مذہب اور مقصد حیات

یہ سوال محض ایک سائنسی مفروضہ نہیں بلکہ ایک وجودی پکار ہے ایسا سوال جو انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم محض کیسے پیدا ہوئے نہیں، بلکہ کیوں پیدا ہوئے۔ جب ہم کائنات کی بےکراں وسعتوں کو دیکھتے ہیں، جہاں کہکشائیں جنم لیتی اور مٹتی ہیں، جہاں تہذیبیں ابھرتی اور زوال پذیر ہوتی ہیں، تو انسانی دل ایک معنی، ایک مقصد، ایک منزل کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب انسان کے شعور میں ایک روشنی بن کر ابھرتا ہے نہ صرف اخلاقی رہنمائی کی صورت میں، بلکہ زندگی کو ایک گہرے مفہوم اور کائناتی تسلسل کا حصہ بنانے کی صورت میں۔

چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقاء انسانی مرکزیت کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ وہ تصور جو کہتا ہے کہ ہم کسی الٰہی ارادے کا نتیجہ نہیں بلکہ کروڑوں سالہ فطری انتخاب کی پیداوار ہیں، بظاہر انسان کی عظمت کو کم کر دیتا ہے۔ مگر کیا سائنسی حقیقت کا مطلب یہ ہے کہ زندگی بے معنی ہے؟ نہیں ارتقاء ہمیں یہ بتاتا ہے کہ زندگی کیسے وجود میں آئی، لیکن مذہب یہ سوال اٹھاتا ہے کہ وہ کیوں آئی۔

فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ یہ دونوں سوال "کیسے” اور "کیوں” الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔ انسان جب دکھ، موت یا ناانصافی کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، تو مذہب اسے محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر بیانیے کا حصہ بنا دیتا ہے۔ اس بیانیے میں ہر درد کا مطلب ہے، اور ہر موت نئی زندگی کی طرف ایک در کھولتی ہے۔

معروف فلسفی کارل یاسپرس نے کہا تھا: "انسان ہمیشہ ماورائی کو تلاش کرتا ہے”۔ مذہب اسی تلاش کی عملی شکل ہے، جو انسان کو کائنات میں ایک مقام، ایک شناخت اور ایک ذمہ داری عطا کرتا ہے۔

فیوڈور دوستوئیفسکی نے لکھا: "اگر خدا نہیں ہے تو سب کچھ جائز ہے”۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی الٰہی اصول نہ ہو، تو اخلاقی معیار بھی بکھر جاتے ہیں۔ فریڈرک نطشے جب کہتا ہے: "خدا مر چکا ہے” تو وہ خوشی سے نہیں بلکہ گہری تشویش سے یہ اعلان کرتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اگر انسان خدا کے تصور کو مٹا دے گا، تو اس کے ساتھ زندگی کا مطلب بھی مٹ جائے گا۔

وہ پوچھتا ہے: "ہم نے زمین کو سورج سے جدا کر دیا ہے، اب ہم کس سمت جائیں گے؟” یہ سوال آج بھی ہمیں گھیرے ہوئے ہے۔

ہماری دنیا میں علم بہت ہے، مگر حکمت کم۔ ہمارے پاس وسائل ہیں، مگر مقصد نہیں۔ ہم جدید ہیں، مگر مضطرب۔ اس تضاد میں مذہب اب بھی ایک ایسا راستہ دکھاتا ہے جہاں امید ہے، تعلق ہے، اور مفہوم ہے۔

فرانز کافکا کی تحریریں اس داخلی بے چینی کا عکس ہیں۔ اس کے کردار ایسے نظام میں پھنسے ہوتے ہیں جو نہ قابلِ فہم ہوتا ہے اور نہ رحم دل۔ "دی ٹرائل” میں ایک شخص کو ایسے مقدمے میں گرفتار دکھایا گیا ہے جس کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ انسانی وجود کی بے معنویت کی علامت ہے۔ مگر کافکا مکمل ناامید نہیں۔ ایک خط میں وہ لکھتا ہے: "مسیح تب آئے گا جب اس کی کوئی ضرورت نہ رہے گی”۔

شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ نجات باہر سے نہیں، اندر سے آتی ہے۔ جب انسان اپنے وجود میں معنی پا لیتا ہے تو اسے بیرونی نجات دہندہ کی ضرورت نہیں رہتی۔

