اختلاف اور افتراق: اسلامی زاویۂ نظر سے ایک فکری تجزیہ:

اسلام میں فقہی اور اجتہادی مسائل کو بنیاد بنا کر یہ اعتراض یا اشکال کیا جاتا ہے کہ اسلام پر سرے سے عمل کرنا ہی ممکن نہیں، یا یہ کہ اختلافات کی صورت میں اسلام پر عمل کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

اس ضمن میں بطورِ مثال ایسے مسائل کو پیش کیا جاتا ہے جن میں فقہاء کے مابین جائز اور ناجائز کا اختلاف رونما ہوا ہو، مثلاً خون بہنے سے وضو کے ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے میں اختلاف۔

اس حوالے سے اگر کوئی اسلامی تعلیمات کے ضمن میں چند باتوں کو ذہن نشین کر لے تو اُسے کوئی الجھن باقی نہیں رہے گی۔

ہمارے لیے بحیثیتِ انسان یہ ممکن نہیں کہ ہم زندہ انسان ہوتے ہوئے بھی نظری اختلاف سے چھٹکارا پا سکیں۔ ہم اس کائنات میں رہتے ہیں اور اسی کائنات کے مطابق مزاج بھی رکھتے ہیں، جبکہ کائنات کا مزاج یہ ہے کہ اس کی تمام اشیاء ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک ہی ماں باپ کی اولاد میں دنیا جہان کا فرق ہوتا ہے۔ ہمارے چہرے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ سورج زمین سے مختلف ہے اور زمین چاند سے مختلف ہے۔ مگر اس اختلاف کے باوجود کائنات کے اجسام میں تصادم نہیں، بلکہ اس اختلاف کے ہوتے ہوئے بھی ان کے مابین باہمی اشتراک موجود ہے۔

اسلامی تعلیمات میں بھی اختلاف کے سلسلے میں فطرت کا یہی رنگ نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں اختلاف کی گنجائش رکھی ہے اور ان اختلافات کی بنا پر تصادم کو منع فرمایا ہے۔ اس سلسلے میں حضور ﷺ کے ارشادات اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عملی رویے کو اگر دیکھا جائے تو ہمیں یہی شہادت ملتی ہے کہ اختلاف معیوب نہیں، البتہ تصادم بُرا ہے، جسے اسلام افتراق سے منسوب کرتا ہے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: "لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ”، فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ نُصَلِّي، لَمْ يُرِدْ مِنَّا ذَلِكَ. فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ.
(صحیح بخاری: 946، صحیح مسلم: 1770)
ترجمہ:
"حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے غزوۂ احزاب کے دن فرمایا: ’تم میں سے کوئی عصر کی نماز بنو قریظہ (کے علاقے) کے سوا کہیں نہ پڑھے۔‘ راستے میں کچھ لوگوں کو عصر کا وقت ہو گیا۔ بعض نے کہا: ’ہم بنو قریظہ پہنچ کر نماز پڑھیں گے۔‘ بعض بولے: ’بلکہ ہم ابھی پڑھ لیں گے، کیونکہ نبی ﷺ کا مقصد یہ نہیں تھا۔‘ جب نبی ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے کسی کو بھی ملامت نہیں فرمائی۔”

غور کریں! یہ اختلاف اگرچہ نماز کے وقت کے بارے میں تھا، جو کہ فرض ہے، مگر حضور پاک ﷺ نے اس کی اجازت دی۔ لہٰذا جب حضور پاک ﷺ کی تائید اسے حاصل ہوئی تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اختلاف کیسے جائز ہے، جو فرض کی ادائیگی میں کیا جاتا رہا۔ کیونکہ حضور پاک ﷺ دین اسلام میں مرجع ہیں۔ آپ کے افعال، اقوال، تقریرات، الغرض تمام زندگی بحیثیتِ پیغمبر مسلمانوں کے لیے خدا ہی کی طرف سے مقرر کردہ معیار ہے۔

مندرجہ بالا حدیث میں یہ بھی نوٹ کرنے کی بات ہے کہ یہ حدیث جہاں اختلاف کے جائز ہونے کو مشروع قرار دے رہی ہے، وہیں اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اختلاف وہی مشروع ہوگا جس کی گنجائش قرآن اور احادیث کے الفاظ میں موجود ہو، اور جو قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات سے متصادم نہ ہو۔ اس حدیث میں غور کیا جائے تو صحابہ کرام کے دونوں آراء کے لیے اس میں گنجائش موجود ہے۔

اسی طرح جب بھی اسلامی تعلیمات میں کہیں پر اختلاف کی گنجائش موجود ہوگی، وہاں اختلاف کو اسلام کے خلاف نہ سمجھا جائے گا بلکہ اسے اسلام کا مؤید اختلاف کہا جائے گا۔

اس ضمن میں ایک الجھن یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ فرض میں اختلاف تو افتراق ہے، تو فرائض میں اختلاف کے ہوتے ہوئے اتفاق کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ اور فرائض میں اختلاف کو دلیل بنا کر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں جو مختلف فرقے ہیں، یہ دراصل اسلامی تعلیمات میں اسی اختلاف کی بنیاد پر بنے ہیں۔

اس بات کی وضاحت کے لیے ذیل میں ایک مثال لیجیے:

فرض کریں دو بھائی ہیں۔ ان میں سے ایک بھائی کہتا ہے کہ میں قبائلی علاقے میں گھر بناتا ہوں۔ دوسرا بھائی اسے کہتا ہے کہ تمہارے بات سے مجھے ہرگز اتفاق نہیں، یعنی آپ کے ساتھ اس حوالے سے میرا اتفاق کرنا سرے سے ممکن ہی نہیں، کیونکہ قبائل میں تعلیم، صحت، یہاں تک کہ امن و امان کی سہولت بھی نہیں ہے۔ جبکہ دوسرا بھائی کہتا ہے کہ وہاں زندگی سستی ہے، پہاڑوں میں لکڑی ہے، کوئلے کی مزدوری ملتی ہے، جبکہ سیٹل ایریا میں مجھ جیسے ان پڑھ کے لیے ایسے مواقع نہیں کہ میں اپنے بچوں کی ضروریات کے مطابق کما سکوں۔

دونوں کے مابین اس اختلاف کے ہوتے ہوئے بھی، جب ایک بھائی قبائل میں گھر بنانا شروع کرتا ہے تو مخالف بھائی رائے میں شدید اختلاف کے باوجود اُسے گھر بنانے میں پیسے بھی دیتا ہے، اس کے ساتھ کام بھی کرتا ہے۔ اگرچہ ان کے مابین گھر بنانے میں اختلاف جائز اور ناجائز نوعیت کا تھا۔

اس مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ جائز اور ناجائز میں اختلاف بھی افتراق کا باعث نہیں، بلکہ اس اختلاف کے ہوتے ہوئے بھی اتفاق و اتحاد عقل کا تقاضا ہے۔ ایسی صورت حال میں عقل کا فتویٰ محض یہ نہیں کہ ایسے امور میں اختلاف افتراق نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسے امور کو باعثِ افتراق سمجھنا اور بنانا جہالت ہے۔ اختلاف کو افتراق بنانے والے کو جاہل کہنا اسلام کا بھی واضح مؤقف ہے۔

اب اگر کوئی اسلام کے نام پر اس قسم کے اختلافات کو افتراق کا ذریعہ بناتا ہو تو یہ افتراق اس کی جہالت ہی کی طرف منسوب کیا جائے گا، نہ کہ اسلام کی طرف، کیونکہ اسلام میں اس قسم کے جاہلانہ مؤقف کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اختلاف تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ فلاں جدّت پسند جب اختلاف کرتا ہے تو پھر اُس کے اختلاف کو کیوں نہیں مانا جاتا؟ اُس کے مؤقف کو کیوں اسلام کا نمائندہ مؤقف نہیں مانا جاتا؟ یہ تو ایک اور ناقابلِ حل مشکل ہے کہ ایک بندے کے اختلاف کو قبول کیا جائے اور دوسرے بندے کے اختلاف کو افتراق یا گمراہی سے تعبیر کیا جائے! یہ کیسی بات ہوئی؟

ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ کس کے اختلاف کو شرعی لحاظ سے قابلِ قبول مانا جائے اور کس کے اختلاف کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رد کیا جائے؟

جو شخص صرف اسلامی تعلیمات کی بنیادوں سے ہی واقفیت رکھتا ہو، اُسے اس قسم کے اعتراضات نہایت سطحی معلوم ہوں گے۔ مگر چونکہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر اسلامی تعلیمات کے حوالے سے لاپرواہ ہے، اس لیے اس قسم کی سطحی باتیں بھی معاشرے میں اسلام کے حوالے سے الجھنوں کا باعث بنتی ہیں۔

معاشرے میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے جہالت کا پایا جانا کوئی دور کی سائنس نہیں، بلکہ مذکورہ مسئلے میں ہی اس کا جائزہ لیا جائے تو غور کرنے والے کو اسلامی تعلیمات کے حوالے سے معاشرے میں موجود جہالت کا آسانی سے ادراک ہو جائے گا۔ کیونکہ دیکھا جائے تو یہ نہایت ہی آسان بات ہے کہ کس کے اختلاف کو افتراق اور کس اختلاف کو جائز کہا جائے۔

اگر کوئی اختلاف کے لیے مطلوبہ معیاری علم کا حامل شخص، اخلاص کے ساتھ قرآن و سنت ہی کو مرجع بنا کر، صحابہ کرام کے فہمِ دین اور اسلاف کے قرآن و سنت سے اخذ کردہ معقول اور مدلل اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی مسئلے میں اختلاف رکھے، بشرطیکہ اُس کا قبلہ قرآن و سنت ہی ہو، نہ کہ مغربی افکار، اور وہ اپنی رائے کو قطعی نہ سمجھتا ہو کہ "بس جو درست ہے، حق ہے، وہ میری ہی رائے ہے، میرے یا میرے مسلک کے علاوہ جتنے بھی آراء ہیں وہ باطل ہیں”—تو ایسا اختلاف قابلِ قبول ہوگا۔

اس کے برعکس اگر کوئی مذکورہ بالا اصولوں کو تو اختلاف کے لیے بروئے کار لاتا ہو، مگر کسی دوسرے مسلک یا فرد کو انہی اصولوں کے مطابق اختلاف کا حق دینے کا روادار نہ ہو، تو یہ رویہ گمراہی ہے۔ کیونکہ یہ حق صرف خدا اور اُس کے رسول ﷺ ہی کو حاصل ہے کہ اُن کی بات سے اختلاف نہ کیا جائے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص ایسا اختلاف، امت کے مجموعی منہج کو نظر انداز کر کے کرتا ہو، یا اسلامی تعلیمات میں کسی دوسرے فکر جیسے سیکولرازم، کیمونزم وغیرہ کی پیوندکاری کر کے اختلاف کرتا ہو، تو اُس کا اختلاف ہرگز امت کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا، کیونکہ اُس کا اختلاف اسلامی تعلیمات کے دائرے میں محصور نہیں۔

یہ بات واضح طور پر سمجھنے کی ہے کہ اسلام میں اختلاف صرف ان امور میں قابلِ قبول ہے جن میں شریعت نے اختلاف کی گنجائش رکھی ہو۔ لیکن عقائد، قطعی و منصوص احکام، ایسے مسائل جن پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہو چکا ہو، یا وہ نصوص جن کے الفاظ کسی دوسرے مفہوم کی سرے سے گنجائش ہی نہ دیتے ہوں—ان تمام امور میں اختلاف شرعی طور پر جائز نہیں۔

وضاحت کی غرض سے اُن مواقع کی مختصر تشریح پیش کی جا رہی ہے جہاں اختلاف کی شرعاً اجازت نہیں۔

عقائد میں اختلاف:

مثلاً توحید، رسالت، آخرت، فرشتوں، قرآن کی حقانیت، یا جنت و دوزخ جیسے بنیادی عقائد میں کسی قسم کا اختلاف کفر یا گمراہی کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ یہ دین کی بنیاد ہیں۔

قطعی نصوص میں اختلاف:

وہ احکام جو قرآن و سنت کی صریح نصوص سے بغیر کسی احتمال کے ثابت ہوں، مثلاً نماز کی فرضیت، زکوٰۃ، روزہ، حج، یا سود کی حرمت—ان میں اختلاف امت کے اجماعی منہج کے خلاف ہے۔

اجماعِ صحابہ:

جن مسائل پر صحابہ کرام کا اجماعی مؤقف موجود ہو، وہاں اختلاف کرنا دراصل امت کے مستند فہم سے انحراف ہے۔

احکامِ منصوصہ اور قطعی الدلالہ:

وہ احکام جن کے الفاظ میں کسی اور مفہوم کی گنجائش ہی نہ ہو، مثلاً "أَقِيمُوا الصَّلَاةَ” یا "حُرِّمَ الرِّبَا” جیسے واضح اور قطعی دلائل—ان میں اختلاف محض خواہشِ نفس یا گمراہی پر مبنی ہوتا ہے۔

اختلاف کی بنیاد مغربی افکار پر ہو:

وہ اختلاف جو قرآن و سنت کی مرجعیت کی بجائے مغربی نظریات (جیسے الحاد، سیکولرازم، لبرل ازم) پر مبنی ہو، وہ قابلِ قبول نہیں، کیونکہ وہ اسلامی دائرے سے باہر نکل جاتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے