گزشتہ رات تقریباً 12 بجے اسلام آباد کو جی ٹی روڈ سے ملانے والی نو تعمیر شدہ مارگلہ روڈ پر درمیانی لین میں تقریباً 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں تھا کہ اچانک دو تیز رفتار گاڑیوں نے دائیں اور بائیں سمت سے مجھے انتہائی تیزی سے کراس کیا۔ میرا اندازہ ہے کہ اس وقت ان گاڑیوں کی رفتار تقریباً 160 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم نہیں ہوگی۔
میں تھوڑی دور آگے گیا تو دیکھا کہ روڈ کے انتہائی بائیں جانب ایک موٹر سائیکل سوار شخص رکا ہوا تھا، جس کی موٹر سائیکل تو اسٹارٹ تھی مگر پچھلی لائٹ نہیں تھی۔
جب اس کے قریب پہنچا تو اسے انتہائی خوفزدہ حالت میں پایا، کیونکہ اس کے قریب سے انتہائی تیزی سے گزرنے والی گاڑی تقریباً اسے چھو کر گزری تھی۔
مجھے اس شخص سے ہمدردی کے ساتھ اس پر شدید غصہ بھی آ رہا تھا، کیونکہ اس کی موٹر سائیکل کی بیک لائٹ نہیں تھی اور روڈ کے جس حصے میں یہ واقعہ ہوا، وہاں پر اسٹریٹ لائٹس بھی نہیں تھیں۔
"یار تمہیں خدا کا واسطہ ہے، اپنا نہیں تو اپنے بچوں کا خیال کرو، اور ان کا خیال نہیں تو کار والوں کا کر لو، کیونکہ تمہاری پچھلی لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے کسی دن تم اس ویران سڑک پر اڑا دیے جاؤ گے”، میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے اس شخص سے کہا۔
مگر وہ شخص اس وقت اتنا خوفزدہ اور جان جانے کے خوف سے لرز رہا تھا کہ اس نے مجھے کوئی جواب ہی نہیں دیا۔
چند ہفتے قبل میں نے اپنے 16 سالہ بیٹے عبداللہ سے کہا کہ مجھے موٹر سائیکل پر قریبی مارکیٹ لے چلے، تو اس نے انکار کر دیا۔ اور جب میری ڈانٹ ڈپٹ پر موٹرسائیکل نکالی، تو اسے 20-25 کی رفتار سے چلانے لگا۔
"یہ کیا لڑکیوں کی طرح چلا رہے ہو؟”
جب میں نے پوچھا، تو کہنے لگا: "بابا، میں موٹر سائیکل چلاتے وقت PTSD کا شکار ہو جاتا ہوں۔”
برسبیل تذکرہ، PTSD یعنی Post Traumatic Stress Disorder کا مطلب ہے ایک ایسی ذہنی کیفیت، جو کسی شدید خوفناک یا صدمے والے واقعے کے بعد پیدا ہوتی ہے، جس میں انسان بار بار اُس واقعے کو یاد کر کے پریشانی، بے چینی اور ڈر محسوس کرتا ہے۔
میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل وہ رات میں بغیر بتائے موٹر سائیکل لے کر نکلا تھا۔ اچانک پیچھے سے آنے والی ایک گاڑی اسے چھو کر گزری، جس کے نتیجے میں وہ موٹر سائیکل سمیت سڑک پر گر گیا۔ پیچھے سے آنے والی ایک دوسری گاڑی اس کے سر کے بالوں کو تقریباً چھوتی ہوئی گزری، جس کے بعد وہ موٹرسائیکل دوبارہ چلا نہیں سکا اور اسے تقریباً تین کلومیٹر گھسیٹتا ہوا گھر تک واپس آیا تھا۔
عبداللہ کو وہ واقعہ بھی یاد ہے، جب اس کے دو اسکول فیلوز تیز رفتاری سے موٹرسائیکل چلاتے ہوئے ایک گاڑی سے جا ٹکرائے تھے، جس کے نتیجے میں ایک موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا تھا، جبکہ دوسرا کئی دن تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد جان کی بازی ہار گیا تھا۔
میں نے جب 2010 میں پہلی دفعہ سیکنڈ ہینڈ ایف ایکس خریدی تھی، تو انتہائی احتیاط کے ساتھ چلایا کرتا تھا۔ پہلا ایکسیڈنٹ بھی ایک موٹر سائیکل سوار کے ساتھ ہوا تھا، جب اس نے رانگ سائیڈ سے آتے ہوئے روڈ کراس کرنے کی کوشش میں میرے پیسنجر سائیڈ کے دروازے پر موٹرسائیکل دے ماری تھی۔
میں جب گاڑی روک کر نیچے اترا اور اسے اٹھایا، تو وہ الٹا مجھ پر ہی برس پڑا تھا۔ بقول اُس کے، مجھے ہی رک جانا چاہیے تھا کیونکہ وہ روڈ کراس کر رہا تھا۔
چند سال قبل میں کراچی میں ہڈیوں کے ماہرین کی کانفرنس اٹینڈ کر رہا تھا، جہاں پر مجھے بتایا گیا کہ روزانہ کراچی میں حادثات کے نتیجے میں تقریباً پانچ سو موٹر سائیکل سواروں کی ہڈیاں ٹوٹتی ہیں، جن میں سے کئی جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ کئی زندگی بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔
اور جب میں نے معروف سرجن اور ڈاؤ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی سے ان کے کراچی پریس کلب کے دورے پر پوچھا تھا کہ آپ کوئی ایسی بات بتائیں جس کے نتیجے میں انسانی جانیں بچ سکیں، تو ان کا کہنا تھا:
"موٹر سائیکل چلانے والے ہیلمٹ پہنیں، کار چلانے والے سیٹ بیلٹ باندھیں، حادثات میں اموات کی شرح آدھی ہو جائے گی۔” تو یہ میری زندگی کے چند اہم ترین اسباق میں سے ایک تھا۔
لیکن میں زاتی طور پر موٹر سائیکل سوار کے لیے ہیلمٹ کے ساتھ ساتھ اگلی اور پچھلی فعال لائٹیں، انتہائی بائیں جانب آہستہ چلنے، اور احتیاط کو بھی لازمی حصہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ
بقول میرے ایک "ٹن پارٹی” دوست کے:
"بھائی، نشے میں بندے کا peripheral vision یعنی دائیں بائیں دیکھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ نشے میں ڈرائیور صرف سامنے دیکھتا ہے، اور اگر رات کے وقت بغیر ٹیل لائٹ والا موٹر سائیکل سوار سامنے آ جائے، تو وہ اڑ جاتا ہے۔”
موٹر سائیکل سوار بیٹے، بیٹیوں کی خیر ہو۔
جس ملک میں ماس ٹرانزٹ یعنی عوامی سواریاں نہ ہوں، وہاں پر غریب کی سواری موٹرسائیکل ہی رہ جاتی ہے۔
فاروق روزانہ 50 کلومیٹر سفر کر کے اپنی یونیورسٹی جاتا ہے اور 50 کلومیٹر طے کر کے واپس آتا ہے۔ جس وقت وہ گھر سے نکلتا ہے اور جب تک گھر کے اندر واپس نہیں آتا، اُس کی ماں کی جان حلق میں اٹکی رہتی ہے۔ سڑکیں قاتل ہیں اور سڑک پر چلنے والے بے رحم۔ ایسے میں احتیاط لازم ہے اور رب العالمین کا کرم ہی جان بچا سکتا ہے
ہیلمٹ کی پابندی، اگلی پچھلی لائٹوں کا درست ہونا، سائیڈ مررز لگوانا، اور موٹر سائیکل کے دونوں جانب گارڈز لگوانا تاکہ گرنے کی صورت میں ٹانگوں اور گھٹنوں کی حفاظت ہو سکے چند ایسی احتیاطیں ہیں جنہیں بروئے کار لانا لازم ہے — باقی حفاظت کرنے والا تو رب العالمین ہی ہے۔
وما علینا الا البلاغ