خوشحال خان خٹک کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے البتہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اُن کا فلسفہ حیات ،جدوجہداور علم و فن سے متعلق آگہی کا باقاعدہ انتظام موجودہ اور آنے والی نسلوں کےلیے کیا جائے ۔خوشحال خان خٹک پشتون تاریخ میں نابغہ روزگار کی حیثیت رکھتے ہیں ۔وہ مختلف علوم و فنون پر دسترس رکھتے تھے۔اُن کی زندگی کو مختلف جہتوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جیسے مغلوں کے لیے لڑی گئی جنگیں اور مغلوں کے خلاف جنگیں ،مشغلہ شکار اور علم وفن،حیران کن بات یہ ہے کہ اُنھوں نے ساری عمر جنگیں لڑیں اس پر مستزاد کہ اُنھوں نے شکار کا شوق بھی پورا کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ علم و فن میں بھی کمال تک پہنچے ۔
اس لیے وہ بجا طور صاحب سیف و قلم ہیں ۔خوشحال خان خٹک کے سیف و قلم کے پشتونوں پر بہت زیادہ احسانات ہیں ۔اُنھوں نے "سیف و قلم”میں حسین امتزاج پیدا کیا ہے ۔عام طور پر دانا و حکما کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عمل کا درس دیتے ہیں لیکن خود بے عملی کا شکار رہتے ہیں ۔قراٰن مجید میں بھی ارشاد ہے جس کا مفہوم ہے : "وہ بات تم کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں "۔خوشحال خان خٹک کی زندگی سیف و قلم کی عملی تفسیر ہے ۔وہ افغان کو یوں جھنجھوڑتے ہیں :
په جهان د ننګيالي دي دا دوه کاره
يا به وخوري ککرۍ يا به کامران شي
خوشحال خان خٹک نے پشتونوں کو اعلیٰ مقاصد کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی ۔اُن کے خیال میں قومیں تب بنتی ہیں جب وہ اعلٰی مقاصد کے حصول مد نظر رکھیں ۔
لکه باز په لوئې لوئې ښکار زمه نظر دې
نۂ چې ڰرزي ڰونڰټ نیسی باد خورک یم
خوشحال خان خٹک افغان میں غیرمعمولی حوصلہ اور ہمت پیدا کرنے کے خواہاں ہیں کیوں کہ اگر ایسا نہ ہو سکا تو یہ استعماری قوتوں کے بھنور میں بُری طرح پھنس جائیں گے۔
که آسمان دې د مزری په خلۂ کښی ورکه
د مزری په خلۂ کښی مه پریږدہ ھمت
خوشحال خان خٹک نے علم و ادب اور تلوار کے ذریعے پشتونوں کے لیے بہت اہم کارنامے انجام دیے ہیں ۔اُن کی خدمات فقط کلیات تک محدود نہیں ہیں بلکہ انھوں نے پشتو رسم الخط اور سادہ و سلیس نثر کی بنیاد بھی رکھی ہے ۔جس پر آج پشتو زبان و ادب کی ایک عظیم عمارت تعمیر کی گئی ہے اور اس پرمزید گلکاری کی جارہی ہے ۔اُن کی تمام تر تصنیفات پشتون تاریخ میں اہمیت کی حامل ہیں ۔ان کی تصنیفات میں بے شمار مو ضوعات ہیں جن میں تصوف ،غیرت وحمیت ،شجاعت ،قوم پرستی ،محبت ،جنس اور شکار وغیرہ نمایاں ہیں اگر صرف ” دستار نامہ "کا بغور مطالعہ کیا جائے تو حکمت و دانائی کی نئی پرتیں کھلتی ہیں ۔پشتو زبان وادب میں اپنی خدمات کے حوالے سے خوشحال بابا خود کہتے ہیں ۔
که د نظم که د نثر که د خط دے
په پښتو ژبه مې حق دې بے حسابه
نۂ پخوا پکښی کتاب ؤ نۂ ئې خط ؤ
د دې مه پکښی تصنیف کڑل څو کتابه
خوشحال شناس سر اولف کیرو نے خوشحال خان خٹک کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
” خوشحال خان خٹک پشتونوں میں بڑے باکمال پشتون ہیں ۔یہ اپنے دور کے بہت بڑے بہادر ،صاحب تلوار اور صاحب قلم تھے اور حقیقت یہ ہے کہ خوشحال خان بابائے پشتو زبان ہیں۔”
مغربی دانش ور اور تعلیم یافتہ طبقے نے خوشحال خان خٹک کو بہت پسند کیا میجر راورٹی نے اُن کی 100 نظموں کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیا جو 1862 کو لندن چھپ گیا ۔علامہ اقبال نے یورپ میں اپنے قیام کے دوران یہ ترجمہ شدہ نظمیں پڑھیں تو اُن کو بہت پسند آئیں اور اُنھوں نے Khushal Khan Khattak The Afghan warrior poet کےنام سے مضمون لکھا جو حیدر آباد دکن کے ایک رسالے "اسلامک کلچر” میں 1928 کو شائع ہوا۔اقبال لکھتے ہیں :
"خوشحال خان کی شاعری میں ابتدائی عرب شاعری کی روح کارفرما نظر آتی ہے ۔جب ہم اس کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بیان کی سادگی اور حق گوئی واضح شکل میں دیکھتے ہیں ۔اس میں عرب ہی کی طرح آزادی اور جنگ سے محبت کا اظہار ملتاہے اور زندگی کے بارے میں نقطہ نظر اور تنقید کا رنگ ڈھنگ بھی ویسا ہی نظر آتا ہے ۔”
اقبال نے اس مضمون میں اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ کوئی پشتون عالم و فاضل خوشحال خان کی علمی و ادبی کارناموں کا جائزہ لے اور اس پر تحقیق کرے۔اقبال نے اُن کو”شاعر ِ افغان شناس ” اور "حکیم ملت” کہا ہے :
خوش سرود آن شاعر افغان شناس
آنکہ بیند باز گوید بے ھراس
آن حکیم ملت افغانیان
آن طبیب علت افغانیان
راز قومی دید و بے باکانہ گفت
حرف حق باشوخئ رندانہ گفت
خوشحال خان خٹک کی تصنیفات میں افغان قوم کو درس ِ اتفاق اور محبت کا پیغام دیا گیاہے :
دولت د خلقو په اتفاق کښی دے
ھغه به خوار شی چې په نفاق کښی دے
؎ که توفیق د اتفاق پښتانۂ مومی
زوړ خوشحال به دوبارہ شی په دې ځوان
خوشحال خان خٹک نے اپنے اشعار میں پشتونوں کی کمزوریوں ،خامیوں ،کوتاہیوں اور غلط رسم و رواج کی نہ صرف نشان دہ کرائی ہے بلکہ کہا ہے کہ جب تک پشتون قوم اعلٰی اخلاق نہیں اپناتی تب تک ان کی انفرادیت قائم نہیں ہوسکتی :
د مزریو مړنتوب په لښکر نۂ وي
مټ ئې ھر کله یوازې په خپل ځان شی
خوشحال خان خٹک نے پشتونوں کے مجموعی رویے اور کردار پر سخت تنقید کی ہے تاکہ اُن کی اصلاح ہوجائے ۔اتنے باریک نکات کی نشان دہی کرانا بھی گہرے مشاہدے اور انسانی نفسیات سے واقفیت کے متقاضی ہیں اور وہ ایک ماہر نباض ہیں :
د سڑی لوئي په رنڰ په جوسه نۂ دہ
په ھمت دہ په حکمت او په ہنر دہ
یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال نے اُن کی تخلیقات اور تالیفات میں اُن کے فلسفہ حیات تک رسائی حاصل کرکے یہ محسوس کیا کہ خوشحال صرف فردوسی نہیں بلکہ رستم بھی ہے وہ نہ صرف شاعر بلکہ ایک نڈر قائد بھی ہیں ۔اقبا ل اس نتیجے پرپہنچے کہ سید جمال الدین افغانی کے بعد خوشحال خان خٹک قول و فعل میں "افغان شناس” ہیں اور اپنی قوم کے حکیم رہنما اور مخلص لیڈر ہیں کیوں کہ ایک طرف علامہ اقبال نے خوشحال خان خٹک کے فکری نظام اور تعلیمات کو بے حد پسند کیا اور دوسری طرف اقبال پشتون قوم سے بہت سی توقعات رکھتے تھے ۔
یا بندہء صحرائی یا مرد کوہستانی
فطرت کے مقاصد کی کرتاہے نگہبانی
خوشحال خان خٹک اس قول پر پورے اُترتے ہیں اس لیے ان کی فکری ہم آہنگی اور جذباتی ہم آہنگی نے اقبال کو اس بات پر مجبور کیا کہ اُنھیں "افغان شناس اور حکیم افغانیان” کہیں ۔ خوشحال خان خٹک خود کہتے ہیں :
چې دستار تړي ھزار دی
د دستار سړی په شمار دی
ایک دانا حکیم کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف بیماری کی تشخیص کرے بلکہ اس کا علاج بھی تجویز کرے ۔ خوشحال خان خٹک نے بھی ایسا ہی کیاکہ پشتونوں کے تمام مصائب اشکار کیے اور اس سے نجات کا طریقہ بھی بتا دیا ۔محسن احسان اُن کے بارے میں کچھ یوں گویا ہیں :
تُو جام غزل میں قطرہ قطرہ
صہبائے حیات گھولتا ہے
اشعار میں تیرے نکتہ نکتہ
پشتون ضمیر بولتا ہے