دشکہ میں ڈرون حملے کے خلاف مکین بازار میں شٹرڈاؤن ہڑتال، ہزاروں افراد کا احتجاج،

جنوبی وزیرستان ؛ دشکہ میں ڈرون حملے کے خلاف مکین بازار میں شٹرڈاؤن ہڑتال، ہزاروں افراد کا احتجاج، سیکیورٹی حکام سے مذاکرات ناکام۔

تحصیل مکین کے علاقے دشکہ میں گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز کے مبینہ ڈرون حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں معصوم بچوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے کے اندوہناک واقعے کے خلاف آج مکین بازار میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

مقامی عوام کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہزاروں افراد نے سیکیورٹی فورسز کے دفتر کے سامنے احتجاجی جرگہ منعقد کیا، جس میں قبائلی عمائدین، مشران، اور متاثرہ خاندانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

احتجاجی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ایم این اے زبیر وزیر ملک بشیر. ملک ریاض اور دیگر مقررین نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے قبائلی علاقوں میں آئے روز ڈرون حملے اور گولہ باری سے نہ صرف بے گناہ شہری خصوصاً بچے، خواتین اور بزرگ نشانہ بن رہے ہیں بلکہ اس سے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

مقررین نے کہا کہ ہم پر امن اور محب وطن پاکستانی ہیں، دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ان قبائل کو اب مزید سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر
متاثرہ خاندانوں نے حکومتی امداد اور معاوضے کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچوں کے خون کا سودا کسی قیمت پر نہیں ہو سکتا۔ جرگہ مشران نے سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام کے ساتھ مذاکرات کیے، تاہم ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔

جرگہ کے شرکاء نے واقعے کے ردعمل میں فیصلے لینے کا اعلان کرتے ہوئے 10 جولائی کو مکین میں تمام محسود قبائل کا گرینڈ جرگہ طلب کر لیا ہے، جس میں آئندہ کیلئے لائحہ عمل اور قبائلی مؤقف کو حتمی شکل دی جائے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے