بعض اوقات قوموں کے تحفظ کے لیے توپ و تفنگ سے زیادہ مؤثر ہتھیار شعور، آگاہی اور فکری ہم آہنگی ثابت ہوتے ہیں۔
عسکری طاقت اگر قومی جسم کی حفاظت کرتی ہے تو قومی فہم و فراست اور نظریاتی یگانگت اس کی روح کو جلا بخشتی ہے۔ گلگت FCNA میں گزشتہ دنوں منعقد ہونے والی پانچ روزہ نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ (تیسرا ایڈیشن) بھی اسی شعوری بیداری کی ایک روشن مثال ہے، جس نے اسٹریٹجک مکالمے کو بند کمروں سے نکال کر عوام کے فہم تک پہنچایا ہے۔۔۔
یہ ورکشاپ محض ایک تعلیمی سرگرمی نہ تھی بلکہ قومی شعور کی تہذیب اور فکری وحدت کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔
گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں پاکستان کی فوج کے زیر اہتمام منعقد کی گئی یہ ورکشاپ اس لحاظ سے بھی منفرد تھی کہ اس نے دفاع، معیشت، سیاست، میڈیا، تعلیم، قانون اور مذہب سمیت معاشرے کے ہر اہم شعبے سے وابستہ افراد کو ایک ہی فکری چھت تلے جمع کیا۔۔۔۔
اراکین اسمبلی سے لے کر اساتذہ، علمائے کرام سے نوجوان طلبہ، صحافیوں سے وکلاء اور سول سوسائٹی کے کارکنان تک ہر فرد نے اس اجتماعی فکری کاوش میں اپنی موجودگی سے ایک ایسا فکری ماحول ترتیب دیا جہاں سوالات کو دبایا نہیں گیا بلکہ انہیں ابھارا گیا سنا گیا اور مدلل انداز میں سمجھایا گیا۔۔۔
ورکشاپ میں قومی سلامتی کی جامع تعریف پر نہایت سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ جہاں ماضی میں قومی سلامتی کو صرف جغرافیائی سرحدوں سے جوڑا جاتا تھا وہیں اس ورکشاپ نے اس تصور کو وسعت دے کر اسے فکری، ثقافتی، معاشی اور معلوماتی سلامتی تک وسعت دی۔
ماہرین نے بتایا کہ جدید دور میں ایک قوم کے ذہن پر حملہ کرنا اس کی سرحدوں پر حملہ کرنے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔۔۔۔
چنانچہ اب قومی سلامتی صرف دفاعی اسلحے سے ممکن نہیں بلکہ فکری استحکام، سیاسی بلوغت، معاشی خودمختاری اور معلوماتی خود انحصاری اور ڈیجیٹل بیانیہ سے ممکن ہے۔۔۔
گلگت بلتستان کی اسٹریٹجک اہمیت پر بھی مدلل مباحثے ہوئے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ یہ خطہ نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ سی پیک جیسے میگا منصوبوں کا دروازہ بھی ہے۔
گویا یہ علاقہ صرف سرحدی نہیں بلکہ معاشی، جغرافیائی اور سفارتی لحاظ سے بھی پاکستان کا سنگ بنیاد ہے۔
ورکشاپ میں اس پہلو کو بھی اجاگر کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے پرعزم اور باہمت عوام، اپنی منفرد ثقافت اور غیر متزلزل حب الوطنی کے باعث پاکستان کی ترقی کے اہم ترین کردار ہیں۔۔۔۔
معاشی استحکام اور بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ ریاستی اداروں کو مقامی آبادی کو شریک سفر بناتے ہوئے ایسا معاشی ماڈل تشکیل دینا ہوگا جو علاقائی ہم آہنگی اور عوامی فلاح کو یقینی بنائے۔
معاشی ترقی اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عوامل ہیں ایک کی کمزوری دوسرے کو متزلزل کر سکتی ہے۔۔۔
میڈیا کے کردار پر خاص توجہ دی گئی۔ ففتھ جنریشن وارفیئر جیسے جدید چیلنجز کے تناظر میں میڈیا اب محض خبروں کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی ذہن سازی کا میدان کارزار ہے۔۔۔
ورکشاپ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ میڈیا کا مثبت اور ذمہ دارانہ کردار نہ صرف رائے عامہ کی تربیت کرتا ہے بلکہ دشمن کے فکری حملوں کو بھی بے اثر کرتا ہے۔
اس لئے بحثیت صحافی راقم الحروف کی یہ تجویز ہوگی کہ آئندہ بار ایک خصوصی نیشنل میڈیا ورکشاپ بھی منعقد کی جائے تاکہ صحافی برادری کو بھی ان جدید خطرات سے آگاہی حاصل ہو اور وہ قومی بیانیئے کو پروفیشنلزم کے ساتھ مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکیں۔۔۔۔
نوجوانوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ انہیں محض قوم کا مستقبل سمجھنے کے بجائے حال کا فعال جزو بنانا ہوگا۔ تعلیم، تحقیق، اختراعات اور مثبت سرگرمیوں میں ان کی شمولیت ہی پاکستان کو ایک باوقار اور خود مختار ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر مستحکم کر سکتی ہے۔۔۔
شرکا نے ورکشاپ کے دوران گلگت بلتستان اسمبلی، چیف کورٹ، جی بی اسکاؤٹس ہیڈکوارٹرز اور دیگر اہم اداروں کا دورہ کر کے ادارہ جاتی نظم و نسق اور شفافیت کو قریب سے جانا۔
یہ دورے محض رسمی نہ تھے بلکہ شفاف طرز حکمرانی، ادارہ جاتی احتساب اور سول-ملٹری ہم آہنگی کی زندہ مثال تھے۔۔۔۔
اختتامی سیشن میں کمانڈر 10 کور لیفٹیننٹ جنرل شاہد امتیاز (ہلال امتیاز ملٹری) کا خطاب محض رسمی تاثر نہ رکھتا تھا بلکہ قومی شعور کو جھنجھوڑنے والی گفتگو تھی۔۔۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی حب الوطنی، ثقافتی انفرادیت اور وطن کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاستی ادارے عوام کو ساتھ لے کر ہی ترقی کے سفر کو یقینی بنا سکتے ہیں۔۔۔
یہ ورکشاپ جہاں ایک علمی و فکری نشست تھی وہیں اس نے ایک اور اہم کام بھی کیا غلط فہمیوں کو مٹایا، شکوک کو رفع کیا، اور قومی بیانیے میں باہمی اعتماد اور اتفاق رائے کی بنیاد ڈالی۔
شرکاء نے اس امر کا اعتراف کیا کہ یہ ورکشاپ ان کے لیے محض ایک تربیتی سیشن نہ تھی بلکہ ایک فکری انقلاب کا پیش خیمہ تھی۔۔۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ایسی علمی اور قومی سرگرمیاں محض وقتی نہ ہوں بلکہ تسلسل سے جاری رہیں۔
گلگت بلتستان جیسے اہم خطے میں منعقد ہونے والی یہ ورکشاپ ایک مثال ہے، اور اب ضرورت ہے کہ میڈیا، جامعات، سول اداروں اور نوجوانوں کو مرکزی حیثیت دے کر ایسی ورکشاپس کو پورے ملک میں فروغ دیا جائے۔ تاکہ قومی وحدت کا خواب محض نعرہ نہ رہے بلکہ ایک شعوری عمل بن جائے۔۔۔