دنیا میں کئی واقعات ایسے ہوتے ہیں جو وقتی طور پر دلچسپ لگتے ہیں، میڈیا کی چٹ پٹی شہ سرخیاں بن جاتے ہیں، اور پھر وقت کے غبار میں کہیں کھو جاتے ہیں۔ لیکن کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں — صرف اس لیے نہیں کہ وہ چونکا دینے والی تھیں، بلکہ اس لیے کہ وہ ہمارے معاشروں کے گہرے نقائص کو بےنقاب کرتی ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ تھا 2014 کا "نٹ گیٹ” یا "نٹ ریج” اسکینڈل، جب کورین ایئر کی نائب صدر ہیتر چو , جو کمپنی کے مالک کی بیٹی تھیں نے صرف اس لیے جہاز رکوا دیا کہ انہیں میکڈیمیا نٹس پلیٹ میں نہیں، بلکہ پلاسٹک پیکٹ میں پیش کیے گئے تھے۔ کیبن چیف کو سرعام ذلیل کیا گیا، پرواز واپس گیٹ پر لے جائی گئی، اور پھر جو ہوا وہ عبرت کی داستان ہے: عدالتی کارروائی، جیل، استعفیٰ اور عوامی شرمندگی۔
یہ واقعہ اس کلچر کا شاخسانہ تھا جسے کوریا میں "چیبولز” کہتے ہیں یعنی ایسے خاندانی کاروباری گروپس جو پورے ملک کی معیشت اور پالیسیوں پر بادشاہوں کی طرح قابض ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں کمپنی کا مالک صرف باس نہیں ہوتا، وہ گویا خاندان کا بادشاہ، ادارے کا خدا اور ملازمین کے مقدر کا لکھنے والا ہوتا ہے۔
اب آئیے ذرا اپنی طرف.
اگر کوریا میں چیبولز طاقت کا غلط استعمال کر سکتے ہیں تو سوچئے ہمارے ہاں تو پوری سیاست ہی خاندانی ہے، نسل در نسل، باپ سے بیٹے، بیٹے سے پوتے، اور کبھی کبھار بیٹی تک۔ کیا یہ خاندانی سیاسی جماعتیں چیبولز نہیں؟ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں عوام نے باپ بیٹی کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا، اور یہاں ہم ان کی چوکھٹوں پر گلے میں زنجیریں بندھوائے ان کے ڈالے ہوئے راتب کھا رہے ہیں؟
ہم یہاں اپنے خاندانی سیاستدانوں کی کرپشن پر تالیاں بجاتے ہیں، ان کے بچوں کی شادیوں پر ناچتے ہیں، اور ان کے بیرون ملک علاج کو "حق” سمجھتے ہیں۔ جب وہ قتل کر کے اجتماعی زیادتیاں کر کے بھرے مجمعے میں وکٹری کا نشان بناتے ہیں تو ہم ان کی "مردانگی” پر جھومتے ہیں۔ ہمیں کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ وہ ہماری کھال اتار دیں یا ہماری ہڈیاں چبا ڈالیں اور ہمیں کوئی فرق اس لیے نہیں پڑتا کیونکہ ہم بے حسی کی آخری سٹیج پر جا پہنچے ہیں اور غیرت، شرم اور حیا ماضی کے کھنڈرات میں دفن ہو چکے ہیں۔
جب تک ہم خود کو ذاتی بداعمالیوں، کرپشن، غیر مشروط وفاداریوں، اور اندھی عقیدتوں سے آزاد نہیں کرتے، یہی ہوتا رہے گا — نہ چہرے بدلیں گے، نہ نظام درست ہوگا، نہ ہماری ذلتوں اور رسوائیوں میں کمی آئے گی۔ ہم بار بار اپنی مرضی، اپنی پسند سے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے گلے کا پھندا تیار کرتے رہیں گے، انہیں چیبولز، انہیں خاندانی سیاستدانوں کے لیے جو ہمیں "عوام” نہیں، ذاتی غلام سمجھتے ہیں۔
سوالیہ نشان اس پر نہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ گہرے سرخ رنگ کا بڑے سائز کا سوالیہ نشان اس پر ہے کہ:
ہم انھیں اپنے ساتھ کیا کرنے دے رہے ہیں؟
افسوس، دکھ، رنج اور شدید غصے کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اس قابل بھی شاید نہیں رہے کہ ہمارے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے۔ ہم اب فقط ایک بے حس، بے شرم، بے غیرت، بے حیا، اور جہالت میں ڈوبا ہوا ہجوم ہیں. جو اپنے لٹیروں سے محبت کرتا ہے، اپنے قاتلوں کی تعریف کرتا ہے، اور اپنے ذاتی مفاد کے بدلے پوری قوم کو گروی رکھ دیتا ہے . یہ ہجوم نہ کوئی انقلاب لا سکتا ہے نہ اپنی گردن سے یہ شرمناک طوق ہی اتار سکتا ہے۔
ہم غلام ہیں. اور ہم غلام اپنی مرضی سے ہیں۔