اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف سرکشی: گریٹا تھنبرگ غزہ جانے والے امدادی جہاز پر سوار

سوئیڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور آئرش اداکار لیام کننگھم غزہ کی جانب روانہ ہونے والے ایک امدادی جہاز میڈلین پر سوار ہو چکے ہیں۔

یہ مشن اسرائیل کی 17 سالہ ناکہ بندی کے خلاف احتجاج کے طور پر “فریڈم فلوٹیلا کولیشن” (FFC) کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ جہاز پر موجود تمام افراد رضاکار ہیں، اور اس میں علامتی امدادی سامان بیرلوں کی صورت میں لادا گیا ہے۔

یہ مشن اس سے قبل کی کوششوں کی یاد تازہ کرتا ہے، خاص طور پر 2010 میں ترکی کے بحری جہاز ماوی مرمرا پر ہونے والے حملے کی، جب اسرائیلی کمانڈوز نے بین الاقوامی پانیوں میں اُس پر حملہ کیا تھا اور نو کارکنوں کو ہلاک کر دیا۔

اسی قافلے میں پاکستانی صحافی طلعت حسین بھی ایک اور جہاز پر سوار تھے۔ اُنہیں اسرائیلی حکام نے حراست میں لے کر بعد میں ملک بدر کر دیا تھا۔ یہ واقعہ پاکستان سمیت مسلم دنیا میں شدید ردعمل کا باعث بنا تھا (اس جرات کی وجہ سے میں طلعت حسین کی بہت عزت کرتا ہوں)۔

حالیہ مشن میں بھی خطرات واضح ہیں۔ اسی ماہ کے آغاز میں “فریڈم فلوٹیلا کولیشن” نے دعویٰ کیا کہ ایک اور جہاز کونشینس پر، جو مالٹا کے پانیوں کے قریب تھا، ڈرون حملہ کیا گیا جس کا الزام اسرائیل پر عائد کیا گیا ہے۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن یہ واقعہ اس مہم کے خطرناک ہونے کی نشان دہی کرتا ہے۔

گریٹا تھنبرگ نے کہا: “چاہے یہ مشن کتنا ہی خطرناک کیوں نہ ہو، دنیا کی خاموشی اس نسل کشی کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہے۔”

فلوٹیلا کے منتظمین نے اس سفر کو شہری مزاحمت کی ایک علامت قرار دیا ہے، جو غزہ پر عائد اجتماعی سزا کے خلاف ایک پرامن احتجاج ہے، جسے کئی انسانی حقوق کی تنظیمیں شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔

میڈلین اپنی منزل کی جانب گامزن ہے—یہ ان کئی کوششوں میں ایک اور باب ہے جن کا مقصد غزہ کی محاصرے کی صورتحال کو توڑنا اور دنیا کو جھنجھوڑنا ہے۔ یہ جہاز اپنی منزل تک پہنچتا ہے یا ماضی کے قافلوں کی طرح روکا جاتا ہے، یہ وقت ہی بتائے گا۔

ربِ کریم ان غیر مسلموں کی حفاظت فرمائے جو غزہ کے بھوکے اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے اس خطرناک سفر پر روانہ ہوئے ہیں۔ شاید کبھی مسلمان بھی سرکش ہو کر غیرت میں آ جائیں!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے