کیا آپ نے کبھی کسی ایسے انسان کو دیکھا ہے جو ایک مکمل انسان ہے، لیکن "چوہا” کہلاتا ہے؟
جس کی کھوپڑی بچوں جیسی چھوٹی ہو، اور چہرہ یوں بگڑا ہوا ہو جیسے قدرت نے اسے ادھورا چھوڑ دیا ہو؟
جو چلتا پھرتا بھی ہے، دیکھتا بھی ہے، لیکن دعائیں دہراتا ہے اور بھیک مانگتا ہے۔
کبھی آپ کو یہ خیال آیا کہ یہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟
اس نے کس جرم کی سزا پائی ہے؟
وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اسے اس حال تک پہنچایا؟
اور یہ کب، کیسے اس معاشرے کا سب سے سیاہ اور شرمناک حصہ بن گیا؟
شاہ دولے کے چوہے ایک ایسا موضوع ہے جو بظاہر ایک روحانی روایت کی شکل میں صدیوں سے ہمارے معاشرے میں پنپتا رہا، لیکن درحقیقت یہ مظلومیت، جہالت اور استحصال کا ایک بھیانک استعارہ ہے۔ یہ وہ سانحہ ہے جس پر نہ صرف آنکھیں نم ہو جاتی ہیں بلکہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر یہ ظلم کب رکے گا، اور کیوں کسی نے اسے سنجیدگی سے روکنے کی کوشش نہیں کی۔
شاہ دولہ بخاریؒ کا مزار گجرات، پاکستان میں واقع ہے۔ روایت ہے کہ وہ ایک نیک بزرگ تھے جنہوں نے بے اولاد عورتوں کے لیے دعائیں کیں، اور ان کی دعاؤں سے کئی گھروں میں بچے پیدا ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس روایت میں توہم پرستی اور من گھڑت عقیدت کا زہر گھول دیا گیا۔ عقیدہ بنایا دیا گیا کہ اگر پہلا بچہ دربار کے لیے نذرانے کے طور پر وقف کر دیا جائے، تو بعد میں نرینہ اولاد ضرور نصیب ہوگی۔ یوں اس دروازے پر ایسے بچوں اور بچیوں کا تانتا بندھ گیا جنہیں "اللہ کی رضا” سمجھ کر درگاہ کے سپرد کر دیا گیا وہ بچے جو انسانی لمس، محبت اور تحفظ کے مستحق تھے، عقیدت کی بھینٹ چڑھ گئے۔

انہیں بچپن میں ایک مخصوص لوہے کی ٹوپی پہنا دی جاتی ہے ایسی ٹوپی جو کھوپڑی کی نشوونما کو روکتی ہے۔ اس اہنی ٹوپی کی وجہ سے ان کا دماغ چھوٹا رہ جاتا ہے، جبکہ جسم نارمل ہوتا ہے، اور چہرہ بتدریج ایسا ہو جاتا ہے جو انسان کم اور کوئی اور مخلوق زیادہ لگتا ہے۔ کچھ پیدائشی طور پر معذور ہوتے ہیں، کچھ ماحول اور جبر کے ذریعے معذور بنا دیے جاتے ہیں۔ اور پھر ان کی شناخت صرف "شاہ دولے کا چوہا” رہ جاتی ہے۔
وہ بچے اور بچیاں جنہیں تحفظ، عزت، اور علم کے راستے پر چلنا تھا، وہ درگاہوں اور بازاروں کے بیچ سڑکوں پر ہاتھ پھیلائے پھرنے پر مجبور ہو گئے۔
جنہیں روشنی، اور تعلیم کی فضا میں سانس لینا تھی، معاشرے کا ایک مفید حصہ بننا تھا وہ اب گندگی، بے بسی، اور تماشے میں بدل چکے ہیں۔
جب شاہ دولے کے چوہے بازاروں میں ہاتھ پھیلائے بھیک مانگتے ہیں، تو ان کے ساتھ اکثر دو تین مکروہ شکلوں والے، غلیظ، لحیم شحیم لوگ بھی دکھائی دیتے ہیں وہ انہیں کاندھوں سے جھنجھوڑتے ہیں، دعائیں رٹواتے ہیں، راستے دکھاتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہوتے ہیں؟
یہ بچے دن بھر میں بھیک کی شکل میں جو پیسہ اکٹھا کرتے ہیں، وہ کہاں جاتا ہے؟ کن جیبوں میں جاتا ہے؟ کن کے دسترخوان سجتے ہیں؟ کون سے عشرت کدے اس غلیظ پیسے سے آباد ہوتے ہیں؟
کیونکہ شاہ دولے کے چوہے کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے جیسے کبھی کسی نے اس کا منہ تک نہیں دھلوایا۔ وہ گندگی میں لپٹا، مٹی میں اٹا، اپنی ہی بو میں سڑتا ہوا صرف پیسہ کمانے کی کی مشین ہے اور پیسہ کسی اور کے عشرت کدوں میں پہنچ رہا ہے۔
اس درندگی کا ایک خوفناک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ معذور بچے، جنہیں شاہ دولے کے چوہے کہا جاتا ہے، بعض اوقات جنسی استحصال جیسے قبیح اور شرمناک رویوں کا بھی نشانہ بنتے ہیں۔ انہیں نہ صرف جسمانی کمزوری کی وجہ سے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ کئی واقعات میں وہ لواطت جیسے گھناؤنے عمل کا شکار ہوتے ہیں، اور بعض حالات میں انہیں اس عمل میں فاعل اور مفعول دونوں کرداروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک ویڈیو دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا جس میں ان بچوں کی بے بسی اور انسانی پستی کا ایسا منظر تھا جو کسی بھی ذی شعور انسان کے حواس کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔
ہمیں اعتراف کرنا پڑے گا کہ شاہ دولے کے چوہے ہمارے معاشرے کے جسم پر رِستا ہوا ایک زخم ہیں۔
یہ کیسا مذہب ہے، یہ کیسا عقیدہ ہے، یہ کیسی عقیدت ہے، یہ کیسا معاشرہ ہے جو درندگی سے بھرپور ہے، اور جس میں یہ سب کچھ خاموشی سے تسلیم کر لیا گیا ہے؟
ہمارے خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں جس دین سے روشناس کرایا، اور معاشرے کے حوالے سے جو زریں اصول بتائے، وہ تو دنیا و آخرت کو سنوارنے والے اصول ھیں۔
ان اصولوں کے مطابق تو ماں باپ نہ صرف دنیاوی کفالت کے، بلکہ اولاد کی تربیت، محبت اور اخروی بھلائی کے بھی ذمہ دار ہیں۔
تو پھر وہ ماں باپ جو اپنا پہلا بچہ دربار کے حوالے کر کے فارغ ہو جاتے ہیں وہ کس تعلیم، کس دین اور کس انسانیت کے علمبردار ہیں؟
ہمارے سماجی کارکن، انسانی حقوق کے علمبردار، شہری آزادیوں کے محافظ، فیمنسٹ، لبرل، ترقی پسند، ماڈرن ازم کے پرچارک، چوکوں پر پلے کارڈ اور موم بتیاں اٹھانے والے "ضمیر فروش شاعر” اور میڈیا پسند دانشور .
آخر انہوں نے کبھی اس موضوع پر آواز کیوں نہیں اٹھائی؟
کیا اس موضوع پر کام کرنے میں انہیں فنڈنگ کا امکان نظر نہیں آتا؟
یا اس میں بین الاقوامی شہرت ملنے کی امید کم ہے؟
یا پھر یہ خوف ہے کہ اگر زبان کھولی، تو کوئی مخصوص مذہبی طبقہ ناراض ہو جائے گا؟
کیا صرف اس لیے انہوں نے ہزاروں معصوم بچوں کی قربانی پر خاموشی کا پردہ ڈال دیا؟
کیا انسانی حقوق کی یہ سیاست بھی مفادات کی محتاج بن چکی ہے؟
اور یہ وہ ملک ہے جس کی افواج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔
جہاں بڑی بڑی میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیاں ہیں۔
جہاں کے لوگ آکسفورڈ اور ہارورڈ جیسے اداروں کے تعلیم یافتہ ہیں۔
جہاں ایک کثیر تعداد ایم اے اور پی ایچ ڈی ہے۔
جہاں ترقی پسند شاعروں کی بھرمار ہے۔
جہاں حبیب جالب اور فیض احمد فیض جیسے انقلابی بستے ہیں۔
جہاں میڈیا اتنا ایڈوانس ہے کہ کیمرا مین کا اسسٹنٹ بھی ماس کمیونیکیشن میں ایم اے ہوتا ہے۔
اسی معاشرے میں بڑے بڑے اسلامی سکالرز، علما، اور شیخ الاسلام بستے ہیں۔
اور ان سب کی موجودگی میں ایک فیکٹری لگی ہوئی ہے، جہاں انسان کے بچے کو مسلسل شاہ دولے کا چوہا بنایا جا رہا ہے۔
کیا قانون اس ظلم کو دیکھتا نہیں؟ کیا معاشرہ اندھا ہے؟ کیا حکومت نے کبھی سوچا کہ یہ نذرانے کے نام پر انسانی قربان گاہ ہے؟ کیا یہ وہی ملک ہے جہاں بچوں کے حقوق کے قوانین موجود ہیں؟ کیا یہ وہی قوم ہے جو ہر وقت اخلاقیات اور دین کے نام پر سینہ ٹھونکتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ مظلوم چہرے کس کے منہ پر طمانچہ ہیں؟
شاہ دولے کا چوہا صرف ایک رسم نہیں، ایک روحانی روایت نہیں، بلکہ ایک زندہ لاش ہے جو ہمارے اجتماعی ضمیر پر روز چلتی پھرتی ہے۔
شاہ دولے کا چوہا صرف ایک فرد نہیں، یہ ایک تہذیب کی تلخ بدنما اور شرمناک سچائی ہے۔
سوال یہ نہیں ہے کہ یہ کب رکے گا، بلکہ یہ ہے کہ ہم کس قسم کے مکروہ اور گھناونے لوگ ہیں۔