شیطان کی حقیقت

انسان جب دنیا میں ہوش سنبھالتا ہے تو دو طرح کے طرزِ ہائے زندگی اس کے سامنے نمودار ہوتے ہیں۔ ایک نمونہ وہ جو اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ہوتا ہے یہ ہدایت کہلاتا ہے۔ پیغمبر کی سیرت میں یہ طرزِ زندگی کامل صورت میں موجود ہوتی ہے۔ دوم وہ طرزِ زندگی جس کو شیطان کی سرپرستی اور حمایت حاصل ہوتی ہے۔ یہ گمراہی قرار پائی ہے۔ منشاء خداوندی کو چھوڑ کر دوسرے طریقوں پر زندگی بسر کرنے سے جوں جوں نمونے اور اعمال صورت گر ہوتے ہیں وہ شیطانی نمونے ہوتے ہیں۔

صداقت، دیانت، عدالت، محبت، نفاست، امانت، شرافت، فکر آخرت اور عبادت والی زندگی اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ زندگی ہوتی ہے جبکہ جھوٹ، بے حیائی، شقاوت، بغاوت، خیانت، نفرت، بے خودی (نشے تماشے)، رذالت اور غفلت والے اعمال و کردار شیطان کو بہت راس آتے ہیں۔ ان دو طرزِ ہائے عمل نے کارگاہ حیات کو کشمکش کا ایک ازلی اور ابدی میدان بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ صورتحال ہر فرد کے لیے کڑی آزمائش ہے کہ وہ علم، عقل، ارادے اور اختیار کے وسائل سے کام لے کر کوئی میں سے ایک دھارا اپنے لیے منتخب کریں۔

شیطان ایک ازلی و ابدی طاقت ہے جو انسان کو انصاف اور ہدایت سے روک کر اسے گمراہی میں مبتلا کر رہا ہے۔ شیطان اپنے اصل کے اعتبار سے ایک وجود بھی ہے، ایک مخلوق بھی ہے، ایک کیفیت بھی ہے، ایک حالت بھی ہے اور زیادہ وسیع تناظر میں وہ ایک پورا نظام اور ماحول بھی ہے۔ شیطان کا انسان سے پہلا واسطہ حضرت آدم علیہ السلام کے توسط سے ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدائش کے بعد ایک خاص درخت کے پاس جانے سے روک دیا تھا۔ شیطان نے اسی وقت حضرت آدم علیہ السلام کو بہلا پھسلا کر اور اپنی جھوٹی خیر خواہی کا یقین دلا کر اسے شجر ممنوعہ کے قریب لے کر ہی دم لیا۔ (یاد رہے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدائش کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی اذن سے ارادے کی آزادی میسر ائی تھی اس لیے اس کے سامنے دونوں آپشن موجود تھے چاہے تو اللہ کا حکم بجا لائے یا حکم عدولی کر گزرے یہ دونوں ممکن تھا)۔ حضرت آدم علیہ السلام کو تب احساس ہوا جب وہ حکم عدولی کر گزرے تھے۔

شیطان دو طریقوں سے کام لے کر بندے کو گمراہی کے راستے پر ڈالتا ہے اور یہ کام اتنی صفائی، چالاکی، مہارت اور سرعت سے انجام دے دیتا ہے کہ بسا اوقات بندے کو تب ہوش آتا ہے جب کسی خرابی کا وہ ارتکاب کر گزرے۔ ایک گناہ، جرائم اور مظالم کو آراستہ و پیراستہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ نشے میں سرور، بے حیائی میں لطف، جرم پہ جرات اور ظلم میں فائدے کا محسوس ہونا باقاعدہ طور پر من جانب شیطان ہوتا ہے۔ شیطان نے آغاز میں حضرت آدم علیہ السلام کو محض ایک ممنوعہ درخت آراستہ کر کے پیش کیا لیکن بعد میں جا کر اولاد آدم کو اس نے ایک پورا نامطلوب نمونہ زندگی سجا کر پیش کیا۔

دوم ایمان، نیکی اور خیر کے حوالے سے دلوں میں مایوسی لانا، اسے بڑھانا اور بلآخر دل و دماغ اور اخلاق و کردار کے تمام زاویوں تک اسے پھیلانا تاکہ بندہ ایمان، نیکی اور خیر سے مستقل طور پر محروم ہو جائے مثلاً ایک بندہ کافی عرصے سے نماز نہیں پڑھتا لیکن اچانک کسی لمحے اس کے دل میں نماز کا احساس جاگنے لگا تو عین اسی وقت شیطان بطورِ ہتھیار یہ حربہ استعمال کرنے لگ جاتا ہے کہ تیری ایک نماز سے اب کیا ہوگا؟ اتنا عرصہ جو چھوڑ چکے تھے اس کا کیا بنے گا؟ تم ویسے بھی اللہ سے اتنے دور ہوچکے ہو کہ اب ایک نماز سے اس کے قریب نہیں پہنچ سکتے وغیرہ وغیرہ۔

یہ شیطانی وسوسہ ہوتا ہے اور مقصد اس سے یہ ہوتا ہے کہ انسان کبھی بھی نیکی کی جانب پیش رفت نہ کریں۔ اس لیے حدیث میں مایوسی کو کفر قرار دی گئی ہے کیونکہ مایوسی ہمشیہ بندے اور اس کے رب کے درمیان حائل ہوتی ہے۔ غالب گمان یہی ہے کہ برسوں نماز نہ پڑھنے والے کے دل میں سینکڑوں مرتبہ یہ خیال آیا ہوگا کہ آئیے خدا کی جانب جکھتا ہوں لیکن شیطان نے "بر وقت وسوسے” سے اس کو پھر غفلت میں ڈالا ہوگا کہ "تو اب سنبھلنے والا نہیں”۔

خدا کی یاد، خدا کی عبادت اور خدا کی قربت پانا انسان کی فطرت میں نہایت گہرائی کے ساتھ شامل جوہر ہے۔ انسان اگر کچھ دیر کے لیے اپنے باطن پر غور کرنے بیٹھ جائے تو یقین کریں اس کی پوری ہستی سے بے چین اور مضطرب لہریں خدا کی جانب اٹھتے ہوئے محسوس ہوں۔ گناہ پہ جرات اور نیکی کے معاملے میں گومگو کی کیفیت طاری ہونا ایک باقاعدہ شیطانی حربہ ہے اس پہ قابو مضبوط ایمان، خدا پر گہرے اعتماد، پختہ قوت ارادی اور پاکیزہ معمولات اور ماحول کے ذریعے ممکن ہے۔

شیطان سے بچنا کوئی اتفاقی واردات نہیں یہ ایک باقاعدہ ارادی عمل ہے۔ اس کے لیے خاص اہتمام سے کام لے کر ہی زندگی کے شاہراہ پر اگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں
پہلی چیز دعا اور عبادت ہے۔ دعا اور عبادت میں یہ تاثیر بدرجہا موجود ہے کہ ان سے بندے کو خدا کے قریب ہونے اور شیطان سے دور ہونے میں مدد ملتی ہے۔

دوسری چیز اخلاق و کردار میں معروف دائروں کا لحاظ رکھنا ہے۔ معروف کے دائروں کو نظر انداز کر کے اختیار کئے جانے والے رویے انسان کو ذہنی اور روحانی طور پر دیوالیہ بنا دیتے ہیں۔ اس سے اس کی شخصیت میں نظم و ضبط ختم ہو جاتا ہے، اس کی سوچوں اور جذبات میں اطمینان معدوم ہو کر کشمکش پیدا ہو جاتی ہے اور یہی چیز بندے کو منکرات کے گھڑے میں گرا دیتی ہے۔

تیسری چیز اپنی قوت ارادی ہے۔ اپ کے دل میں اگر کسی اچھے کام کا احساس جاگنے لگ جائے تو اس کا گلا نا گھونٹے بلکہ نیکی یا اچھائی کا جو کام یا موقع سامنے ہو، کر گزرے۔ یہ چیز بھی شیطان کے خلاف انسان کی قوت مدافعت بڑھا دیتی ہے۔ کبھی کبھی کی نیکی یا اچھائی بھی بسا اوقات دوام پالیتی ہے۔ زندگی یکساں حالات اور واقعات کا مجموعہ نہیں، مختلف بلکہ متصادم اشیاء اور احوال کا شیرازہ ہے جس میں مختلف تجربات اور کیفیات سے گزرنا کوئی انہونی بات نہیں بس سنبھل کر چلنا مطلوب ہے۔

چوتھی چیز اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ ذکر اللہ اور بندے کا ایک مستحکم رابطہ ہے۔ ذکر میں بلا شبہ بڑی طاقت پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ روح کی بنجر زمین کو تیزی سے سیراب کرنے والا عمل ہوتا ہے۔ ذکر سے انسان کا قلب نیکی اور خیر کی جانب مائل رہتا ہے۔ رحمن کے ذکر سے بندے کے دل میں موجود وہ شقاوت دور ہونے میں بڑی مدد میسر آتی ہے جو انسان کو بدی اور گمراہی میں مبتلا کرنے والی ہے۔

پانچویں چیز خیر کی خاطر اجتماعی جدوجہد کا حصہ بننا ہے۔ شیطان نے ہزارہا سال کی تاریخ میں اپنا ایک مستقل نظام وضع کیا ہے۔ اس نظام میں مخصوص اصول، اعمال، اخلاقیات، رویے، ترجیحات، اہداف اور معاملات پائے جاتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں اس نے اپنے زیر اثر "انسان” کی مدد سے خدائی منشاء کے خلاف ترتیب دیا ہے۔ یہ جو سود ہے، یہ جو بے حیائی ہے، یہ جو حق تلفیاں ہیں، یہ جو منشیات ہیں، یہ جو بدترین مظالم کی مختلف شکلیں اور صورتیں چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں یہ ساری چیزیں اس نظام کے پیدا کردہ یا پروان چڑھائے ہوئے ہیں جو انسان کو حق کے مطابق چلنے سے روک کر شیطان کی ہمنوائی پر آمادہ رکھتی ہیں۔ آپ تنہا رہ کر یا کونوں کھدروں میں بیٹھ کر یا انفرادی سطح پہ کچھ نہ کچھ "نیک اعمال” کا اہتمام کر کے شیطان یا شیطانی نظام کا مقابلہ قطعاً نہیں کرسکتے آپ کے لیے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو خدائی نظام کے نفاذ کے لیے جاری و ساری اجتماعی جدوجہد میں فٹ کریں ورنہ شیطان کا مقابلہ تو در کنار الٹا شیطانی نظام کے اثرات سے بچنا تک ممکن نہیں ہوتا۔

دنیا میں شیطان کے تین قسم ہیں۔

ایک قسم جنوں کی نسل سے ہے یہ وہی ہے جس کا واسطہ پہلے پہل حضرت آدم علیہ السلام سے پڑا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس شیطان کی نسل میں تیزی سے اضافہ ہوا جیسے جیسے انسانوں کی تعداد بڑھنی لگی یہ شیطان بھی ویسے ویسے اپنی موجودگی بڑھاتے رہے۔

دوسرا شیطان انسی نسل سے ہے۔ بعض انسان گناہ، جرائم اور مظالم پر اس قدر اصرار کر بیٹھتے ہیں اور اصلاح کی ہر صورت اور امکان اپنے حق میں ناکام بنا دیتے ہیں کہ پھر نتیجتاً وہ خالص شیطان یا شیطان کے دوست اور بھائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے پھر اکثر و بیشتر ہی نہیں بلکہ ٹوٹلی اعمال و افعال اور اغراض و مقاصد شیطانی بن جاتے ہیں۔

تیسری قسم وہ کیفیات ہوتی ہیں جو مخصوص حال احوال کے اندر پیدا ہو رہی ہیں مثلاً بے حیائی کے ارتکاب اور ماحول میں جو مخصوص کیفیت انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے پھر اپنی تسکین کے لیے وہ جن اعمال کا ارتکاب کراتی ہے یہ بھی ایک مستقل شیطانی قسم ہے۔ شہوت کی شدت ٹھیک ٹھاک انسانوں کو حیوان بنا دیتی ہے۔ اس طرح حرص و ہوس کی کثرت کس طرح انسانوں سے نوع بہ نوع مظالم کراتی ہے۔ مختصر یہ کہ ناپسندیدہ جذبات اور کیفیات بھی باقاعدہ شیطان کی ایک قسم ہے۔

شیطان، شیطانی اور شیطانیت کو ہوش و حواس میں رہ کر وسیع پیمانے پر ایک نظام کی صورت میں جب تک شکست نہیں دی جاتی تب تک اصلاح احوال کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔ شیطان محض وسوسہ نہیں ڈالتا بلکہ اس کے ساتھ ایک پورا نظام بھی کارفرما ہے جو مخلوق خدا کو خیر، انصاف اور ہدایت سے روک کر گمراہی میں مبتلا کر رہا ہے۔ شیطان کے پاس اگر ایک نظام ہے اور واقعی ہے تو ہمیں بھی رحمن کے نظام کا سہارا لے کر اس کے ساتھ ٹکر لینا پڑے گا تب خیر کی قوتیں کامیاب ہوگی اور نتیجتاً یہ زمین نیکی، خیر، تعمیر اور انصاف سے بھر جائے گی اور یوں انسان زندگی کا مقصد پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے