جنوبی وزیرستان ؛ اکاؤنٹنٹ جنرل کا چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو خط، جنوبی وزیرستان میں ضلعی اکاؤنٹس دفاتر کے لیے دفتر مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا نے چیف سیکرٹری کو ایک اہم خط لکھا ہے جس میں جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کے لیے الگ الگ ضلعی اکاؤنٹس دفاتر کے لیے دفتر کی جگہ مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اس وقت یہ دفاتر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ڈیرہ اسماعیل خان میں کام کر رہے ہیں، تاہم مقامی عوام کو ڈی آئی خان آ کر بل جمع کرانے اور ان کی پیروی کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
خط میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ عوامی مسائل کے پیش نظر ضلعی اکاؤنٹس دفاتر کو فوری طور پر متعلقہ اضلاع میں منتقل کیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان کو ہدایت دی جائے کہ وہ محفوظ اور موزوں سرکاری عمارت کی نشاندہی کریں اور جلد از جلد دفاتر کی منتقلی کے لیے اقدامات کریں۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اپر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے عملے کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر دفتر کو لدھا منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ ڈپٹی کمشنر کے "ناٹ فار سین فنڈز” اور دیگر خفیہ فنڈز کے غلط بل پاس نہیں کرے گا۔
مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف انتظامی بحران کو جنم دے سکتی ہے بلکہ شفافیت اور اختیارات کے دائرہ کار پر بھی سوالات اٹھاتی ہے۔ حکام بالا سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کر کے اس تنازعے کو حل کریں تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