اسی طرح کارل مارکس کا مشہور جملہ "مذہب عوام کی افیون ہے”اکثر سطحی طور پر لیا جاتا ہے۔ مارکس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مذہب جھوٹ ہے، بلکہ یہ کہ مذہب ان مظلوموں کے لیے ایک سہارا ہے جن کے پاس دنیا میں امید کا کوئی اور وسیلہ نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ مذہب انسانی دکھ کا عکس بھی ہے اور اس پر احتجاج بھی۔ اگر مذہب ان زخموں کو آواز دے سکتا ہے جو سماج نے دیے ہیں، تو شاید اس میں کوئی داخلی سچائی بھی پوشیدہ ہے۔

مارکس آریلیئس، جو رومی شہنشاہ اور فلسفی تھا، ایک اور زاویے سے زندگی کو دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے:

"تمھارے پاس صرف اپنے ذہن پر اختیار ہے، باہر کی چیزوں پر نہیں۔ یہ سمجھ لو، اور تم طاقت پا جاؤ گے۔”

اگرچہ آریلیئس کسی ذاتی خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا، مگر وہ "لوگوس”ایک کائناتی عقل یا اصول پر یقین رکھتا تھا۔ اس کے نزدیک نیکی کا مطلب تھا: اس کائناتی نظم کے ساتھ ہم آہنگی میں جینا، بالکل ویسے ہی جیسے ایک مومن خدا کی رضا کے مطابق جینا چاہتا ہے۔

اور پھر سوال آتا ہے: زندگی کا مطلب کیا ہے؟

یہ سوال صرف مذہب یا فلسفے کا نہیں بلکہ ہر انسان کی اندرونی چیخ ہے۔ مذہب اس سوال کا جواب دیتا ہے نجات، محبت، عبادت، اور الوہی مقصد کی صورت میں۔ فلسفہ کہتا ہے کہ زندگی کا کوئی پہلے سے طے شدہ مطلب نہیں؛ ہمیں خود اسے تخلیق کرنا ہے۔

ژاں پال سارتر جیسے وجودی فلسفی کہتے ہیں کہ انسان اپنی مرضی سے اپنی تقدیر بناتا ہے۔ مگر اس "آزادی” کے ساتھ ایک بوجھ بھی آتا ہے زندگی کی تمام تر ذمہ داری کا بوجھ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب اور فلسفہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ دونوں ہی انسان کو سکھاتے ہیں کہ درد کو کیسے برداشت کیا جائے، اور موت کو کس نظر سے دیکھا جائے۔

وِکٹر فرانکل، جو نازی اذیت گاہوں سے زندہ بچ نکلے، نے اپنی کتاب "Man’s Search for Meaning” میں لکھا:

"جس کے پاس جینے کا کوئی ‘کیوں’ ہوتا ہے، وہ تقریباً ہر ‘کیسے’ کو جھیل لیتا ہے۔” یہ جملہ مذہب کے دل میں چھپی اس حکمت کو بیان کرتا ہے جو کہتی ہے کہ زندگی، خواہ کتنی ہی تکلیف دہ ہو، بے معنی نہیں۔

تو کیا ڈارون درست تھا؟

حیاتیاتی لحاظ سے، غالباً ہاں۔ سائنس ہمیں کائناتی واقعات کی وضاحت دیتی ہے مگر وہ مقصد یا مفہوم نہیں دیتی۔ سائنس سوال کرتی ہے "یہ کیسے ہوا؟”

مذہب کہتا ہے: "یہ کیوں ہوا؟”
سائنس بیان کرتی ہے، مذہب معنی عطا کرتا ہے۔

نطشے نے ہمیں نِہلزم سے خبردار کیا۔
کافکا نے ہمیں انسانی اجنبیت دکھائی۔
مارکس نے ہمیں سماجی ناانصافی کا شعور دیا۔
آریلیئس نے ہمیں اندرونی ضبط سکھایا۔

اور مذہب؟

مذہب ان سب کے درمیان ایک ایسی آواز ہے جو کہتی ہے:”تمھاری زندگی بامعنی ہے۔ تم اہم ہو۔ تمھارا درد رائیگاں نہیں جاتا۔”

شاید سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ انسان وہ مخلوق ہے جو مفہوم کی تلاش کرتا ہے چاہے کائنات خاموش ہو یا گونجتی ہوئی۔ ہم کہانیاں بُنتے ہیں، خدا کو تلاش کرتے ہیں، اخلاق تراشتے ہیں، تاکہ ہم جینے کے قابل ہو سکیں۔

اور مذہب ان کہانیوں میں سب سے قدیم اور سب سے گہرا بیانیہ ہے ایک ایسا بیانیہ جو سرگوشی کرتا ہے:

"تمھاری زندگی ایک مقصد رکھتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے