پندرویں صدی کے اطالوی ڈپلومیٹ اور مصنف ” نیکولو مکیاویلی” نے اپنے معرکہ آرا اور مشہور زمانہ کتاب ” دی پرنس” میں لکھا ہے .
There is nothing more important than appearing to be religious.
ایمل ولی خان کے حالیہ کچھ بیانیوں پر کچھ لوگ جو وہی ایجنڈا رکھتے ہیں لیکن عوامی نیشنل پارٹی میں نہیں اسی طرح ایک غیر منظم گروہ جو اپنے ناکارہ لیڈر کے عوض پاکستان بیچھنے کو تیار ہے اور کچھ نیشنل پارٹی کی صفوں میں سے نکل کر برہم ہوگئے کہ بیانیہ میں تبدیلی آگئی ہے ۔
اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی بات ایک طنز آمیز ضرب المثل بن چکی ہے ، شادی کیلئے اٹھارہ سال عمر مقرر ہونے کی بات پر ایمل ولی خان کا موقف سنتے ہی پہلے سے بدظن لوگوں نے اس کو آڑے ہاتھوں لے لیا ۔
کسی کے بقول ایمل مذہبی کارڈ استعمال کر رہا ہے ، مذہب کے نام پر ووٹ لینا چاہتا ہے ۔
اگر یہی سچ ہے تو اپنے کامیابی کیلئے اس نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے ، مشرق میں مذہبی ہونے سے زیادہ پُر اثر چیز کوئی نہیں ۔
اگر وہ واقعی مخلص ہے کہ کبھی قومی سلامتی کی بات کرتا ہے تو کبھی مذہب کے ساتھ متوازی چلنے کی بات کہ ” اسلام سے زیادہ لبرل کوئی اور مذہب نہیں ” ۔
اور پیچھے بیٹھے جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر مولانا عطاء الرحمن اس کیلئے میز مارکر اس کو سراہتا ہے ۔ یہی مذہبی طبقہ جو روزِ اول سے اس پارٹی اور ان کے سربراہان سے بدظن رہا ہے ، آج اگر کچھ بیانیوں کے بدولت وہ قریب آرہے ہیں اور ان کے درمیان کدورت کم ہورہی ہے تو کونسی بری بات ہے ۔
ایک طبقہ جن کا ملکی سلامتی ، خارجہ امور ، مذہبی ومعاشرتی حقوق پر چُپ رہنا شیوہ رہا ہے ، ایسے مواقع پر قیامت برپا کرے اور نیگیٹو پروفائلنگ کرے تو ان کو کس نگاہ سے دیکھا جائے ؟
اسی طرح ایوان صدر میں آل پارٹی کانفرنس میں بہت ہی قابلِ ستائش بات کی کہ ہمیں فلسطینیوں کے مسائل اون کرنے سے پہلے ان سے پوچھنا چاہیئے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔ اور پاکستان کے مسلمان زمین پر جہادی ایلیمنٹ کو پروموٹ کرنے والوں سے درخواست ہے کہ وہی لوگ اب اسرائیل بھیجیں ۔
مزید یہ کہ آپ کے ملک میں خود غزہ سٹرپس بن رہے ہیں اور وہ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ ہیں تو پچاس سال بعد رونے سے بہتر ہے ابھی معاملات اور ناراضگیاں سلجھانے کا تہیہ کریں ۔
دن بدن یہ سیاسی پختگی صوبے میں اے این پی کی سیاسی پوزیشن مستحکم ہونے کیلئے نیک شگون ہے ۔