ملین امریکی ڈاکر جاری کر دئے۔
1942 تک مین ہاتن پروجیکٹ ایک مکمل ریسرچ سنٹر بن چکا تھا جس میں تقریباً 4 سال کی مختصر مدت میں لاکھوں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے والا دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار "ایٹم بم” تیار ہو چکا تھا۔ مین ہاتن کی بنیاد رکھنے والا امریکی صدر روزویلٹ اگر چہ جنگ عظیم دوم کے دوران 1944 میں چوتھی بار الیکشن جیت کر امریکہ کا صدر منتخب ہوا لیکن 12 اپریل 1945 کو خرابی صحت کے باعث انتقال کر گیا۔ اب نائب صدر ٹرومین امریکہ کا صدر بن گیا جس نے 16 جولائی 1945 کو نیو میکسیکو میں اوپنہائیمر کی سربراہی میں "ٹرینٹی تجربہ” Trinity Test کے نام سے ایٹم بم کا دھماکا کرکے جنگی مقاصد کے لئے جوہری توانائی کے حصول میں پہلا ریکارڈ قائم کیا۔ کامیاب دھماکے کے تجربے کے ساتھ ہی مین ہاٹن پروجیکٹ کے ڈاریکٹر اور ایٹم بم کے بانی اوپنہائیمر کی زبان سے بھگوت گیتا کا مشہور قول نکلا "اب میں موت بن چکا ہوں، دنیا کو تباہ کرنے والا” "Now I am become death, the destroyer of world”جنگ عظیم دوم تقریباً اپنے اختتام کے قریب تھی۔ محوری طاقتیں اور خصوصاً جرمنی ہتھیار پھینک چکا تھا۔ ہٹلر پر اسرار طور پر منظر نامے سے غائب ہو چکا تھا لیکن مغرب اور یورپ و جرمنی سے تقریباً 10 ہزار کلومیٹر دور مشرقی بعید میں واقع جاپان نے ابھی تک شکست تسلیم نہیں کی تھی۔
امریکہ نے صدر ٹرومین کی منظوری سے کامیاب ایٹمی دھماکے کے بعد اپنے ایٹم بم جاپان پر گرانے کے لئے بحرالکاہل میں واقع جزیرے "شمالی میریانہ” پہنچا دئے۔ اور آخر کار انسانیت کے لئے مہذب امریکہ موت کا پیغام لے کر آیا۔ 6 اگست 1945 کو امریکی فوج نے شمالی میریانا سے اپنے پہلے ایٹم بم کو "Little Boy” کا نام دیکر فوجی طیارے پر لوڈ کرکے تقریباً 2000 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے کے بعد جاپان کے شہر ہیروشیما پر صبح 8 بجکر 15 منٹ پر گرایا۔ یہ ایٹم بم یورینیم بیسڈ تھا جو 15 کلو ٹن ٹی۔این۔ٹی دھماکہ خیز اثرات کا حامل تھا اور اس کے پٹنے سے دھماکے کی جگہ کا ٹمپریچر 4000 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ آس پاس کے انسان اور دھاتیں گرمی کی شدت سے بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ یاد رہے کہ لوہا جیسے مظبوط دھات کا نقطہ پگھلاؤ 1530 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔
دوسرے ایٹم بم کو "Fat Man” کا نام دیکر شمالی میریانا ہی سے 9 اگست 1945 کو ایک دوسرے فوجی طیارے پر لوڈ کرکے صبح 11 بجکر 2 منٹ پر گرایا جو پلوٹونیم بیسڈ ایٹم بم تھا۔ یہ 21 کلوٹن ٹی۔این۔ٹی۔ دھماکہ خیز اثرات کا حامل تھا۔ اس کے پھٹنے سے بھی تقریباً 4000 ڈگری سینٹی گریڈ گرمی پیدا ہوئی۔ دونوں شہروں میں کئی سیکنڈز میں 1 لاکھ اور 40 ہزار انسان لقمہ اجل بن کر تحلیل ہوگئے اور امریکہ کا سینہ ٹھنڈا ہو گیا۔
