یہ ذکر ہے اُس زمانے کا، جب شعور کی شمع ابھی دھیمی لو میں جل رہی تھی، اور فکر و نظر کی دنیا تازہ کلی کی مانند نازک و نوخیز تھی۔ تیسری جماعت کا ایک کم سن طالبعلم، نہ سمجھنے کا دعویدار، نہ سمجھانے کا متحمل — مگر دل میں ایک انوکھی سی چمک، ایک لطیف سی جستجو ضرور تھی، جو ہر چمکتی ہوئی روشنی کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔
اسی جستجو کے زیرِ اثر، میں ایک روح پرور اسلامی اجتماع میں شریک تھا — ایک محفلِ نعت، ایک بزمِ عشقِ رسول ﷺ، جہاں قلوب دھڑکتے نہیں تھے، جھومتے تھے۔ وہاں، اسٹیج کی بلندی پر ایک نورانی پیکر کھڑا تھا، سفید پگڑی کی چمک میں لپٹا ہوا، داڑھی کی زیور سے آراستہ چہرہ، اور لبوں سے نکلتے الفاظ جیسے مشک و عنبر کی مہک ہو۔
ہر مصرعہ، ہر نغمہ، ہر اندازِ بیان، ایک ہی پیغام لیے ہوئے تھا — "میں فدا ہوں، اے رسولِ خدا ﷺ، تری عظمتوں پر!”
لوگ اسے "ڈاکٹر صاحب” کہہ کر پکار رہے تھے، اور میں اس معصوم ذہن میں سوچنے لگا کہ کیا ڈاکٹر صرف وہی ہوتا ہے جو ٹیکہ لگاتا ہے؟ جو بخار کا درماں کرتا ہے؟
یہ ڈاکٹر تو دل کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہے!
یہ الفاظ کا طبیب ہے، یہ جذبات کا معالج ہے!
یہ دردِ محبت کا مسیحا ہے!
وہ دن، وہ لمحہ، میرے دل پر ایسے ثبت ہو گیا جیسے سونے پر کندہ کوئی نام — اور تب سے آج تک، وہ چہرہ، وہ لب و لہجہ، وہ مسکراہٹ، میرے تصور کے گلشن میں مہک رہی ہے۔
کچھ عرصے بعد، تقدیر نے میری رہنمائی یوں کی کہ میں پشاور آ گیا۔ دن میں اسکول کی چاردیواری میں رسمی تعلیم کا پابند، اور شام کو اُن کی مجلسِ درس کا شرف حاصل ہونے لگا — جہاں لفظ نہیں بولتے، بولتے ہیں معانی؛ جہاں باتیں نہیں ہوتیں، نزاکتِ فکر و احساس کا نزول ہوتا ہے۔
یہاں مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر ہونے کا مطلب صرف جسمانی صحت کا عالم ہونا نہیں، بلکہ علم و حکمت کی ایسی سند حاصل کرنا بھی ہے جو دل و دماغ کو شفا بخشے۔ مفتی صاحب نے پی ایچ ڈی کی ڈگری سے خود کو سرفراز کیا، اور ان کی درسگاہ صرف کتابوں کی قید میں نہیں، بلکہ عقل، فہم، تجربہ، اور بصیرت کے خزانوں سے مالا مال ایک گلزار ہے۔
وہ فلسفہ و منطق کے خشک مضامین کو ایسے نرم اور شیریں اسلوب میں بیان فرماتے ہیں جیسے کسی خار دار شاخ پر گلاب کھل اُٹھے۔ پرانی کتابوں کے بوسیدہ الفاظ میں نئی زندگی پھونک دیتے ہیں، اور ان کی مثالیں محض عقلی مشق نہیں بلکہ روزمرہ کے واقعات کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ وہ علم کو محض ذہن کی خوراک نہیں سمجھتے بلکہ دل کی غذا، روح کا نور، اور کردار کی تعمیر کا ذریعہ جانتے ہیں۔
ان کے اندازِ تدریس میں لطافت بھی ہے، محبت بھی، اور ایک خاص کشش جو طالبعلم کو کھینچ لاتی ہے۔ میں نے انہیں ہمیشہ تبسم کرتے ہوئے دیکھا — گویا ان کے لبوں پر مسکراہٹ ایک دائم مہمان ہے، جو علم کے ہر جملے کے ساتھ شریکِ سفر رہتی ہے۔
ڈاکٹر مفتی عثمان باچا کا ظرف بھی وسیع ہے، اور ان کی فکر بھی۔ وہ ان علماء میں سے نہیں جو ایک مسلک کی تنگ گلی میں قید ہو کر باقی سب کو محرومی کا طعنہ دیں۔ ان کا سینہ محبت کا سمندر ہے، جہاں ہر مسلمان کے لیے جگہ ہے۔ وہ اتحادِ اُمت کے داعی ہیں، اور تفرقے کے ہر رنگ سے بیزار۔
ان کے ظاہر و باطن میں ایک خاص موافقت ہے۔ وہ جس طرح بولتے ہیں، ویسے ہی رہتے ہیں۔ صاف ستھرا لباس، سفید پگڑی، خوشبو کی مہک، اور وضع داری — ان کی شخصیت کی ہر پرت میں وقار جھلکتا ہے۔ وہ لباس میں بھی زیبائش کے قائل ہیں، اور طبیعت میں بھی۔ ان کے رویّے میں شرافت، باتوں میں شفقت، اور خاموشی میں بھی معرفت کا رنگ جھلکتا ہے۔
اگرچہ ان کا اصل تعلق لکی مروت سے ہے، مگر اب پشاور ان کا وطنِ ثانی ہے — بلکہ یوں کہیے، پشاور اب ان کی خوشبو سے معطر ہے۔
ابتداءً کچھ لوگ ان کے سادات ہونے پر شبہ کرتے تھے، خود مفتی صاحب بھی اس نسبت میں بہت محتاط تھے، مگر وقت نے ثابت کیا کہ وہ واقعی اس خانوادہ پاک سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے نسبت بھی باعثِ فخر ہے، اور کردار بھی باعثِ سند۔
اور ایسا ہی ہے مفتی عثمان باچا —
ایک روشن دل، ایک مسکراتا چہرہ، ایک علم کا چراغ، جو اپنے شعاعوں سے دلوں کو گرما رہا ہے، اور امت کو جوڑ رہا ہے۔