اسلامک یونیورسٹی کے زمانہ قیام میں ہمارے عزیز دوست برادرم سہراب واصل کا سیور فوڈز پر ایک دلچسپ تبصرہ ہمیشہ کھاتے ہوئے ہوتا تھا کہ عنایت بھائی "سیور فوڈز سے کوئی سیر ہو کر نہیں بلکہ تھک ہار کر اٹھتا ہے، میں فوری جواب دیتا "جی بالکل، جی بالکل ایسا ہی ہے”۔ ہم اس تبصرے سے نہ صرف محظوظ ہوتے بلکہ دل و جان سے اتفاق بھی کرتے۔
سیور فوڈ محض پلاؤ کباب کی آمیزش سے بنا فاسٹ فوڈ نما قسم کا کھانا نہیں بلکہ ماکولات و مشروبات سے تشکیل پائے ایک مستقل تہذیب کا نام ہے۔ یہاں آپ کو محض کھانے پینے کے کچھ اشیاء ہی نہیں بلکہ ایک مکمل ماحول اور پیکج ملے گا یعنی ذائقہ، غذائیت، خوشبو، نفاست، سلیقہ، سکون، اعتدال، ڈسپلن، خوش نما گرد و پیش، سمارٹ اور مہذب عملہ، مناسب ریٹ، تازہ اور جاذب مواد سمیت بے شمار دیکھی اور ان دیکھی چیزوں سے لوگوں کی ایسی تواضع کی جاتی ہے کہ جیب پر بوجھ پڑے، پیٹ پر اور نہ ہی طبیعت پر۔
مشرقی معاشروں میں دسترخوان محض کپڑے کا ایک ٹکڑا اور کھانے پینے کے لیے مختص وقفے کا نام نہیں بلکہ تہذیب و تمدن کا مرکز ہوتا ہے۔ اسی مرکز پہ جمع ہو کر لوگ باہم خوشیاں بانٹتے ہیں، غموں میں شریک ہوتے ہیں، مختلف سماجی اور ثقافتی تقریبات اور سرگرمیوں کا اہتمام ہوتا ہے، اسی مرکز پر محبتوں، شفقتوں اور مہارتوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور اسی مرکز سے لوگ طاقت، صحت، مسرت اور توانائی پا کر کارگاہ حیات میں، کارہائے نمایاں سر انجام دے رہے ہیں۔ میں ہمیشہ دوستوں سے ایک دلچسپ خیال شیئر کرتا رہتا ہوں کہ "جو دسترخوان پر سرخرو ہوتا ہے وہ ہی دراصل زندگی کے ہر میدان میں سرخرو رہتا ہے اور جو ادھر کمزوری دکھا دیں وہ پھر زندگی کی دوڑ میں بھی پیچھے اور نیچے چلا جاتا ہے، یوں نتیجتاً نقصان اٹھاتا ہے”۔
کھانے پینے کے تناظر میں بہترین پیکج وہ قرار پاتا ہے جو ذائقے اور غذائیت کا حامل ہو، صفائی اور نفاست کے معروف اصولوں سے ہم آہنگ ہو، معاشرے کے معاشی استطاعت اور سماجی قدروں سے مکمل مطابقت رکھتا ہو، اس کی دستیابی اور رسائی ہموار اور تیز ہو مزید برآں ذوق و مزاج کو اپیل کرتا ہوں۔ میرے خیال میں شہر اسلام آباد میں اگر کوئی کام و دہن سے متعلق کوئی مقام مندرجہ بالا خوبیوں سے خوب آراستہ نظر آتا ہے تو وہ بلا شبہ سیور فوڈز ہے۔ یہ مقام بلا مبالغہ تمام طبقات کی رغبت اور اعتماد جیتنے میں کامیاب ہوا ہے، ایسا کہ اس کی کوئی مثال نہیں۔
سیور فوڈ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ راولپنڈی اسلام آباد میں خوشی کا موقع ہو یا پھر تفریح کا، دوستوں کی اکھٹ ہو یا پھر اجتماعی ٹورز، سیاسی جلسے جلوس ہو یا پھر احتجاجی دھرنے، اصلاحی اجتماعات ہو یا پھر مختلف دعوتوں کا اہتمام، اداروں میں ترقی کی خوشخبری ہو یا گھروں میں بچوں کی پیدائش پارٹی کا انعقاد، دوپہر کو دفاتر کے ملازمین ہو یا پھر کالجوں کے طلبہ و طالبات، مشاہدہ یہ ہے کہ اہلیان اسلام آباد کا ایسے ہر موقع پر رخ خود بخود سیور فوڈز ہی کی جانب ہو جاتا ہے۔ سیور فوڈز سے خود میرا واسطہ 2003 میں پڑا تھا جو اب تک بلا توقف قائم ہے۔
طویل خاندانی مشاورت کے بعد 1988 میں گورڈن کالج روڈ راولپنڈی میں دو لاکھ روپے، آٹھ افراد پر مشتمل عملے، ایک چھوٹی سی دکان اور اٹھارہ کرسیوں سے "پلاؤ کباب” کا کاروبار شروع کرنے والے ایک دیندار شخص (جماعت اسلامی سے وابستہ تھے) حاجی محمد نعیم کو شاید اتنے لوگ نہیں جانتے لیکن حیرت انگیز طور پر ان کا "پلاؤ کباب” بے انتہا مقبول ہے جسے راولپنڈی اسلام آباد میں سیور فوڈز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نام سے یہاں کا بچہ بچہ واقف ہے۔ کیمبرج ڈکشنری کے مطابق Savour کھانے سے لطف اندوز ہونے کو کہا جاتا ہے۔
حاجی محمد نعیم کا آبائی تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ کے ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔ موصوف میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد کاروبار سے منسلک ہوگئے تھے۔
حاجی محمد نعیم کو آغاز سے کاروبار کا شوق تھا جیسے ان کے والد صاحب نے محسوس کرتے ہوئے چاول کا کاروبار کرنے کا مشورہ دیا جبکہ خاندان کے کچھ دوسرے بزرگوں نے ریسٹورنٹ کھولنے کی تجویز دی حاجی نعیم نے دونوں مشوروں کو یکجا کر کے پلاؤ کباب والا ریسٹورنٹ قائم کیا۔
باقاعدہ سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ چاول چونکہ پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیاء کی من پسند غذاؤں میں سے ایک ہے لہذا کاروبار اسی کا ہوگا یعنی ریسٹورنٹ کے ذریعے چاول کی کوئی ڈش پیش کی جائے گی۔
حاجی محمد نعیم کے مطابق "ہمارا خیال تھا کہ اچھا اور سستا کھانا لوگوں کو فراہم کیا جائے گا اور اسی خیال کو ہم نے اپنا رہنما اصول بنایا اور اسی پر مستقل مزاجی سے کاربند بھی رہیں اب ہمارا سارا خاندان اسی شعبے سے منسلک ہے”۔
سیور فوڈ سے متعلق بہت سے لوگوں میں یہ غلط خیال عام ہے کہ سیور فوڈز ایک ریڑھی سے شروع ہوا تھا لیکن حقیقت یہ نہیں بلکہ وہ ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔
اس وقت یعنی 1988 میں شامی کباب اور چکن سمیت پلاؤ کی پلیٹ 20 روپے (بغیر چکن پیس کے 13 روپے) کی ہوا کرتی تھی جبکہ اب یہ ریٹ 550 روپے ہے۔
حاجی محمد نعیم کا کہنا ہے کہ
"کاروبار کے آغاز میں بہت سی مشکلات آتی ہیں، آغاز میں ہمارا بزنس چھوٹا تھا، روزانہ کئی مرتبہ دل ڈوبتا تھا لیکن پھر دل میں امید بھی جاگتی تھی کہ یہ کاروبار ان شاءاللہ آگے جائے گا”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"طویل عرصے تک چاول، شامی کباب، چکن اور دیگر اجزائے ترکیبی پر کام ہوتا رہا۔ آخر کار خاندان کے تمام افراد ایک ذائقے پر متفق ہوگئے۔ وہی ذائقہ عوام میں مقبول ہوا”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"معیار کو بہتر رکھنے اور عمدہ چاول کے حصول کو ممکن بنانے کے لیے 1999 میں گوجرانوالہ کے مقام پر سیور ملز کا آغاز کیا یہ چاول سیور فوڈز کا بنیادی اور اہم جُزو ہے”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"کاروبار کو وسعت دینے کے غرض سے ہم نے 2000 میں باغ سرداراں، 2002 میں میلوڈی فوڈ پارک اسلام آباد، 2005 میں بلیو ایریا اسلام آباد اور 2005 میں ہی راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں نئی برانچز کا اضافہ کیا گیا سیور فوڈز اب تک لاہور میں اپنی دو برانچز کھول چکا ہے”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"اس وقت ملک میں سیور فوڈز کی کل آٹھ برانچیں قائم ہیں لیکن ابھی تک ہم نے بیرون ملک قدم نہیں رکھا تاہم اب ہماری کوشش ہے کہ ہماری کمپنی بھی بین الاقوامی سطح تک پھیل جائے”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"سیور فوڈز میں شامل ایک اہم جزو شامی کباب کو چٹ پٹا بنانے کا تجربہ ہم نے اپنے قریبی دوست پروفیسر ارشد صاحب کے گھر پر کیا تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کامیاب ہوا، مذکورہ کباب کے موجودہ ذائقے تک پہنچنے میں ہمیں کافی وقت لگا تھا”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"سیور فوڈ کے کھانوں میں تیز نمک مرچ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ صحت اور طبیعت دونوں کے لیے متناسب ذائقہ ہی اچھا ہے”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"اپنے کاروبار کرنے کے خواہشمند افراد گھر سے باہر نکلنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کریں اس کے بغیر کاروبار میں کامیابی ممکن نہیں”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"میرے نزدیک سیور، چاول کے اس دانے کا نام ہے جس کا نام سنتے ہی منہ میں پانی بھر جاتا ہے اور پھر رج کر کھانے کو دل چاہتا ہے۔”
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"کاروباری شخص کے لیے آنکھیں اور کان کھلے رکھنا بہت ضروری ہے۔ یاد رکھیں اگر بزنس کرنا ہے تو سوتے میں بھی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے پڑیں گے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ میں کاروبار بھی کروں اور مزے بھی، یہ دونوں باتیں آپس میں نہیں مل سکتی”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"کاروبار کی کامیابی محنت پر منحصر ہے”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"آدمی ایک وقت میں کئی کئی بزنس شروع کرتا ہے۔ ایک ابھی چلا نہیں، دوسرا شروع کر لیا۔ دوسرا چلا نہیں تیسرا شروع کر لیا۔ لہٰذا یہ طریقہ کاروبار کے بنیادی اصولوں کے بالکل خلاف ہے”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"ہمارا مقابلہ کھانے پینے کے مقامی کاروبار سے نہیں بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ہے۔ سیور فوڈز نے خود کو ان کے نعم البدل کے طور پر ثابت کیا ہے”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"ایسے نوجوان جو اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ کم پیسوں سے کاروبار شروع کریں مگر قرض نہ لیں۔۔۔ آغاز میں کاروبار کے پیسوں سے اپنے اخراجات پورے نہ کریں بلکہ اسی کاروبار میں سرمایہ کاری کریں”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"جتنی چادر ہو اتنے پاؤں پھیلائیں”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"ہماری شہرت کا راز اشتہار نہیں بلکہ گاہک کا اطمینان ہے سیور کے اتنے اشتہار نہیں اور حقیقت میں اس کی مقبولیت کا سارا دار و مدار "Words Of Mouth” ہے یعنی ایک گاہک اپنے حلقہ احباب میں دوسرے لوگوں کو اس بارے میں بتاتا ہے تاکہ وہ بھی اس کا مزہ چکھیں”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"اس وقت بلیو ایریا کی برانچ میں زیادہ لوگوں کی آمد ہوتی ہے کیونکہ وہاں آس پاس کافی دفاتر موجود ہیں جہاں کے ملازمین سیور فوڈز سے دوپہر یا شام کا کھانا پسند کرتے ہیں”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"سیور فوڈز کی ہر آئٹم کے لیے الگ الگ منیجر ہوتا ہے۔ جو مارکیٹ سے خریداری کرتا ہے اور خریداری کے دوران میں خود بھی نگرانی کرتا رہتا ہوں۔ کچھ آئٹم روزانہ کی بنیاد پر خریدی جاتی ہیں مثلا سبزی، چکن اور بیف وغیرہ اور کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کہ زیادہ دیر تک رکھا جا سکتا ہے۔ جیسے چاول، دالیں، مصالحہ جات وغیرہ ۔ بعض اوقات اکٹھا ہی تین یا چار ماہ کے لیے سٹاک جمع کیا جاتا ہے”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"سیور فوڈز کے ملازمین کا اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا اپنے کسٹمرز کا۔ کیونکہ کاروبار کی کامیابی کا دارومدار انتظامیہ اور ملازمین کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔ اگر وہ صحیح کام کریں گے تو پورے ادارے کو فائدہ پہنچے گا۔ ملازمین کو اچھی تنخواہیں دیتے ہیں، تین وقت کا کھانا اور رہائش بھی دی جاتی ہے۔ سیور فوڈز پر لوڈ شیڈنگ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ملازمین کے کپڑے دھونے، جوتے پالش کرنے اور ہیئر کٹنگ کے لیے بھی خصوصی بندوبست کیا گیا ہے۔ جب تین ماہ بعد ہمارے ملازمین اپنے آبائی گھروں کو جاتے ہیں تو ہم ان کے اہلخانہ کے لیے خصوصی تحفے تحائف بھی بھیجتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج سیور فوڈز کی پانچ برانچوں میں ہزاروں ملازمین مکمل اطمینان اور یکسوئی سے کام کر رہے ہیں”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"میں لوگوں سے کہوں گا کہ کسی بھی ریسٹورنٹ کا کھانا اس وقت تک نہ کھائیں جس ریسٹورنٹ کا کھانا مالک خود نہ کھاتا ہو۔ میں خود بھی کھانے کے وقت سیور فوڈز پہ ہی ہوتا ہوں۔ اور یہاں سے ہی کھانا کھاتا ہوں”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"موجودہ سیور فوڈز کی کامیابی اور بہتری کا دار و مدار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، معیار اور استطاعت کو بہر صورت ملحوظ خاطر رکھنے اور مخلوق خدا کی بھلائی پر اپنے وسائل خرچ کرنے پر ہے۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے جتنا اللہ تعالی نے دیا ہے کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں میں بانٹیں۔ اللہ فرماتا ہے۔ جو میرا حق ہے وہ مجھے دو اور "کوئی ہے جو مجھے قرض دے”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
قرآن کریم میں جس جگہ بھی رزق کی بات کی گئی ہے تو ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غریب اور مستحق لوگوں کا خیال رکھا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر فرض ہے اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو گناہ گار ہوں گے”۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ
"رزق کو اگر جائز طریقے سے حاصل کیا جائے اور سارا کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو تو ضرور فائدہ ہوتا ہے اگر میں کہوں کہ میرے پاس پیسے آتے جائیں اور میں ڈھیروں ڈھیر جمع کرتا رہوں اور ان پیسوں کی طرف دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتا رہوں تو مجھے حقیقی سکون کبھی نصیب نہیں ہوگا بلکہ ہر وقت خوف اور ڈر سا لگا رہے گا کیونکہ اس میں دوسرے لوگ شامل نہیں ہوں گے۔ خوشی میں دوسروں کو شامل کریں گے تو یقیناً ضرور سکون بھی ملے گا اور راحت بھی”۔
ہماری دعا ہے کہ سماج میں وہ تمام کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کریں جن کے چلانے والے اعلی معیار اور انسانی خدمت کے جذبے کو پیش نظر رکھتے ہیں اور یوں سماج کو بہتر سے بہتر بنانے میں اپنے اپنے دائرہ کار کے اندر سرگرم عمل رہتے ہیں۔