امریکہ کے بعد روس USSR نے ایٹم بم بنا کر 29 اگست 1949 کو اس کا تجربہ کرکے اسے RDS-1 کوڈ نام دیا اور ایٹمی ہتھیار کی دوڑ میں دوسرا ملک بن گیا۔ برطانیہ نے 3 اکتوبر 1952 کو "Horicane” کے نام سے اپنا ایٹم بم چیک کرکے اس کا دھماکا کیا اور تیسرا ایٹمی ملک بن گیا۔ فرانس نے 13 فروری 1960 کو ایٹمی تجربہ کرکے ایٹمی ہتھیار بنانے والے چوتھے ملک کا درجہ حاصل کیا۔ چائنہ نے 16اکتوبر 1964 ایٹم بم کا کامیاب تجربہ کرکے پانچویں ملک کی حیثیت سے نیوکلیئر کلب میں جگہ بنائی۔ چائنہ نے اپنے پہلے ایٹمی دھماکے کو Project 596 کوڈ نام سے منسوب کئا۔ چھٹا ملک ہندوستان تھا جس نے 18 مئی 1974 کو "Operation Smilli g Buddah” کے نام سے اپنا پرمانڑو بم چیک کرکے اس کا تجربہ کیا۔
11 اور 13 مئی 1998 کو جب ہندوستان نے دوسری بار 5 ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا تو 24 سال کے طویل انتظار کے بعد آخر کار مملکت خداداد پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں 28 مئی 1998 کو "چاغی ون” کوڈ کے نام سے 5 ایٹمی دھماکے کئے۔ 30 مئی 1998 کو پاکستان نے "چاغی ٹو” کوڈ کے نام سے 1 اور ایٹمی تجربہ کیا اور دنیا کے 200 ممالک میں سے نیوکلیئر کلب کے 7 ممالک میں ساتواں عالمی اور پہلا اسلامی ملک بن گیا۔۔۔ پاکستان کے ایٹم بم بنانے کی کہانی بہت طویل ہے اور آغاز سے انجام تک تقریباً 26 سال پر محیط ہے۔ یہ کہانی 20 جنوری 1972 کو ذوالفقار علی بھٹو کی ایک تقریر سے شروع ہوتی ہے اور 28 مئی 1998 تک آتی ہے۔
1974 میں محسن پاکستان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہالینڈ کو خیر باد کہہ پاکستان آ گے۔ وہ 1976 میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کے ڈاریکٹر جنرل مقرر ہوئے۔ انہوں نے ایٹم بم بنانے کے لئے یورینیم کی افزودگی Enrichment of Uranium میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ 2001 تک کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری KRL کے ڈاریکٹر جنرل رہے۔ اگر چہ پاکستان کے ایٹم بم بنانے میں بہت سارے محب وطن سائنسدانوں نے کردار ادا کیا لیکن عبدالقدیر خان کا کردار قائدانہ رہا۔ جس طرح امریکہ کے ایٹم بم بنانے میں اوپن ہائیمر کا کردار ٹاپ پہ رہا شاید ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کردار بھی پاکستان کے لئے ایٹم بم بنانے میں کلیدی ہے اگر چہ اوپنہائمر ایٹم بم کے پہلے بانی اور ایجاد کنندہ ہے۔
……..
جمشیدخان گورنمنٹ کالج پشاور میں شعبہ سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ مختلف اخبارات میں قومی بین الاقوامی ، معاشی معاشرتی اور عام سائینسی معاملات پر ایک عرصے سے مضامین لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریروں کا بنیادی مقصد قوم اور ملک کی نوجوان نسل کو حالات حاضرہ اور بنیادی انسانی اقدار و ضروریات سے با خبر رکھنا ہے۔