محنت کی پہچان : یونیورسٹی کی ایک کہانی

وہ دن آج بھی میری یادوں کی اس لائبریری میں محفوظ ہے جسے وقت دھندلا نہیں سکا۔ نیا نیا داخلہ لیا تھا، بی ایس آئی ٹی کا پہلا سمسٹر، نئے چہرے، نئی کتابیں، نئی دنیا۔ ابھی یونیورسٹی کی راہداریوں سے مانوس ہونا شروع ہی کیا تھا کہ ایک دن لائبریری کے سامنے ایک نرم لہجے میں آواز آئی:

"کیا آپ فری لانسنگ کرتے ہیں؟”

میں نے مڑ کر دیکھا، ایک باوقار اور سنجیدہ سی لڑکی کھڑی تھی۔ "جی، تھوڑا بہت” میں نے جواب دیا۔

"میرے لیے ایک ویب سائٹ بنا سکتے ہیں؟” اُس نے بغیر تمہید کے کہا۔

"کیوں؟” میں نے بے ساختہ پوچھا۔

"میں ای کامرس شروع کرنا چاہتی ہوں، لیکن میرے پاس بجٹ نہیں ہے۔ آپ میرے لیے ویب سائٹ بنا دیں، میں کچھ کماؤں گی تو آپ کو پیسے دے دوں گی۔”

میری طبیعت میں تجسس جاگ اٹھا، "کیا بیچو گی؟”

"برقعے۔ مختلف ڈیزائن کے۔” اُس نے اعتماد سے کہا۔

میں نے ایک لمحے کو سوچا، "کیا واقعی بک جائیں گے؟”

وہ ہنس کر بولی، "ٹرائے تو کریں گے۔”

میں نے ہامی بھر لی۔

یونیورسٹی کی کلاسز ختم ہونے کے بعد ہم اکثر لائبریری کے پچھلے کارنر میں بیٹھتے۔ میں لیپ ٹاپ کھولتا، وہ ڈیزائن اور تفصیلات دیتی۔ وقت کم تھا، مصروفیت زیادہ، لیکن جذبہ کچھ اور ہی تھا۔ صرف ایک ہفتے میں ویب سائٹ تیار ہوئی۔ لسٹنگ کی، تصاویر لگائیں، اور جیسے جیسے دن گزرے، ویب سائٹ پر آرڈر بھی آنے لگے۔

فرح ہار ماننے والی نہیں تھی۔ ایک ہفتے میں اُس نے ویب سائٹ مینجمنٹ سیکھ لی۔ وہ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ تھی، میں آئی ٹی کا طالب علم۔ ڈیپارٹمنٹ الگ تھے، لیکن خواب ایک جیسا: خود کچھ کرنا۔

پھر ایک دن وہ نظر آنا بند ہو گئی۔ میں سمجھا مصروف ہو گی، یا شاید یونیورسٹی کے بعد فوراً چلی جاتی ہو۔ وقت گزرتا گیا۔ میں اپنے دوسرے سمسٹر میں داخل ہو چکا تھا، اور اُس کے بارے میں خیال بس کبھی کبھار آتا۔

چند دن پہلے وہ اچانک کوریڈور میں پیچھے سے پکارتی ہے: "حسین! حسین!”

میں نے پلٹ کر دیکھا — وہی فرح، چہرے پر کامیابی کی چمک۔

"السلام علیکم حسین! کیسے ہو؟”

"ٹھیک، تم کیسی ہو؟”

"بہت اچھی۔ تمہاری پیمنٹ بھی ریڈی ہے۔ یونیورسٹی کا خرچ خود اٹھا رہی ہوں۔”
میں نے کہا
"وہی برقعے؟”

"جی ہاں، وہی۔” اُس نے فخر سے کہا۔

پھر وہ پوچھنے لگی، "پیمنٹ کیسے دوں؟”

میں نے صرف اتنا کہا، "یہ میری طرف سے گفٹ ہے۔ بس تم محنت کرتی رہو۔”

ہم نے چائے پی، باتیں کیں، اور پھر اپنے اپنے راستے چل دیئے۔

راستے میں سوچتا رہا… ایک لڑکی، محدود وسائل، بغیر کسی تجربے کے، محض عزم اور سیکھنے کے جذبے کے ساتھ اتنا آگے بڑھ گئی۔ اور ہم؟ لڑکے، جو ہر وقت سوشل میڈیا پر مصروف رہتے ہیں، ہر وقت کہتے ہیں کہ کام نہیں ہے، لیکن خود کوئی کوشش نہیں کرتے۔

اصل فرق حالات میں نہیں، محنت میں ہوتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے