عتیق احمد صدیقی کی کالم نگاری پر ایک نظر

ابلاغ عامہ میں کالم کی کوئی متعین یا طے شدہ تعریف نہیں ہے بلکہ کالم کو کالم نگار کا ذاتی مشاہدہ اور تجزیہ قرار دیا جاتا ہے ۔اس کا کوئی مخصوص فنی سانچہ بھی نہیں ہے البتہ کالموں کے موضوعات سے اُس کو شخصی کالم ،سیاسی کالم ،فُکاہیہ کالم ،سماجی کالم ،اسپورٹس کالم ،اقتصادی کالم وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔

زیر بحث "تقویم” عتیق احمد صدیقی کے کالموں کا وہ مجموعہ ہے جس کا زمانی و مکانی تعلق اکیسویں صدی سے ہے ۔اکیسویں صدی کی ابتدا ہی سیاسی انتشار سے ہوئی ۔اس میں رونما ہونے والے سانحے نائن الیون نے پوری دنیا کا سیاسی منظر نامہ ہی بدل ڈالا ۔یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہوکر رہ گئی کیوں کہ ایک خوفناک جنگ نے نئی صدی کا استقبال کیا ،خصوصاً عراق ،افغانستان ،پاکستان اور لیبیا بیرونی اور اندرونی جنگوں کی لپیٹ میں آگئے ۔

انتہاپسندی ،دہشت گردی ،تشدد اور خوف نے ڈیرے ڈال دیے ۔عتیق احمد کے یہ کالم 2002 سے 2012 ء تک کے عرصے پر محیط ہیں ۔509 صفحات پر مشتمل یہ ضخیم مجموعہ جون 2024 میں شائع ہوا ،جس میں رواں صدی کے پہلے عشرے کے تاریخی حقائق ،سیاسی داؤ پیچ، تہذیبی و انہدام ، تخریبی اذہان ،شہادتوں ،ہلاکتوں ،ہجرتوں ،جلاوطنیوں ، بے بسیوں ،مجبوریوں اور بے اعتباریوں کی کتھا دو ٹوک انداز میں بیان کی گئی ہے ۔وہ اس حوالے سے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھتے بلکہ حالات و واقعات کے چشم دید گواہ بنے ہیں اور جہاں حقائق اُن کی نظروں سے پوشیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے وہاں وہ باقاعدہ تحقیق کے تقاضے پورے کرکے اعداد و شمار سے رجوع کرتے ہیں ۔ایک کالم میں لکھتے ہیں:

"انگریزی اخبارات نے جنرل مشرف کے اس فیصلے پر ایک مختلف زاویے سے تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 1989 ء میں فوجی حکمرانوں کا جہاد کشمیر شروع کرنے کا فیصلہ غلط تھا ۔”دی نیوز” اور "ڈان ” کے ادارتی مضامین کے مطابق 1965 اور 1971 کی بڑی جنگوں میں مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کی پیش رفت میں ناکامی کے بعد فوجی حکمرانوں نے انڈیا کو کشمیر میں ہر جگہ ہر وقت زخمی کرنے کی پالیسی اپنائی ۔”

دیار غیر میں بیٹھ کر اپنے وطن کا مقدمہ لڑنا ،پڑوسی ملک کی مظلومیت کا پرچار کرنا ،ظالموں کی نشاندہی کرانا ،بین الاقوامی پالیسیوں پر تنقید کرنا اور حساس موضوعات پر قلم اُٹھانا بہت دل گردے کا کام ہے لیکن "تقویم” کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عتیق احمد صدیقی نے بڑی جرات سے کام لیا ہے۔

اُن کے کالموں کا کینوس محدود نہیں ہے بلکہ افغان وار کا ذکر کرتے ہوئے وہ تاریخ عالم کے جھروکوں میں جھانک کر پوری دنیا کے سیاسی منظرنامے ،سیاسی و بااثر شخصیات ، بین الاقوامی معاملات ،اقتصادیات،جغرافیائی اور علاقائی صورت حال اور تہذیبی ڈھانچوں پر بحث کرتے ہوئے ملتے ہیں ۔اس ضِمن میں اُن کے کالموں "امریکہ اور پاکستان کا سفارتی مکالمہ ” "افغانستان اور ویت نام ” "انفارمشن وار” جان نیگرو پونٹے "سمیت کئی ایک کالموں کی مثال دی جاسکتی ہے۔اس طرح اُن کے کالموں میں جارج بش،جنرل مشرف،حامد کرزئی ،اسامہ بن لادن ،اوبامہ ،جنرل شجاع پاشا،ریمنڈ ڈیوس،خالد شیخ محمد ،شان اللہ محسود،عافیہ صدیقی،ملاعمر،جنرل سٹینلے، سمیت کئی شخصیات کرداروں کی صورت میں ملتے ہیں ۔

عتیق احمد صدیقی کہیں پر بھی اپنی رائے دینے میں جھجک محسوس نہیں کرتے وہ صحافت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اہم اور حساس خبر پر بھرپور تبصرہ کرتے ہیں ۔کہیں سوال اُٹھاتے ہیں ،کہیں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ملتے ہیں تو کہیں پر سپاٹ انداز میں تجاویز دیتے نظر آتے ہیں ۔وہ جذباتیت کے شکار نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی ایک کیفیت میں ڈوب کر لفظوں کے انبار لگاتے ہیں بلکہ وہ شائستگی کا دامن تھام کر سنجیدگی سے حالات و واقعات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ناصر علی سید صاحب اُن کی کالم نگاری سے متعلق کچھ یوں رائے دیتے ہیں :

"عتیق احمد صدیقی اپنے گرد وپیش کے سیاسی ،سماجی بلکہ ادبی اور ثقافتی نشیب و فراز پر بھی نہ صرف گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ کمال چابکدستی سے اپنی تحریر میں اس کا بلا کم وکاست اظہار بھی کرتے ہیں۔”

اچھی اور بہترین کالم نگاری میں طرزبیان اور دل کش اسلوب اہم کردار ادا کرتا ہے ورنہ کالم صرف ذاتی رائے اور معلومات کا پلندہ بن کر رہ جاتا ہے ۔عتیق احمد صدیقی نے شستہ اور عمدہ اسلوب اپنے کالموں میں برتا ہے ۔اُن کے اسلوب میں ایک خاص توازن،کہانی پن اور تخلیقیت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ "تقویم ” کا مطالعہ کرتے قاری اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا ۔ایک کالم کی ابتدا یوں کرتے ہیں :

"بُرا وقت اچانک آجاتا ہے تو کبھی دستک دے کر آتا ہے ۔پاکستان کے اردگرد تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پتہ دے رہے ہیں کہ کڑے وقت نے اپنا حصار تنگ کرنا شروع کردیا ہے ۔ایسے میں یا دم گھٹنے کی گھڑی کا انتظار کیا جاتا ہے اور یا پھر پوری قوت سے حصار توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔”

عتیق احمد صدیقی سات سمندر پار ہوکر بھی اپنے وطن سے رشتہ قائم رکھے ہوئے ہیں ۔اُن کے سینے میں پاکستانی اور پشوری دل دھڑکتا ہے ۔پشاور کی گلی کوچوں اور قدیم تہذیب کو اُنھوں اپنے اندر زندہ رکھا ہے اور اس کا تحریری اظہار بھی اُن کے ہاں جابجا ملتا ہے۔واصف حسین واصف لکھتے ہیں :

"میرا خیال ہے عتیق کو اگر پاکستان سے عشق نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی کالم نگاری نہ کرتا۔اُس کے کالموں کا بنیادی عنصر پاکستان سے محبت ہے۔”

عتیق احمد صدیقی اس کے باوجود تہذیبی نرگسیت کے شکار نہیں ہوئے اور نہ ہی ایسی ناسٹلجیا میں بہے جو صرف اُن کی ذات کی عکاسی کرتے ہوئے قاری سے رابطہ منقطع کردے بلکہ "تقویم” ایک تاریخی ،تہذیبی اور سیاسی دستاویز ہے جس میں اکیسویں صدی کے پہلے عشرے اور نائن الیون کے بعد رونما ہونے والے انسانیت سوز حالات وواقعات کا ایک مکمل ریکارڈ محفوظ ہوگیا ہے ۔اس میں جگہ جگہ پیش گوئیاں موجود ہیں جس سے آنے والے وقتوں میں اس کتاب کی اہمیت اور زیادہ بڑھے گی ۔میں نہ صرف عتیق احمد صدیقی صاحب بلکہ یہاں کے سخن وروں اور دانش وروں کو بھی اس کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے