بچپن میں ہم ایک کہانی سنتے تھے کہ جس میں ایک لومڑی اور انگوروں کی بیل کا ذکر تھا۔ لومڑی بھوکی تھی اور انگور بظاہر بہت میٹھے نظر آ رہے تھے۔ لومڑی نے بارہا کوشش کی لیکن انگوروں تک نا پہنچ سکی کیو ںکہ انگور بلندی پر ہونے کی وجہ سے اس کی پہنچ سے باہر تھے۔ اور کہانی کے آخر میں لومڑی کے یہ الفاظ کہ "انگور کھٹے ہیں” ہی کہانی کا عنوان بھی بن گئے اور یہ الفاظ ہر اس معاملے میں استعمال ہونے لگے جہاں تک پہنچ نا ہو یا جو معاملہ ہمارے بس سے باہر ہو جائے۔ یعنی جو چیز حاصل نا ہو سکے اس پہ فیس سیونگ کے لیے ایسے جملے یا الفاظ کہے جا سکتے ہیں۔
86 سالہ ایک بوڑھا، باریش شخص، جو اپنے ایک بازو کو استعمال میں نہیں لا سکتا، اس کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ نا صرف صیہونی ریاست بلکہ انکل سام کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔ جسے نا تو نگلا جا سکتا ہے نا ہی اگلا جا سکتا ہے۔ آپ اندازہ اس بات سے لگائیے کہ پوری ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا گیا لیکن خود انکل سام کو کہنا پڑا ہے کہ ہمیں معلوم بھی ہے کہ برزرگ خامنہ ای کہاں ہیں لیکن انہیں جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنا رہے۔ اس میں دھکمی کے ساتھ ایک خوف بھی ہے۔ خوف اس بات کا کہ ایسی شخصیت کو نشانہ بنانے سے خطے میں معاملات یقینی طور پر امریکہ بہادر کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔
حالیہ جنگ میں معاملات کس نہج پر گئے؟ کیا وجہ ہوئی کہ ایران ڈٹ گیا؟ آخر کیوں ایران کو ابتداء میں شدید نقصانات اٹھانا پڑئے؟ اور کیا وجہ ہے کہ اب انکل سام کو سرینڈر کی دھمکی کے بجائے پلیز کے ساتھ خطہء فارس کو مخاطب کرنا پڑا؟ انکل سام اور ان کی واحد اولاد (ناجائز) اکلوتے لاڈلے سپوت کو ایک زعم ہمیشہ سے رہا ہے، برتری کا۔ اسی زعم میں انکل سام نے اپنے سپوت کو تھپکی دی جا بیٹا میں تیرے ساتھ ہوں، اینٹ سے اینٹ بجا دے فارس والوں کی۔ سپوت تو انکل سام کی تھپکی کے بناء کچھ ہے ہی نہیں، اسی لیے وہ فارس پہ چڑھ دوڑا۔
لیکن یہ کیا؟ انگور بظاہر تو بہت میٹھے تھے لیکن حقیقت میں ان کی کڑواہٹ نے انکل سام کے سپوت کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ ایران ڈٹ کیوں گیا؟ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کا ڈٹ جانا نا صرف انکل سام اور اس کے لاڈلے کے لیے ایک واضح پیغام ہو گا بلک علاقائی طاقتوں کے لیے بھی یہ ایک واضح پیغام ہو گا کہ جب ہمیں کئیں دہائیوں کی پابندیاں نہیں جھکا سکیں تو یہ گولہ بارود ہمیں کیسے جھکا سکتا ہے، بقول نوابزدہ نصراللہ خان مرحوم کہ،
ہم راہروئے دشت و بلا روزِ اَزل سے
اور قافلہ سالار حسینؑ ابن علیؑ ہے
یہ ڈت جانا خطہ فارس کے لیے "حسینؑ کے انکار کی طرح” ہی ڈٹ جانے جیسا تھا۔ ولی فقہیہ کے نظام پہ بھی جو تنقید پوری دنیا میں ہوتی ہے اس کی افادیت بھی ایران نے اس ڈٹ جانے کے ساتھ ثابت کر دی ہے۔ اور اس ڈٹ جانے اور انکل سام اور لاڈلے کے کرتوتوں کی وجہ سے اب علاقائی طاقتوں کو اپنے وجود کے تحفظ کے لیے بھی خطہء فارس کی چاروناچار مدد کرنا پڑئے گی۔
ایران کے نقصانات؟ قابل اذہان ایران میں یقینی طور پر اب یہ سوچنے پر بھی مجبور ہوں گے کہ کون اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا رہا اور کس نے پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے بے وفائی کی۔ پڑوسیوں میں بھی اب خطہء فارس کو شائد فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی کہ کس کی کج ادائیوں کی وجہ سے اعلیٰ سیاسی اور ملٹری قیادت دشمن کے نشانے پر آ گئی اور تاک تاک کر دشمن نے نشانے لگائے۔ ایرانی فوج کے سربراہ جنرل باقری ہوں یا پاسداران انقلاب کے چیف حسین سلامی، جنرل غلام ہی راشد ہوں یا امیر علی حاجی زادہ، ایران آستین کے سانپوں سے ہی ڈسا گیا اور اپنی ترجیحات یقینی طور پر اب بدلنے پر مجبور ہو گا۔
جنگ بندی؟ آخر کیوں؟ جنگ بندی سے کچھ دیر قبل فارس سے اڑنے والے میزائلوں نے صیہونی ریاست میں چار افراد کی جان لے لی۔ اس سے کچھ دیر قبل ہی قطر میں ایران کی کاروائی نے پورے مشرق وسطیٰ کو جنگ میں دھکیلنے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ انکل سام، بحرین کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن وغیرہ میں پنجے جمائے بیٹھے ہیں اور عرب ممالک مرغی کے بچوں کی طرح خود کو انکل سام کے پروں کے نیچے ہمیشہ خود کو محسوس کرتے ہیں۔ لیکن حالیہ ایرانی کاروائیاں آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی اس لیے تھیں کہ وہ مرحلہ آ چکا ہے کہ "خود تو ڈوبیں گے صنم، تم کو بھی ساتھ لے ڈوبیں گے”۔ اپنی کشتیاں تو خطہء فارس جلا چکا ہے لیکن عرب ریاستوں کو بھی وہ ردعمل ملنا تھا کہ ان کے انکل سام کو ہو سکتا اپنی پڑ جاتی۔ انکل سام کا اس خطے میں بیٹھنا ان ریاستوں کو تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔ اور اگر ایرانی میزائل یکدم ان تمام ریاستوں کی طرف بڑھنا شروع ہو جائیں تو انکل سام کا عالمی طاقت کا غرور تو دفاعی نظام پہ اٹھنے والے اخراجات ہی توڑ دیں گے۔ کیوں کہ بظاہر یہ جنگی بڑھک تھی کہ ، "ہمارے پاس تین سال تک جنگ لڑنے کی صلاحیت ہے”، لیکن اگر یہ بڑھک سچی ہی ہوتی تو؟
اس جنگ میں فتحیاب کون ہوا؟ یہ ملین ڈالر سوال ہے۔ لیکن اس کے جواب کے بجائے چند حقائق پہ نگاہ دوڑائیے تو جواب کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔ اولآ کیا ایران میں رجیم چینج ہوئی یا ولائیت فقہیہ کا نظام مزید مضبوط ہو گیا؟ کیا انکل سام کے سپوٹ کا سپنا کہ کوئی اسے چھو بھی نہیں سکتا، اب بھی برقرار ہے یا ٹوٹ گیا؟ کیا عرب ریاستوں کا مان کہ انکل سام کے ہوتے ہوئے خطہء فارس کی جرات نہیں انہیں کچھ کہنے کی، یہ مان برقرار ہے یا ٹوٹ گیا؟ انکل سام کا خود یہ زعم کہ وہ عالمی طاقت ہے اور کچھ بھی کر سکتا ہے، کیا دنیا کے ردعمل کے بعد یہ زعم اب بھی قائم ہے؟ اور انکل سام کے مخالفین جو دبے دبے الفاظ میں بڑبڑاتے تھے ایران کے ردعمل سے حوصلہ پکڑیں گے یا نہیں؟ شدید نقصان کے باوجود، میزائل اپنے ٹیسٹ کر لینا ایران کے لیے فائدہ مند رہا یا نقصان دہ؟ پہلی صف کی قیادت کے چلے جانے کے باوجود خطہء فارس کا عملی اقدامات رکنے نا دینا کیا ان کے لیے حوصلہ مند ہے یا نہیں؟ حفاظتی انتظامات کی کوتاہیاں سامنے آ جانا اور اپنے اندر چھپے غداروں کی طرف دھیان پہلے سے زیادہ ہو گا یا نہیں؟ آج بی 2 بمبار سٹیلیتھ کی ٹیکنالوجی کسی کے پاس نہیں، کیا مستقبل میں اب کوئی اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے کی کوشش کرئے گا یا نہیں؟
ایران کے اندر اپوزیشن کا انکل سام اور ان کے سپوت کو کوئی حوصلہ یا مدد نا دینا کیا ایراان کو سیاسی طور پر مضبوط کرئے گا یا کمزور؟ صیہونی ریاست کے اندر عدم تحفظ حالیہ میزائل حملوں سے بڑھ گیا ہے یا کم ہوا؟ اگر تین سال مسلسل دعوؤں کے مطابق میزائل برسیں تو صیہونی ریاست کا دفاعی نظام جھیل لے گا یا نہیں؟ ہلاکتوں کا تناسب اگر 10 اور 1 سے صیہونی ریاست کے حق میں بھی رہا تو ایسی ریاست جو 40 سال سے پابندیوں میں ہے اور ایسی ریاست جس ٹیکنالوجی میں پوری دنیا میں سبقت رکھتی ہو کے لیے معنی نہیں رکھتا؟ ان تمام سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کیجیے تو آپ کو علم ہو جائے گا کہ اس معرکے میں اس جنگ میں فتح کس کا مقدر رہی۔ آپ جیسے جیسے ان تمام سوالات کے جوابات تلاش کرتے جائیں گے آپ پر اس دنیا کے سرمایہ دارانہ نظام کی نا صرف قلعی کھلتی جائے گی۔ بلکہ خوف کے کاروبار کی نئی جہتیں بھی آپ دیکھتے جائیں گے۔