خود اور خدا

کہیں نہ کہیں، ہر باشعور روح پر ایک لمحہ ایسا وارد ہوتا ہے، جب دنیا اپنی تمام تر رنگینیوں کے باوجود بےمعنی محسوس ہونے لگتی ہے، جیسے ایک ایسا آئینہ جس میں عکس تو ہو، حقیقت نہ ہو۔ یہ لمحہ خوشیوں کے شور میں نہیں آتا؛ یہ خاموشی کی تاریکی میں جنم لیتا ہے۔ اور یوں ایک انسان — جو بظاہر زندہ ہے، متحرک ہے، دوسروں کی نظروں میں کامیاب بھی ہے — اندر سے ٹوٹنا شروع ہوتا ہے۔ وہ خود سے سوال کرتا ہے: "کیا میں واقعی زندہ ہوں، یا فقط ایک مسلسل اداکاری کر رہا ہوں؟”

یہ شخص، جس کا نام بھی شاید اب کوئی معنی نہیں رکھتا، رفتہ رفتہ یہ جاننے لگتا ہے کہ اُس کا مسئلہ کوئی خارجی رکاوٹ نہیں، بلکہ ایک داخلی خلا ہے۔ وہ خلا جو خودی کی گمشدگی سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وجودی بحران جنم لیتا ہے — ایک ایسی کیفیت جہاں انسان خود کو ہی اجنبی لگنے لگتا ہے۔

کافکا کی دنیا میں یہی اجنبیت ایک مرکزی تھیم ہے۔ "دی ٹرائل” کا جوزف کے اس خاموش عدالت کے روبرو کھڑا ہوتا ہے جس کا نہ کوئی جج ہے، نہ کوئی قانون، اور نہ ہی کوئی واضح جرم۔ مگر اس کے باوجود، وہ مجرم ہے — شاید اس لیے کہ وہ موجود ہے، شاید اس لیے کہ وہ کچھ جاننا چاہتا ہے جو بتایا نہیں جا سکتا۔ جوزف کے توسط سے کافکا ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا گناہ اُس کی آگاہی کی خواہش ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے، اور اسی سوال کی پاداش میں وہ سزاوار ٹھہرتا ہے۔

لیکن اگر کافکا اس سوال کو ایک المیہ کی صورت میں پیش کرتا ہے، تو نطشے اسے ایک انقلابی موقع سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے: "خدا مر چکا ہے!” — یہ اعلان فقط مذہب کی موت کا نہیں، بلکہ انسانی آزادی کی ابتدا کا اشارہ ہے۔ اب انسان پر لازم ہے کہ وہ خود کو خود تخلیق کرے، اپنے اندر اس ’اوورمین‘ کو دریافت کرے جو نہ صرف اپنی اخلاقیات خود وضع کرتا ہے بلکہ اپنی تقدیر کا معمار بھی خود بنتا ہے۔

اسی سوال کے گرد یہ شخص بھی گردش کرتا ہے: "کیا میری شناخت مجھے وراثت میں ملی ہے، یا یہ محض ایک سماجی تشکیل ہے جسے میں نے سچ مان لیا؟” یہاں انسان کو دو راستے دکھائی دیتے ہیں: یا تو وہ دوسروں کے آئینے میں خود کو دیکھے، یا پھر اندھیری راہوں میں تن تنہا، اپنی اصل تلاش کرے۔ پہلا راستہ تسلی بخش ہے، مگر جعلی؛ دوسرا تکلیف دہ ہے، مگر حقیقی۔

کافکا کے "میٹامورفوسس” میں گریگر سیمسا کی یہ تبدیلی — ایک انسان سے کیڑے میں — محض جسمانی تبدیلی نہیں، بلکہ اس روحانی زوال کی نمائندگی ہے جو تب آتا ہے جب انسان خود کو دوسروں کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دے۔ گریگر کو کیڑا معاشرہ بناتا ہے، اور وہ خود بھی اس شناخت کو قبول کر لیتا ہے۔ وہی المیہ اس شخص پر بھی طاری ہوتا ہے: وہ محسوس کرتا ہے کہ شاید وہ ہمیشہ دوسروں کی نظروں سے اپنا تعارف حاصل کرتا رہا، اور اس تعارف میں اپنی اصل کھو چکا ہے۔

نطشے کی نظر میں یہ لمحہ تباہی کا نہیں، تجدید کا ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان، اگر چاہے، تو اپنے اندر کے "دیوتا” کو جگا سکتا ہے — وہ الٰہی جو نہ آسمان میں ہے نہ صحیفوں میں، بلکہ خود انسان کی روح کے تاریک گوشے میں دفن ہے۔ نطشے کہتا ہے: "وہ جو اپنی روح کی گہرائیوں میں اترنے کی جرات کرتا ہے، وہ خود خدا بننے کی راہ پر چل نکلتا ہے۔”

مگر یہ جرات ہر ایک میں نہیں ہوتی۔ اکثر لوگ اپنی شناخت دوسروں کے ذریعے جاننا چاہتے ہیں — جیسے کوئی آئینہ خود کو بتائے کہ وہ کون ہے۔ یہ آئینے جھوٹ بولتے ہیں، کیونکہ وہ سماج کے رنگین فریم میں بند ہوتے ہیں۔ لیکن جو شخص آئینے کو توڑنے کی ہمت کرتا ہے، وہ اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے کہ اس کی روح کیسا منظر رکھتی ہے: بدصورت، غیر واضح، مگر اپنی — ایک ناقابلِ تقلید سچ۔

یہی وہ لمحہ ہے جب انسان کو پہلی بار "خدا کی خاموشی” سنائی دیتی ہے۔ وہ خاموشی جو چیختی نہیں، مگر وجود کو چیر دیتی ہے۔ دعا، عبادت، معرفت — سب کوششیں — ایک خالی آسمان کی طرف پھینکا گیا پکار لگنے لگتی ہیں۔ کافکا کہتا ہے، "خدا کی غیر موجودگی ہی اس کی سب سے واضح موجودگی ہے۔” یعنی، شاید خدا وہی ہے جو ہر سوال کا جواب نہیں دیتا، تاکہ انسان خود سوال کی گہرائی میں اترے۔

اس تلاش میں جو سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ خودی کوئی چیز نہیں جسے پایا جا سکے؛ یہ ایک مسلسل تشکیل کا عمل ہے۔ ایک جدوجہد، ایک درد، ایک ریاضت — اور شاید یہی جدوجہد خود زندگی کا مقصد ہے۔

نطشے اور کافکا کے فکری بیچ میں معلق یہ شخص اب جان چکا ہے کہ وہ محض ایک سوال ہے، جس کا جواب کسی اور کے پاس نہیں۔ اگر جواب ہے، تو صرف اسی کے اندر، اور اس تک پہنچنے کے لیے، اُسے خود اپنے اندھیرے میں اترنا ہو گا۔ اب وہ دوسروں سے شناخت نہیں مانگتا، بلکہ اپنی ہر سانس سے خود کو تراشتا ہے۔ اور شاید، اسی عمل میں، وہ خدا سے دوبارہ رشتہ قائم کرتا ہے — ایک ایسا خدا جو باہر نہیں، اندر بولتا ہے، مگر صرف تب جب انسان خاموشی کی زبان سیکھ لے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے