سید منور حسن: ایمان اور بصیرت سے لبریز لیڈر

یہ 2000ء کا زمانہ تھا جب میں مرکز علوم اسلامیہ راحت آباد پشاور میں زیر تعلیم تھا۔ شعبان المعظم کے مہینے کا پہلا ہفتہ جاری تھا۔ اسی اثناء میں جمعیت طلبہ عربیہ (دینی مدارس اور جامعات کی سطح پہ ملک گیر طلبہ تنظیم جو کہ تحقیقی علم کے فروغ اور وسیع تر اتحاد امہ کے قیام کے لیے گزشتہ 46 برس سے انتھک اور مسلسل کام کر رہی ہے) کے تین چار رفقاء کی جانب سے یہ تجویز آئی کہ اب کی بار کیوں نہ سالانہ چھٹیوں کے دوران منصورہ میں شیخ القرآن و الحدیث مولانا عبد المالک حفظہ اللہ کے زیر نگرانی تفسیر قرآن کریم کے دورے میں شریک ہوا جائیں۔ تجویز چونکہ نہایت قیمتی، بر محل اور دلچسپ تھی لہذا ہم چار دوستوں نے فوراً حامی بھری، اللّہ کا نام لیا اور تیاری شروع کی۔

10 شعبان المعظم کو باضابطہ دورے کا آغاز ہونا تھا۔ ہم نے ایک دو دن پہلے پہنچنے کا ذہن بنایا۔ یاد رہے کہ میرے لیے منصورہ جانے کا یہ پہلا موقع تھا۔ میں نے تذکرہ تو بہت سنا تھا لیکن کبھی جانے کا موقع نہیں بنا تھا۔ یہ بات اضافی کشش کی وجہ بنی۔ ہم دورے کے آغاز سے دو دن پہلے پہنچے۔ جب لاہور اڈہ اترے تو چند لمحوں کے لیے دماغ چکرا سا گیا۔ بے تحاشہ رش، بے ہنگم ٹریفک، مخلوط فضاء، تباہ کن آلودگی اور اعصاب شل کر دینے والا شور۔ یہ ہمارا لاہور سے پہلا تعارف تھا۔ اللّہ تعالیٰ ہمیں اپنا ماحول صاف، سماج منظم اور اخلاق و عادات درست کرنے کی ہمت بخشے کیونکہ مذکورہ خرابیوں کی موجودگی میں آسودہ اور صحت مند زندگی کا گزران قطعاً ممکن نہیں، خیر یہ آنداز اختیار کرنا ایک گہری سوچ اور دیر پاحکمت عملی کا متقاضی معاملہ ہے لیکن جوں ہی ہم منصورہ پہنچے تو ایک بالکل الٹ ماحول نے ہمارے اوسان بحال کر دئیے۔ سکیورٹی گارڈ سے لے کر امیر جماعت تک (قاضی حسین احمد رح) تمام لوگ خوش اخلاق، مہذب، سنجیدہ، ہنس مکھ، خاموش، ملنسار، نیک اور پارسا۔ یہی وہ روح پرور اجتماعیت ہے جس نے منصورہ کی بستی کو ایک الگ "سماجی اور تہذیبی ذائقہ” عطا کیا ہے، جو ہمارے لیے مسرت انگیز تھا۔ اس طرح مرکزی گیٹ سے لے کر مرکزی جامع مسجد تک ہر مقام سے صفائی ستھرائی، سلیقہ شعاری، نظم و ضبط، نفاست و متانت اور وقار عیاں تھا۔ لاہور کے جن ابتدائی "حال احوال” نے ہمیں ٹھیک ٹھاک چکرایا تھا منصورہ کے صاف ستھرے، سرسبز و شاداب، خاموش و پُرسکون، منظم اور سنجیدہ ماحول نے فوراً آسودہ کیا۔

انسان کے لیے دنیا میں سب سے اہم چیز خود انسان ہے اور انسان سے ہی انسان اپنے دل، زندگی اور حال احوال کے تناظر میں سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ منصورہ پہنچنے پر اس احساس نے ہمارے دل و دماغ کا چاروں جانب سے فوری احاطہ کیا۔ جب ہم منصورہ کے مرکزی گیٹ پر پہنچے تو نہایت، خوش اخلاق، خندہ رو، صحت مند، پرجوش اور چاق و چوبند سکیورٹی گارڈ نے ہمارا استقبال کیا، سلام دعا کی اور متعارف ہونے پر آگے بڑھنے کا اشارہ دیا۔ ہمارا سکیورٹی گارڈ کے حوالے سے جو عمومی تاثر پہلے سے قائم تھا (تھکاوٹ سے بے حال، بیزار کن انداز اور کرخت لہجے والے وغیرہ) یہ لوگ اس کے بالکل برخلاف تھے۔ لاہور اور پھر منصورہ پہنچنے پر ہم نے ازراہِ مزاح ایک مختصر تبصرہ کیا جو بعد میں بھی دوست دہراتے تھے۔ میں نے کہا!

"شور اور آلودگی کے لاہوری سمندر میں منصورہ سکون اور آسودگی کا ایک خوبصورت جزیرہ ہے”۔

منصورہ میں ہمارا قیام دو ماہ سے کچھ کم عرصے پر محیط تھا۔ یہ دور میرے لیے علمی، تربیتی، فکری، اخلاقی، نظریاتی، روحانی اور جذباتی غرض ہر اعتبار سے منفرد، مفید اور ممتاز ثابت ہوا۔ زندگی میں کچھ مواقع ایسے آتے ہیں جن میں خود زندگی کی تشکیلِ نو ہوتی ہے۔ میرے لیے منصورہ کا قیام ایسا ہی ایک موقع تھا۔ ہر دن نیا، ہر لمحہ منفرد، ہر پروگرام بھرپور، ہر معمول صحت مند، ہر تعارف لطف انگیز، ہر تعلق مسرت بخش، ہر فرد محبت اور خلوص سے پیش آنے والا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ افسوس میرا قلم میرے جذبات کا ساتھ دینے سے عاجز ہے۔

منصورہ جماعت اسلامی کا ہیڈکوارٹر ہے اور اپنی حیثیت، اہمیّت، کردار، اقدامات، ترجیحات، معمولات، معاملات، علمی اور تحقیقی سرگرمیوں، اتحاد امت کی کاوشوں، ملک میں بابرکت اسلامی انقلاب کے لیے مخلصانہ اور پُرامن کوششوں مزید اپنے صحت مند اور صالحانہ اجتماعی ماحول کے طفیل اسم با مسمی ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں نیک، مخلص اور قابل لوگ جمع ہیں۔ بلا شبہ آج کے دور میں یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ میں ہمیشہ دوستوں سے کہتا ہوں کہ!

"میں نے وجودی اعتبار سے تو ضلع دیر میں جنم لیا ہے لیکن معنوی اعتبار سے منصورہ لاہور میں”۔

جماعت کی تقریباً تمام مرکزی قیادت منصورہ میں مقیم ہے۔ جماعت کے تمام لیڈرز اپنی دیانت، سنجیدگی، وقار، نفاست، بصیرت، اخلاق اور شرافت طبع میں ملک بھر میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں لیکن اج مجھے یہ احساس ظاہر کرنے دیجئے کہ ان تمام کے تمام میں سب سے ممتاز، سب سے اونچا، سب سے گہرا، سب سے اجلا، سب سے بھرپور اور ہاں علمی، نظریاتی، فکری، روحانی اور اخلاقی اعتبار سے سب سے آگے آگر کوئی تھے تو وہ سید منور حسن رحمہ اللہ (مرکزی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان یہ 2000ء کی بات ہے، بعد میں امیر جماعت بنے) (پیدائش 5 اگست 1941، وفات 26 جون 2020) تھے۔ وہ بیک وقت ایک مدبر، سنجیدہ اور سمجھدار سیاستدان، ایک پاک دل و پاک باز صوفی، ایک ہمہ جہت و ہمہ گیر مصلح، ایک وسیع الظرف اور وسیع النظر دانشور تھے۔

سید منور حسن سے جب پہلے مرتبہ ملا تو مسحور سا ہو گیا تھا۔ ان کے ہاتھوں میں "ملکوتی لمس”، چہرے پہ نور، نماز میں خشوع، شخصیت میں کشش، وجود میں وقار، لہجے میں سحر، دلائل میں وزن، اسلوب میں معقولیت اور دل میں ٹنوں کے حساب سے اطمینان جو دراصل ایمان کے نتیجے میں تھا۔ حدیث میں ہے کہ "مومن خدا کے سب سے قریب حالت نماز میں ہوتا ہے”۔ اس حدیث کا سب سے حقیقی، قریبی اور خوبصورت مصداق میں نے آگر کوئی دیکھا ہے تو وہ سید منور حسن رحمہ اللہ ہیں۔ آذان ہوتے ہی جو قدم فوراً مسجد کی جانب اٹھتے تو وہ ان کے ہوتے۔ محسوس ہوتا تھا کہ گویا اپنی پوری ہستی سے خدا کی جانب مڑتے ہیں۔ میں نے بارہا دیکھا وہ سب سے پہلے مسجد میں داخل ہوتے اور صف اول میں بیٹھتے خاص کر فجر کے وقت تو کوئی بھی آپ سے پہلے مسجد میں داخل نہ ہوتا۔

سید منور حسن صاحب اصلی اور حقیقی معنوں میں "خدا کا مسافر” تھے۔ انہوں نے خدا کے خاطر خدا کی جانب بے شمار معنوی اسفار کیے تھے۔ پانچ چھ مجھے بھی یاد ہیں۔

ان کا پہلا سفر "کمیونزم سے اسلام” کی جانب تھا۔ وہ زمانہ طالب علمی میں مارکسزم سے متاثر ہو کر "نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن” میں شامل ہوئے، اپنی صلاحیتوں اور شخصیت کے طفیل اس تنظیم کے صدر بنے (کراچی کے)۔ 1960ء میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی تحریروں سے متاثر ہو کر اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوگیے یوں ایک شخص کی زندگی میں تبدیلی کی ہوا چلی جس نے بعد میں ایک تحریک بننا تھا۔ انہوں نے "اسلامی جمعیت طلبہ کی نظامت سے لے کر امیر جماعت اسلامی منتخب ہونے تک” ایک قابل رشک سفر طے کیا۔ اس سفر میں انہوں نے جس خلوص، محنت، بصیرت اور مستقل مزاجی سے کام لیا اس کی مثال اگر بالکل نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔

دوسرا سفر تہذیبی ہے یعنی تہذیب کے اعتبار سے ایک بالکل مردہ دور میں رہ کر بھی اعلی ترین تہذیب کا خوبصورت ترین نمونہ بن کر دکھایا وہ اپنی زبان و لباس، انداز و اطوار، نشست و برخاست، خیالات و نظریات، معاملات اور تعلقات میں اسلامی تہذیب کا ایک بہت ہی دلکش نمونہ تھا۔

تیسرا سفر انہوں نے "عمرانیات اور لسانیات” (تعلیمی شعبوں) سے قرآن و حدیث کی جانب کیا اور بہت ہی خوب کیا، قرآن و حدیث سے ان کو جو لگاؤ اور مانوسیت تھی، وہ ایک خاص چاشنی رکھتی تھی۔ انہوں نے قرآن و حدیث میں ڈوب کر ان کو سمجھا، اپنے اندر جذب کیا، اور وہاں سے ہدایت اور رہنمائی کشید کی، ان کی تقریروں اور تحریروں میں قرآن و حدیث کے حوالے موتیوں کی صورت جڑتے۔ تلاوت قرآن پاک کرتے تو سننے والوں پر سحر طاری ہوتا۔

چوتھا سفر "مخلوق سے خالق” کی جانب تھا۔ وہ بظاہر مخلوق کے درمیان نظر آتے تھے لیکن حقیقت میں وہ خالق کی قریب ہوتے۔ وہ حقیقی معنوں میں محبت الٰہی سے سرشار انسان تھے۔ وہ مخلوق سے معاملہ کرتے وقت ہمیشہ خالق کی منشاء پیش نظر رکھتے اور ایسا بالکل نہیں ہونے دیتا کہ مخلوق کے ساتھ ایسا مشغول ہوں کہ اپنے خدا کو بھول جائے۔

پانچواں سفر "مصلحتوں سے حقائق” کی جانب تھا۔ بارہا ہم نے دیکھا کہ سیاسی لیڈرز حقائق کا سامنا کرنے کی بجائے مصلحتوں کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں حق سچ کی بجائے مفادات اور مصلحتیں زیادہ قابل ترجیح قرار پاتی ہیں۔ اس عیب سے سید منور حسن صاحب کا دامن صاف تھا۔ وہ خدا اور مخلوق خدا کے خاطر حق سچ کے عالم بردار تھے وہ مصلحتوں کے اسیر اور مفادات کے غلام قطعاً نہیں تھے۔ جو بات حق سچ سمجھتے تھے اس کو برملا ظاہر کرتے اور کسی بھی "مصلحت” کے شکار بالکل نہ ہوتے۔

چھٹا سفر "ذاتیات سے مقاصد” کی جانب تھا۔ ایک ایسے وقت میں جب سیاستدان بلخصوص اور عام لوگ بلعموم ہر معاملے میں ذاتی مفادات اور مرغوبات تلاش کرنے میں لگے نظر آتے ہیں ایسے میں سید منور حسن مرحوم نے ایسی مثالیں قائم کیں ہیں جو آج کل کے مزاج سے بالکل الگ محسوس ہو رہی ہیں۔ ان کے بچوں کی شادیوں پر جو قیمتی تحفے تحائف وصول ہوئے تھے سب کو یہ کہہ کر جماعت کے بیت المال میں جمع کروایا کہ "یہ منور حسن کے بچوں کو نہیں بلکہ امیر جماعت کے بچوں کو ملے ہیں لہذا یہ جماعت کے بیت المال میں جمع ہونے چاہئیں”۔

سید منور حسن صاحب کو اللّہ تعالیٰ نے بہترین ابلاغی صلاحیتوں سے بڑے پیمانے پر نوازا تھا۔ انہوں نے اپنی اسی صلاحیت سے مخلوق کو اس کے خالق کا پیغام دل نشین انداز میں سمجھانے اور اہل اقتدار تک حق سچ کے بے امیز تقاضوں کو پہنچانے میں دن رات ایک کر دیا تھا۔ وہ کروڑوں لوگوں کے جذبات، احساسات اور مافی الضمیر کو زبان دیتے۔ ان کی زبان حق و صداقت اور عدل و انصاف کی بہترین ترجمان تھی۔ ان کے دلائل اور اسلوب میں بلا کی تاثیر تھی۔ وہ اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے پر حد درجہ قادر تھے۔

میں شمار نہیں کر سکا ہوں کہ دو ماہ پر محیط دورانیے میں کتنے بار سید مرحوم و مغفور سے گلے لگایا ہوں، مصافحہ کیا ہوں، قریب میں بیٹھا ہوں، پاس سے گزرا ہوں اور ہاتھوں کا بوسہ لیا ہوں لیکن یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ ایسے ہر موقعے پر میں قلب و روح سے بخوبی سرشار ہوتا تھا۔ ملتے وقت ہمیشہ پوچھتے "کیسے ہے آپ”؟ یقین کریں یہ جملہ ان کے ہاں لغوی اعتبار سے تو مختصر تھا لیکن میرے ہاں اثری اعتبار سے بہت گہرا ہوتا تھا۔ منصورہ میں معمول ہے نماز فجر کے فوراً بعد درس حدیث ہوتا ہے۔ یہ درس مختلف اکابرین جماعت دیتے ہیں۔ ہمارے دوران قیام میں ہم نے متعدد بار یہ درس سید منور حسن مرحوم سے سنا آپ یقین کریں ان کے درس میں دل و دماغ پر جو اثر ہوتا تھا وہ بیان سے باہر ہے۔ ان سے پہلے مرتبہ ملا (2000ء میں)اور آج کا دن جب سوچتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ گویا کل کی بات ہے اور ملاقات کی وہ تاثیر آج بھی ایسی ہی تازہ ہے کہ گویا آج ہی کی بات ہے۔ میں نے ان کو نماز پڑھتے دیکھا ہے، تلاوت کرتے سنا ہے، تقریر کرتے ہوئے ملاحظہ کیا ہے، دلائل دیتے پرکھا ہے، لوگوں سے بات چیت کرتے پایا ہے۔ یقین کریں ان کا ہر انداز نرالا تھا۔

ان کے دور امارت کو(2009ء سے 2014ء تک) میں نے تین پہلوؤں سے ممتاز پایا۔ ایک جماعت کے لحاظ سے، ایک خطے کے مجموعی حالات کے لحاظ سے اور ایک ملک کے اندرونی معاملات کے لحاظ سے۔

عمومی تاثر ہے کہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور میاں طفیل محمد مرحوم کے بعد قاضی حسین احمد کا دور امارت سیاسی لحاظ سے تو بے شک بڑا بھرپور اور ہنگامہ خیز تھا لیکن دعوت و تربیت کی جانب توجہ بوجوہ کم ہوئی۔ سید منور حسن بطورِ امیر جماعت منتخب ہوئے تو انہوں نے ایک متوازن حکمت عملی کے تحت دعوت و تربیت کے پہلوؤں کو بھی خاص توجہ دی۔ 2009ء سے 2014ء تک کے دور میں یہ توازن کارکنوں کو اچھی طرح محسوس ہوا۔ یہ دور گویا توازن کی جانب مراجعت کا دور ثابت ہوا۔

