دنیا کی سیاست کبھی کبھی ایسے مناظر دکھا دیتی ہے کہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی ہم کسی سنجیدہ دور میں جی رہے ہیں یا کسی سیاسی کامیڈی کا حصہ ہیں؟
اسی تناظر میں ایک "خاطره” ذہن کے پردے پر ابھرا جس کا عنوان ہے: "ٹرمپ اور نوبل انعام”۔
پاکستان وفد نے امریکی صدر ٹرمپ کیساتھ حالیہ دنوں میں ملاقات کی اور اس کے بعد انہیں نوبل پرائز براے امن کے لیے ریکمنڈ کیا۔
اس میں دو رائے نہیں کہ ٹرمپ انسانی دنیا کیساتھ خدا کی جملہ مخلوقات اور کائنات کے لیے ناسور سے بڑھ کر ناسور ہے۔
اس ملاقات میں یقیناً پاکستانی وفد کو اس نے اپنی فرعونیت بالخصوص ایران پر حملے کے اشارے دیے ہونگے۔
اس بنا پر پاکستان نے فوری طور پر سفارتی اور میڈیائی سطح پر اپنی سی ایک کوشش کی کہ اس کو نوبل پرائز کے لیے ریکمنڈ کیا جائے تاکہ وہ اپنی ظالمانہ کاروائی سے، ایران،اسلامی دنیا اور انسانیت کے لیے ناسور بننے سے رک جائے، مگر ایسا نہ ہوسکا… دنیا کے لئے خطرہ پر مبنی پاپولزم کا شکار ٹرمپ خونریزی کرنے پر تُل گیا اور ایران سے اس سفاکیت کا آغاز کیا۔
پاکستان کی جانب سے انہیں، "نوبل انعام والی بونگی” اس تناظر میں دیکھا جائے تو بات بنے گی۔
لیکن اگر اس "بونگی” کو سنجیدہ زاویے سے دیکھا جائے تو اس کے پیچھے ایک سفارتی حکمتِ عملی ضرور کارفرما تھی، شاید یہ سوچ کہ اگر ٹرمپ جیسے شخص کو امن کا تمغہ دینے کی بات کی جائے تو وہ کچھ شرم کرے، کچھ لحاظ کرے، اور عالم اسلام پر اپنی آتش افروزی بند کرے۔
مگر یہ سوچنا، کسی اژدہے کو گلاب کے پھولوں سے رام کرنے جیسا تھا۔
ٹرمپ، جس کا دامن مسلمانوں کے خون سے رنگین، اور زبان نسل پرستی سے زہریلی تھی، اسے نوبل انعام دینا ایسا ہی تھا جیسے امن کے نام پر ظلم کو سندِ شرافت عطا کرنا۔
نہ یہ سفارتی چال کامیاب ہوئی، نہ ظالم کی جبلت بدلی۔
بلکہ اس نے اور کھل کر اپنا زہر پھیلایا۔
بیت المقدس کی شہ رگ کاٹنے سے لے کر ایران اور یمن میں کشیدگی، سب کچھ اس کے "امن” کے خالی دعووں کا منہ چڑا رہے تھے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خوشامد اور سفارتی چاپلوسی کی پگڈنڈی چھوڑ کر، اصولی، جرات مند اور غیرتمند پالیسی کی شاہراہ پر قدم رکھیں۔
ورنہ تاریخ ہم سے یہی سوال پوچھے گی کہ: "تم نے ظالم کو امن کے انعام کے لئے ریکمنڈ کرکے، دنیا کے ساتھ کیا انصاف کیا؟”