ناچیز کو 2 اپریل 2024 کو سعودی عرب آنے کا موقع میسر آیا۔ اس دورے میں عمرے کی ادائیگی، سعودی عرب کی سیاحت اور اپنے خاندان کے افراد سے ملاقات جیسے مقاصد شامل تھے۔ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو زمانوں سے اربوں انسانوں کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز بنا چلا آ رہا ہے اور یہ حقیقت ہے سعودی عرب اس لائق ہے کہ بے حساب محبتوں اور عقیدتوں کا مرکز بنا رہے کیونکہ سعودی عرب ان تمام روایتوں، مقامات، خدمات، حیثیتوں اور نسبتوں کا نہ صرف آمین ہے بلکہ نہایت کامیابی، وسعت قلبی اور زبردست انتظام سے اربوں انسانوں کی میزبانی، تحفظ اور نوع بہ نوع جذبات و احساسات اور اہداف و مقاصد کے حصول کا علمبردار و مددگار بھی ہے۔
سعودی عرب پہنچنے ہی مانوسیت اور اطمینان کا ایک زبردست احساس ہوا یوں لگا کہ گویا میری روح یہاں کی دیرینہ باسی اور دل متلاشی رہا ہے۔ ایمان و اطمینان، آسودگی اور خوشحالی، امن و امان، نفاست و لطافت اور دین و اقدار سے چہروں پر جو رونق، دلوں میں جو اعتماد اور طرزِ زندگی میں جو بہتری آتی ہے اس کا مشاہدہ چند لمحات میں ہی ہو جاتا ہے اور بندہ قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مختلف ریجنز میں انڈسٹریل ایریاز جو وسیع و عریض احاطوں پر پھیلے ہوئے ہیں، تاحد نظر دراز صحرائیں اور زرخیز زمینیں، شفاف سڑکیں، ہرے بھرے باغات اور رنگ بہ رنگ دوڑتی کاریں، شاندار عمارتیں، کاروباری سرگرمیوں اور ابھرتے ہوئے سائنسی اور صنعتی رجحانات کا پل پل نظارہ، بندے کو سعودی حکومت کی حکمت اور تدبر، سعودی عوام کی دانشمندانہ حمایت اور صلاحیت کا قائل بناتا ہے۔
سعودی عرب سے متعلق خبریں، حالات، اقدامات، پالیسیوں اور ترجیحات گزشتہ چھ آٹھ برسوں سے میری دلچسپی کا خاص مرکز بنے ہوئے ہیں، میری کوشش ہوتی ہے کہ روزانہ کے حساب سے سعودی عرب کے متعلقات مطالعے میں لے آؤں اور ان پر کچھ نہ کچھ غور بھی کروں۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ سعودی عرب خادم الحرمین الشریفین سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں ایک فیصلہ کن کروٹ بدل رہا ہے، بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی صورتحال میں ایسا کرنا لازم ہے اس بڑے قدم کے لیے جس حکمت، جرآت، بصیرت اور قدرت کی ضرورت ہے وہ خوش قسمتی سے مذکورہ قیادت کو دستیاب ہیں۔
ملت اسلامیہ کو چاہیے کہ اس اہم اور نازک موقع کو امید اور یقین کی نگاہ سے دیکھیں۔ سعودی عرب نے اس سلسلے میں جو ترجیحات پیش نظر رکھے ہیں وہ جدت، علمیت، تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی، معیشت، صنعت و حرفت، امنیت و سالمیت، اسلامی وحدت اور عالمی یگانگت ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ ہم جب تک ان اہداف کے لیے شانہ بشانہ نہیں چلیں گے ہمارے سامنے اپنی نظریاتی توسیع اور انسانیت کے واسطے تعمیری کردار کے لیے امکانات کم سے کم ہوں گے اور پھر کیا بعید کہ یہ بالکل ناپید ہی ہو۔
حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے جس موثر انداز سے اپنی ترقی کے مختلف پہلوؤں میں نمایاں پیش رفت کی ہے اس کی نہ صرف تعریف و تحسین بنتی ہے بلکہ اسے ایک کیس سٹڈی کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے کہ کس طرح جدت اور قدامت کی حسین آمیزش سے فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کا ایک کامیاب ماڈل دنیا کو دکھانا ممکن ہوا۔ سعودی شہریوں کی سوچ اور طرزِ زندگی بے جا تکلفات سے یکسر صاف اور مبرا ہے۔ دولت و حشمت کی ریل پیل کے باوجود ان میں مومنانہ تواضع اور انکساری کی ذہنیت خوب پختہ ہے اس کے علاؤہ شکر گزاری اور مہربانی کا عمومی رویہ بھی روزمرہ کی زندگی میں جا بجا نظر آتا ہے۔ مطلب کی بات کرنے پر خاموشی اور اپنے کام سے کام رکھنے کا مزاج اس قدر عام ہے کہ ہر جگہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ رغبت اور محبت سے نماز پڑھنے، ہر جان انجان کو سلام میں پہل کرنے اور غریبوں سے حتی الوسع ہمدردی و مہربانی سے پیش آنا یہاں بالکل عام ہے۔
سعودی لوگوں کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ یہ کام نہیں کرتے اور حکومتی مراعات پر گزر بسر کر رہے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے نوجوانوں میں کام کے جذبے اور آمادگی میں زبردست اضافہ ہوا ہے، ہر جگہ لوگ کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں مرد تو مرد خواتین بھی اب کام، تعلیم، روزگار اور دوسری سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور انداز سے مصروف نظر آ رہی ہیں۔ مکمل پردے اور اعتماد کے ساتھ خواتین ہر میدان میں سرگرم عمل ہیں۔
آئیے سعودی عرب کا امن و امان، معاشی تنوع اور خوشحالی، سماجی فلاح و بہبود، تعلیمی اور سائنسی ترجیحات کے حوالے سے پیش رفت کا ایک جامع جائزہ لیتے ہیں اور یہ بھی دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح سعودی عرب نے بین الاقوامی سطح پر طرح طرح کے بحرانوں کا کامیابی اور حکمت سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے اور ایک ایسے دور کے اندر اپنی سلامتی اور خوشحالی کو برقرار رکھا ہے کہ جس میں رہتے ہوئے بہت سارے ممالک مختلف چیلنجوں پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکامی سے دو چار رہے ہیں۔
سعودی عرب داخلی امن و امان کے قیام اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ہر دم پر عزم ہے۔ مملکت نے ہمہ جہت اور جامع حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیں جس کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ سعودی حکومت یمن گروہوں کی جانب سے مسلط دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بھی سرگرم عمل ہے جبکہ اب اس مسئلے پر قابو پایا گیا ہے، اور مسلسل ایک محفوظ اور زیادہ مستحکم خطے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ مزید برآں، اس نے بین المذاہب مکالمے کو ٹھیک ٹھاک فروغ دیا ہے، جس کا مقصد مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس مقصد کے لیے نہ صرف سعودی زعماء نے بکثرت بیرون ممالک دورے کیے ہیں بلکہ مختلف مذاہب سے منسلک اہم شخصیات نے پے در پے سعودی عرب کا رخ کیا ہے۔ ایک پیچیدہ اور منقسم دنیا میں سرکاری سرپرستی کے اندر ایسے اقدامات اٹھانا بلاشبہ ایک بہت بڑا اور اچھا کام ہے جس پر سعودی حکومت اور معاشرہ دونوں تعریف و تحسین کے مستحق ہیں۔
معیشت کو متنوع بنانا سعودی عرب کی اہم ترین ترجیح ہے۔ 2016 میں شروع کیے گئے منصوبے "ویژن 2030” کا مقصد تیل کی آمدنی پر ملک کا انحصار کم کرنا اور دیگر شعبوں کو برابر ترقی دینا ہے۔ قومی صنعتی ترقی، لاجسٹکس پروگرام اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ جیسے اقدامات نے معاشی نمو کو آگے بڑھاتے ہوئے اہم قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔ سیاحت، تفریح اور جدید ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کی مسلسل ترقی نے سعودی شہریوں کے لیے روزگار کے نت نئے مواقع پیدا کیے ہیں اور بے روزگاری کی شرح کو کافی کم کیا ہے۔
سعودی عرب نے اپنے شہریوں کے معیار زندگی کو بڑھانے پر زبردست توجہ دی ہے۔ حکومت نے سماجی بہبود کے مختلف پروگرام نافذ کیے ہیں جو سستی رہائش، صحت کی دیکھ بھال اور سماجی تحفظ کو اولیت دیتے ہیں۔ سعودی حکومت کا مقصد معیار زندگی کو بہتر بنانا اور اپنے تمام شہریوں کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔ سعودی شہریوں کی خوشحالی، آسودگی اور اطمینان ان کے چہروں، لہجوں اور رویوں سے ہر دم عیاں ہے اس کے علاؤہ سواریاں شاندار، رہائشیں بے مثال اور مساجد اپنے تزئین و آرائش کے اعتبار سے کمال کی ہوتی ہیں، ہر مسجد میں کجھور، پانی، ٹیشو پیپر اور خوبصورت فرنیچر نظر آتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں تعلیم اور سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری سعودی عرب کی خاص ترجیح رہی ہے۔ حکومت نے تعلیمی نظام کو مضبوط کرنے، تعلیمی نصاب کے معیار کو بہتر بنانے اور طالب علموں میں جدت اور تخلیق کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے اور سعودی طلباء کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے وظائف اور تعلیمی تبادلے کے بے شمار پروگرام آغاز کیے گئے ہیں۔ 2023 میں سعودی حکومت نے، سعودی نوجوانوں کو، دنیا بھر کے لیے ریکارڈ سکالرشپس فراہم کئے تھے مزید برآں، ملک میں ایک قابل ذکر سائنسی کمیونٹی وجود میں آئی ہے جو کہ تحقیق و ترقی کے عمل میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کا ذریعہ بنا ہے۔
سعودی عرب اپنے عالمی اثر و رسوخ کو مستحکم کرتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں سرگرم عمل رہا ہے۔ مملکت نے سفارتی تعلقات کو فروغ دینے اور دیگر ممالک کے ساتھ موثر اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس نے 2020 میں G20 سمٹ سمیت مختلف بین الاقوامی کانفرنسوں کی میزبانی کی ہے، جس میں ایک عالمی رہنما کے طور پر اپنی صلاحیت اور تدبر کا خوب مظاہرہ کیا ہے مزید برآں، نیوم جیسا پراجیکٹ، جو کہ صنعت، تجارت، سیاحت، ثقافت اور سائنسی جدت کے تناظر میں مستقبل کا ایک شاندار منصوبہ ہے، نے عالمی توجہ مبذول کرنے سمیت سعودی عرب کے بین الاقوامی اثر و رسوخ کو بڑھانے میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔
سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں امن، خوشحالی اور عالمی اثر و رسوخ کی طرف پیش رفت کرتے ہوئے قابل ذکر کامیابیاں اپنے نام کیے ہے۔ مذہبی قیادت، معاشی تنوع، سماجی بہبود، تعلیمی جدت، سائنسی ترقی اور عالمی وحدت میں سعودی عرب کی فعال شمولیت نے، سلطنت کا عزم اپنے شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور عالمی برادری میں اس کے کردار کو واضح اور نمایاں کیا ہے۔ اپنے ہمہ جہت منصوبے "وژن 2030” کے ساتھ، سعودی عرب اپنے اہداف کو حاصل کرنے اور ایک خوشحال اور بااثر مستقبل بنانے کے راستے پر دلجمعی اور یکسوئی سے گامزن ہے۔
ہم نے رمضان المبارک کی انتیسویں ویں شب کے تراویح اور نماز عشاء تبوک یونیورسٹی کی جامع مسجد میں چھوٹے بھائی سید کفایت اللہ جان اور دو عزیز کزنز سید عباس شاہ اور سید اعزاز عالم جان کی معیت میں آدا کی۔ یہ مسجد اپنے فن تعمیر اور ماحول کے اعتبار سے گویا ایک شاہکار ہے۔ داخل ہوتے ہی سکون اور اطمینان کا ٹھنڈا میٹھا احساس ہوتا ہے جیسے پا کر روح جھوم اٹھتی ہے۔ تبوک یونیورسٹی میں نماز کے بعد خوب گھومیں پھریں، ساتھ ساتھ بھائی کفایت اللہ جان آگاہ بھی کرتے رہے ہم نے معلومات اور مشاہدات کی روشنی میں اس یونیورسٹی کو سعودی عرب کی ایک اچھی اور معیاری یونیورسٹی قرار دے دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ یونیورسٹی ان شاءاللہ مملکت اور امت کے نوجوانوں میں تعلیم و تحقیق کے دائروں کے اندر بہترین کردار ادا کرے گی۔ تبوک یونیورسٹی میں ملائیشیا اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے طلباء قابلِ ذکر تعداد میں موجود ہیں ان کے ساتھ ساتھ افریقی نوجوان بھی نظر آئیں۔ پاکستانی طلباء کو بھی یہاں موجود تعلیمی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے توجہ دینی چاہیے یاد رہے تبوک یونیورسٹی کے تمام معلومات اس کے ویب سائٹس پر موجود ہیں۔