دوسرا معاملہ یہ کہ جب سے آمریکہ خطے میں آیا۔ پورے خطے کا امن اور استحکام تباہ ہو کر رہ گیا۔ سید منور حسن بجا طور سمجھتے تھے کہ خطے میں تمام مسائل کی جڑ آمریکی مداخلت ہے۔ انہوں نے آتے ہی "گو امریکہ گو” تحریک کی داغ بیل ڈالی۔ انہوں نے اس تحریک میں اتنے جوش اور محنت سے کام کیا کہ یہ ایک قومی آواز بن گئی۔

تیسرا بڑا اور اہم معاملہ یہ کہ سید محترم خلوص قلب کے ساتھ سمجھتے تھے کہ ملک کے اندر ملٹری آپریشنز مسائل کا حل قطعاً نہیں۔ اس سے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے، بے گناہ لوگ مرتے ہیں، قوم اور فوج کے درمیان نفرت پیدا ہوتی ہے، دشمن قوتیں ایسے حالات میں غلط فائدے اٹھاتی ہیں۔ خود کش حملوں کے لیے نامطلوب ماحول بنتا ہے۔ وہ اپنے اس موقف میں نہ صرف سو فیصد یکسو اور مخلص تھے بلکہ اس کا برملا اظہار بھی کرتے رہے اس سلسلے میں وہ کسی مصلحت کا شکار قطعاً نہ ہوتے۔ وہ اندرونی مسائل کے حل میں ہمیشہ مذاکرات اور افہام و تفہیم پر زور دیتے رہیں۔

سید منور حسن صاحب ایک ایسے انسان تھے جو کسی اور دنیا کے باسی لگ رہے تھے۔ وہ ان الائشات اور واہیات سے کوسوں دور تھے جن میں اکثر و بیشتر لیڈرز سر تا سر تر بہ تر نظر آتے ہیں۔ ان کو جھوٹ سے، چالاکی سے، سیاسی چال بازیوں سے، بد تہذیبی سے، آج بات کرنے اور کل مکر ہونے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ وہ حقیقت میں اخلاق و کردار کے ہر آلائش سے پاک تھے۔

سید منور حسن صاحب مرحوم و مغفور اس چار کے گلدستہ میں بھی شامل تھے جن سے میرے والد صاحب قاری سید قریش جان مرحوم و مغفور سب سے زیادہ محبت اور عقیدت رکھتے تھے یعنی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ، میاں طفیل محمد مرحوم و مغفور، قاضی حسین احمد مرحوم اور سید منور حسن مرحوم۔ میں نے اپنے والد صاحب کو منور حسن کی گفتگو سننے کے لیے "پتھر” بنتے دیکھا ہے۔ جب بھی والد صاحب منور حسن صاحب کو سنتے تو بلا مبالغہ دنیا و مافیہا سے بےگانہ ہو جاتے۔ جب کبھی ان کا تذکرہ کرتے تو فرطِ محبت سے ان کا چہرہ روشن ہوتا۔ کہتے تھے "جب سید منور حسن عالمی نشریاتی اداروں بی بی سی اور وائس آف امریکہ کو انٹرویوز دیتے ہیں تو صداقت اور بصیرت کا حق ادا کرتے ہیں”۔

میں نے خود سید مرحوم و مغفور کو بے شمار مرتبہ سنا ہے وہ انسانیت اور حق گوئی کے بہترین ترجمانی کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ضلع دیر میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں بدی تو منظم، موثر اور توانا ہے لیکن نیکی اسی طرح منظم، موثر اور توانا نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے میں چاروں طرف نیکی کو فروغ دیا جائے اور اس کو کماحقہ منظم، موثر اور توانا بنایا جائے۔”

بلاشبہ وہ اللّہ کے ولی، انسان دوست لیڈر، اسلامی انقلاب کے داعی، اعلیٰ اخلاق و کردار کا خوبصورت نمونہ، تہذیب و شائستگی کا حسین مرقع، ایک روادار، وضع دار، ملنسار اور سچے محب وطن رہنما تھے۔ ان کی یہاں (دنیا میں) زندگی اچھی تھی اور وہاں (آخرت میں) ان شاللہ انجام بھی بہت اچھا ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے