مرشد، ولی اور روحانیت کی دکانیں اور تصوف کا فریب

اسلام ایک سادہ، خالص اور عقل و فطرت سے ہم آہنگ دین ہے۔ اس کی بنیاد صرف قرآن اور حدیث پر ہے۔ یہی دو سرچشمے ہیں جن سے ہدایت، علم، حکمت اور روحانیت کے تمام دریا بہتے ہیں۔ اس کے بعد کسی تیسری، چوتھی یا نام نہاد "باطنی” راہ کی نہ ضرورت ہے، نہ گنجائش۔

آج کے دور میں "ولی کامل” یا "مرشد کامل” کی تلاش ایک ایسا بازار بن چکا ہے جہاں عقیدت کے نام پر سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ قرآن، حدیث اور سیرتِ رسول ﷺ کے بعد کسی اور ذریعۂ ہدایت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ نہ کوئی واسطہ درکار ہے، نہ کوئی روحانی شارٹ کٹ۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں "مرشد کامل”، "ولی وقت”، "پیر طریقت”، "بابا جی” اور "عامل روحانی” جیسے القاب کے پیچھے ایک مکمل دکانداری، فریب، اور پیسے کمانے کا کاروبار بن چکا ہے۔ یہ وہ بازار ہے جہاں ایمان بیچا جاتا ہے، عقیدت کی نیلامی ہوتی ہے، اور سادہ دل مسلمانوں کو روحانی ترقی کے خواب دکھا کر لوٹا جاتا ہے۔

قرآنِ کریم کا اعلان ہے:
"هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ”
(سورۃ البقرہ: 185)
"یہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے، اور ہدایت و حق و باطل میں فرق کرنے والی واضح نشانیاں ہیں۔”

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ”
(سورۃ النحل: 89)
"اور ہم نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی جو ہر چیز کا واضح بیان ہے۔”

جب اللہ کی کتاب ہر چیز کا بیان ہے، تو پھر مرشد کے "باطنی علم” کی گنجائش کہاں سے نکلتی ہے؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”
(سورۃ الاحزاب: 21)
"یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔”

جب رسول اکرم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے مکمل نمونہ ہے، تو پھر اس مکمل نمونے کو چھوڑ کر ایک ولی کی تلاش، ایک مرشد کی تلاش — گویا قرآن مجید کی اسی آیت کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟

نبی کریم ﷺ نے دین کی تکمیل فرما دی۔ آپ ﷺ نے کسی خفیہ علم، کسی پوشیدہ راستے، یا کسی خاص فیض کے لیے کسی "مرشد” یا "پیر” کی ضرورت کا کوئی اشارہ تک نہیں دیا۔ نہ خلفائے راشدین نے کبھی کسی مرشد کا دامن تھاما، نہ تابعین نے، نہ ائمہ اربعہ نے۔

اللہ تعالیٰ کا واضح اعلان ہے:
"الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي”
(سورۃ المائدہ: 3)
"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔”

اب جو شخص "دین مکمل ہونے کے بعد” بھی نئی راہیں، باطنی منازل، اور خاص فیض کے دعوے کرتا ہے، وہ نہ صرف دین میں اضافہ کر رہا ہے، بلکہ دراصل لوگوں کو دینِ اسلام سے دور کر رہا ہے۔

یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ برِصغیر پاک و ہند میں "شخصیت پرستی” کو مذہبی رنگ دے دیا گیا ہے۔ ہندو مذہب میں "گرو” اور "اوتار” کی عقیدت نے جس طرح انسانوں کو خدا بنا دیا، وہی سانچہ اب مسلمانوں میں بھی مرشد، پیر، بابا اور ولی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

لوگ اپنے "پیر صاحب” کے مزار پر سجدہ کرتے ہیں، ان کے ہاتھ چومتے ہیں، ان کے کپڑوں کو متبرک مانتے ہیں، اور ان کے سامنے قرآن و حدیث کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ توحید کی روح کے خلاف ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو ردّ”
(صحیح بخاری و مسلم)
"جو شخص ہمارے دین میں کوئی ایسی بات شامل کرے جو اس میں نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔”

آج کل کی روحانیت کا مطلب زیادہ تر یہی رہ گیا ہے:
بیعت لو، پیسے دو، آنکھیں بند کرو، خواب دیکھو، اور "فیض” کی امید رکھو۔
یہ "فیض” کا کاروبار ہے، جس میں بعض "روحانی تاجر” لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ خانقاہیں بزنس سینٹرز بن چکی ہیں، اور مرید ایک برانڈڈ غلام کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اصل روحانیت تو توحید، تقویٰ، عبادات، علم، اور اخلاق میں ہے۔ جو شخص قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارے، وہی اللہ کا دوست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی پہچان یوں بتائی:
"أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ”
"الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ”
(سورۃ یونس: 62-63)
"یاد رکھو! اللہ کے ولی وہ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیے۔”

اور یاد رکھنا چاہیے کہ ہر وہ شخص جو قرآن اور سنت کے مطابق زندگی گزار رہا ہے وہی درحقیقت اللہ کا ولی ہے۔ ولی ہونے کے لیے کسی خاص لباس، مخصوص ٹوپی، مریدوں کی تعداد، یا ظاہری کرامات کی کوئی شرط نہیں ہے۔ دوسری طرف، ہر وہ شخص جو قرآن اور حدیث کے خلاف زندگی گزار رہا ہے، یا جس کی زندگی کے دن رات، جس کا ظاہر و باطن، سر سے لے کر پاؤں کے ناخن تک قرآن اور حدیث سے دور ہے — وہ کسی بھی صورت میں اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا، چاہے لاکھ دعوے کرے، چاہے لاکھ لوگ اس کے مرید ہوں، وہ صرف گمراہی میں مبتلا ایک فریب ہے۔

قرآن اور حدیث کے بعد کسی اور چیز کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو مرشد، پیر یا روحانی رہنما ان دونوں سے ہٹا کر کوئی اور راستہ دکھاتا ہے، وہ گمراہی پر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دین کو اصل ماخذ سے سیکھیں، علم حاصل کریں، اور شخصیت پرستی کے دھوکے سے بچیں۔
کیونکہ دین سودا نہیں، اور نہ روحانیت کوئی برانڈ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے