انوار بھائی جان

ٹیپو! دروازہ بند کر دو۔ میں بھاگ کر گیا اور دروازہ بند کر دیا۔ میرے کان میں یہ ان کی آخری آواز تھی۔ آج اس بات کو ٹھیک 49 سال ہو چکے ہیں۔ ان کی آواز اور یہ جملہ میرے کان میں ایسے ہی تروتازہ ہے جیسے 49 سال پہلے آج ہی کے دن تھا۔ جسے سن کر میں نے دروازہ بند کر دیا تھا۔ اور پھر وہ دروازہ ان کے لیے کبھی نہ کھلا۔ وہ کبھی اس چوکھٹ پر پلٹ کر نہیں آئے۔

کوئی ایسے جہاندیدہ اور تجربہ کار بھی نہ تھے، صرف 24 سال کے۔ لیکن وہ اباجی کا اعتماد تھے۔ 73 کا سن تھا۔ اباجی ایران جاتے ہوئے پریشان تھے کہ ان کے پیچھے ماں جی اکیلی ہوں گی، اور بچوں کے بغیر کیسے دل لگے گا۔ کہنے لگے، "ٹکٹ اور پاسپورٹ آپ کے ہاتھ میں ہے، اور تہران سے اسلام آباد آنے میں اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنا اسلام آباد سے پنڈی گھیب۔ جب دل اداس ہوا تو جہاز میں بیٹھ کر واپس آ جائیے گا۔” اور اباجی نے ان کا منہ چوم لیا۔

وہ ہم سب میں مختلف تھے، اور خوش نصیب بھی۔ انہیں بچپن اور اوائلِ جوانی میں باباجی کی خدمت کا موقع ملا تھا۔ باباجی کے آخری لمحات تک وہ ان کے ساتھ رہے۔ ان سے فارسی پڑھی۔ گاؤں کے معاملات میں اباجی خود سے زیادہ ان پر بھروسہ کرتے تھے۔ "میں نہ بھی رہا تو میرا بچہ ماں جی کا خیال رکھے گا” اباجی اکثر کہا کرتے تھے۔ لیکن بچہ خود ہی چلا گیا۔

بدنما داغ یہ دامن سے مٹے گا کیسے
گر گیا شاخ سے غنچہ تو کھلے گا کیسے
دشمنوں سے تو نمٹ لیتا ہے انوار مگر
دوستوں کے جو چلے تیر، بچے گا کیسے

اماں جی بتایا کرتی تھیں کہ سقوطِ ڈھاکہ پر بہت روئے تھے۔ اُن کے یہ اشعار سقوط ڈھاکہ پر ہی ہیں۔ نیشنل سینٹر میں مباحثے ہو رہے تھے۔ پتا چلا تو جا کر موضوع پوچھا، اپنا نام لکھوایا اور پہلا انعام لا کر اماں جی کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ نہ جانے کتنے مباحثے اور کتنے انعام، الماری بھری ہوئی تھی۔ ایسے ہی تھے وہ۔ ان کی لکھی ہوئی تقریروں پر آج بھی لوگ پہلا انعام لے آتے ہیں۔

ہمارے گھر کے پاس ہی اسکول تھا، جہاں مجھے داخلہ دلوانے لے کر گئے تھے۔ مجھے یاد ہے اور بھی بہت سے بچے اپنے گھر والوں کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ ہم اسکول کے ہال میں بیٹھ کر انتظار کر رہے تھے، جہاں ایک شیلف پر بہت بڑی ٹرافی دھری تھی۔ میرے گال پر چوم کر بولے، "جب تم تقریر کرو گے تو یہ ٹرافی تمہیں انعام میں ملے گی۔” پھر میں نے بہت سی تقریریں کیں، ٹرافیاں ملیں۔ لیکن وہ نہیں تھے۔

مجھے اسکول کا سارا ہوم ورک کرواتے تھے، اور امتحان کی تیاری۔ کبھی کبھی تھپڑ بھی جڑ دیتے تھے۔ اور پھر ایک دم گود میں لے کر بہت سا پیار۔ ہر شام ارجنٹینا پارک کی سیر۔ میرے سینڈل سمیت لحاف میں اپنے پاس لٹا لیتے تھے۔ کسی تھری ڈی فلم کی طرح میری آنکھوں میں آج بھی متحرک ہیں۔ ان کا چلنا، بات کرنا، گنگنانا، اور ایک جھٹکے سے ماتھے پر آئی ہوئی لٹوں کو پیچھے کرنا۔ آج بھی سب دیکھ سکتا ہوں۔

اسلام آباد میں لوک ورثہ والی سڑک پر کسی ظالم نے ان کے موٹر سائیکل کو گاڑی سے ٹکر مار دی۔ پولیس نے اباجی سے کہا: "آپ اُس کے خلاف درخواست دیں۔”
"درخواست دینے سے میرا بچہ تو واپس نہیں آ جائے گا۔”
پتا نہیں کس جگرے کے ساتھ اباجی نے یہ کہا ہوگا۔

ان کے چلے جانے کے بعد میں نے اماں جی کو کبھی صحت مند اور ہشاش بشاش نہیں دیکھا۔ اور اب جب میں خود ایک والد ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ کیسے اباجی نے ان کی جدائی برداشت کی ہو گی۔ کیسے ان کا سینہ پھٹا ہو گا۔ کیسے اماں جی نے ان کا بے جان جسم دیکھا ہو گا۔ اماں جی کہا کرتی تھیں: "تمہارے اپنے ہوں گے تو تمہیں پتا چلے گا۔”

ہاں، اب مجھے پتا چلتا ہے۔ جب مصعب یا حذیفہ دیر سے گھر آئیں تو کیا گزرتی ہے۔ پھر میں انہیں کہتا ہوں: "تمہارے اپنے ہوں گے تو تمہیں پتا چلے گا۔”

سارے منظر میری آنکھوں میں نقش ہیں۔ ان کی میت صحن میں تھی۔ عورتیں ہی عورتیں، تل دھرنے کی جگہ نہیں۔ پاس اماں جی بیٹھی تھیں، نڈھال۔ ہر کوئی رو رہا تھا۔ پھر بکھوال سے ماماجی آئے۔ کیسے ان سے لپٹ کر بلک بلک کر روئے۔ ہر طرف آہیں اور سسکیاں۔ جب میت اٹھائی جانے لگی تو بڑے بھائی جان نے مجھے اٹھا کر آگے کیا اور بولے: "بھائی جان جا رہے ہیں، انہیں پیار کر لو۔”
میں نے ان کے گال پر پیار کیا۔ اور پھر گاؤں سے بڑے قبرستان تک کا لمبا سفر۔ واپسی پر میں نے اباجی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ وہ خاموش تھے۔ بالکل خاموش۔

49 برس بیت گئے۔ میں نے بڑھاپے میں قدم رکھ دیا۔ اماں جی چلی گئیں۔ اباجی چلے گئے۔ بچپن کے وہ چند سال جو ان کے ساتھ گزرے، دل و دماغ پر نقش ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ان کا خیال نہ آتا ہو۔ میری ڈائری میں آج بھی ان کی بلیک اینڈ وائٹ تصویریں پڑی ہوئی ہیں۔

جن کا چہرہ تھا دمکتے موسموں کی آرزو
ان کی تصویریں بھی اوراقِ خزانی ہو گئیں

جب بھی ان کی وفات کا دن، 31 مئی، آتا ہے دل سینے سے باہر کو لپکتا ہے۔ خوش نصیب تھے کہ پیچھے ماں باپ تھے، مغفرت کی دعائیں کرنے والے۔ اللہ تعالیٰ انوار بھائی جان کو جنت الفردوس میں اباجی اور اماں کا ساتھ عطا فرمائے۔ آمین۔
ان للہ انا الیہ راجعون

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے