عدل فاروقی ، فلاحی ریاست کا مثالی ماڈل

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، جو مرادِ رسول ﷺ اور دامادِ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی تھے، اسلام کی تاریخ کے وہ عظیم المرتبت ہیرو اور جلیل القدر شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی بے مثال جرأت و دلیری کی بدولت قبولِ اسلام سے قبل ہی عرب میں شہرت حاصل کر لی تھی۔ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا سلسلۂ نسب یوں ہے: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزّیٰ بن رباح بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوئی القرشی۔ ان کا نسب کعب بن لوئی پر جا کر حضور نبی اکرم ﷺ کے نسبِ مبارک سے جا ملتا ہے، جو ان کی عظمت و شرافتِ نسب کا آئینہ دار ہے۔

پیدائش، اوصاف اور قبولِ اسلام :

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ جوانی کو پہنچنے پر فنِ خطابت، کشتی اور فنِ سپہ گری میں مہارت حاصل کی۔ آپ قریش کے لیے سفارتی امور بھی انجام دیتے تھے اور ان کی فہم و فراست پر قوم کو کامل اعتماد تھا۔

قبولِ اسلام: نبوت کے پانچویں اور چھٹے سال جب اہلِ ایمان نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور دینِ اسلام کی بے مثال محبت میں اپنے وطن، کاروبار، خاندان اور پیاروں کو ترک کر کے مکہ مکرمہ جیسے بلدِ امین سے ہجرت اختیار کی، تو اسی دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نگاہ ایک صحابیہ، اُم عبد اللہ بنت ابی حشمہ رضی اللہ عنہا پر پڑی، جو ہجرت کے لیے تیار تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر شدید برہم ہوئے اور کہا کہ اگر خواتین بھی یوں مکہ چھوڑنے لگیں تو قریش کی بڑی رسوائی ہوگی۔ اسی اشتعال میں وہ رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے روانہ ہوئے۔

راستے میں حضرت نعیم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔ جب حضرت عمر نے اپنی نیت ظاہر کی تو حضرت نعیم نے فرمایا: "پہلے اپنے گھر کی خبر لو! تمہاری بہن فاطمہ بنت خطاب اور تمہارے بہنوئی سعید بن زید مسلمان ہو چکے ہیں۔” یہ سن کر حضرت عمر شدید غضبناک ہو کر بہن کے گھر پہنچے۔ اندر حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ، حضرت سعید اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہم قرآنِ کریم کی تلاوت میں مصروف تھے۔

قرآن کی آواز سن کر عمر مزید بھڑک اٹھے۔ حضرت خباب فوراً چھپ گئے۔ عمر گھر میں داخل ہوتے ہی اپنے بہنوئی حضرت سعید کو سخت مارنا شروع کر دیا۔ بہن فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بچانے کی کوشش کی تو انہیں بھی زخمی کر دیا۔ اسی موقع پر حضرت فاطمہ نے غضبناک ہو کر فرمایا:

"اے عمر! تیرے دین میں کوئی حق نہیں ہے!”
پھر انہوں نے کلمۂ شہادت پڑھا:
"أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبدُه ورسولُه”

حضرت عمر نے کہا: وہ اوراق مجھے دکھاؤ جن کی تم تلاوت کر رہے تھے۔ حضرت فاطمہ نے فرمایا: "تم ناپاک ہو، اور ان اوراق کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔” چنانچہ حضرت عمر نے غسل کیا اور قرآنِ کریم کے ان اوراق کی تلاوت شروع کی:

"طٰهٰ ۝ مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى… إِنَّنِي أَنَا اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي” (سورۃ طٰہٰ: 1-14)
یہ کلام سن کر حضرت عمر کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ بے اختیار بول اٹھے:
"کتنا عظیم، بلند اور شیریں کلام ہے!”
پھر فرمایا:
"مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلو۔”
چنانچہ بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔

آپ کو مرادِ رسول ﷺ اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ کے اسلام لانے سے صرف دو روز قبل رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی تھی:
"اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ”

ترجمہ: "اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام (ابو جہل) میں سے جسے تو پسند فرمائے، اُس کے ذریعے اسلام کو عزت و غلبہ عطا فرما۔”
(جامع ترمذی، باب فی مناقب ابی حفص)

آپ کے اسلام قبول کرنے پر، ایک روایت کے مطابق، مسلمانوں کی تعداد چالیس ہو گئی، اور مسلمانوں کو اجتماعی طور پر نماز پڑھنے کی ہمت و جرأت نصیب ہوئی۔

یقیناً سیدنا عمر فاروقؓ کی شخصیت اسلام کی تاریخ میں ایک مثالی نمونہ ہے۔ اُن کی شہادت یکم محرم الحرام کو ہوئی، اور زندہ قومیں اپنے محسنوں اور رہنماؤں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ سیدنا عمرؓ نے ایک ایسی فلاحی، منظم اور مثالی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جو رہتی دنیا تک حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ بن گئی۔

آپؓ کے دورِ خلافت میں جہاں اسلامی فتوحات کا دائرہ مصر، فارس، شام، روم، اور آذربائیجان تک پھیل گیا، وہیں ریاستی نظم و نسق کو مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے متعدد اہم شعبہ جات قائم کیے گئے۔ مثلاً پولیس، جیل خانہ جات، بیت المال، نہری نظام، اور تعلیم کے باقاعدہ ادارے۔ ہر شعبے میں شفافیت، نگرانی اور عوامی فلاح کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔

نظامِ عدل میں آپؓ نے وہ اصول متعارف کروائے جن پر آج بھی دنیا فخر کر سکتی ہے—خواہ وہ گورنرز کا احتساب ہو، خود پر اعتراض کی وضاحت دینا ہو، یا کسی غریب شہری کو امیر کے برابر لا کھڑا کرنا ہو۔ آپؓ کی حکمرانی کا طرز، اس کی وسعت کے باوجود، عاجزی، مساوات، اور قانون کی بالا دستی پر مبنی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سیدنا فاروقِ اعظمؓ کا ذکر آتا ہے تو نہ صرف اسلامی تاریخ بلکہ ریاستی نظم و انصاف کی بہترین مثالیں بھی ذہنوں میں تازہ ہو جاتی ہیں۔

یقیناً سیدنا عمر فاروقؓ کی حیاتِ طیبہ مسلمانوں کے لیے وہ روشن چراغ ہے جو رہتی دنیا تک نظامِ خلافت، عدل و انصاف، اور فلاحی ریاست کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔ اُن کی شہادت اگرچہ یکم محرم الحرام کو ہوئی، لیکن اُن کا قائم کردہ نظام آج بھی زندہ اقوام کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

آپؓ کی خلافت ایک عظیم فلاحی ریاست کی عملی بنیاد ہے جہاں بیت المال سے لے کر تعلیمی اداروں تک، عدلیہ سے لے کر نہری نظام تک، ہر شعبہ منظم، شفاف اور عوامی فلاح کے اصولوں پر قائم تھا۔ آپؓ کی شخصیت انقلابی تدبر، بے مثال جُرأت اور عدل و مساوات کا وہ پیکر تھی جس نے قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کو زیر کیا، مگر خود ہمیشہ چٹائی پر سوتے اور پیوند لگے کپڑوں میں نظر آتے۔

آپؓ کا تصورِ عدل اتنا بلند تھا کہ قاضی کو خلیفہ کے خلاف فیصلہ دینے میں بھی خوف نہ ہوتا، اور خلیفہ خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتا۔ آج کے حکمران اگر سیدنا عمرؓ کی زندگی کو مشعلِ راہ بنا لیں تو دنیا عدل، امن اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتی ہے۔

سیدنا عمر فاروقؓ کا ذکر حال کی اصلاح اور مستقبل کی تعمیر کا پیغام ہے، کہ اقتدار امانت ہے، اور حکمرانی کا معیار محلات نہیں، بلکہ عدل، دیانت اور عوامی خدمت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے