بعض لوگوں کا تذکرہ کرتے ہوئے میں ٹھیک ٹھاک حیران ہوتا ہوں کہ کہاں سے آغاز کروں؟ کیسے کروں؟ اور آیا میں انصاف کر بھی سکوں گا یا نہیں؟ میرے لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسی ہی شخصیات میں سر فہرست ہیں جو کہ مجھے حیران کر دیتی ہیں ایک ایسی شخصیت کا تذکرہ جو کہ نہ صرف تاریخ کے ماتھے پر نقش ہے بلکہ اپنے کردار اور خدمات کی بدولت اسلام کا فخر قرار پایا ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ نام جسے سنتے ہی تصور میں ایک اخلاقی شان اور جلالی وقار دوڑ جاتا ہے، ذہن میں عدل کی شاندار تصویر ابھر آتی ہے، اور آنکھوں کے سامنے ایک عظیم الشان شخصیت مجسم ہو جاتی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف ایک نام نہیں، ایک انقلاب تھے، ایک نظام تھے، ایک معیار تھے، ایک ایسی روشنی تھے جس نے جہالت کی بے شمار تاریکیوں کو چیر کر رکھ دیا تھا۔
دنیا کا سب سے طاقتور حکمران ہوتے ہوئے بھی اپنے کندھے پر آٹا اٹھائے بازار سے گزرتا، جو راتوں کو گلیوں میں گھوم کر محتاجوں کی خبرگیری کرتا، جو کہ اپنے غلام کے ساتھ باری باری اونٹنی پر سفر کرتا۔ احساس ذمہ داری کا اندازہ اس بات سے لگائے کہ انہوں نے ایک بار فرمایا: "اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک پیاس سے مر گیا تو عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا!”
حضرت عمر فاروق کا وہ کیسا دور تھا جب ایک خلیفہ خود تو بھوکا رہتا مگر رعایا کے پیٹ بھرتا، جب چوبیس لاکھ مربع کلومیٹر پر حکومت کرنے والے امیر المومنین درخت کے نیچے بیٹھ کر فیصلے کرتا اور دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کامیابی سے چلاتا۔ اس فقید المثال دور میں سب کا احساس رکھا جاتا، سب کے ساتھ بلا تفریق انصاف ہوتا اور سب کے ساتھ بغیر کسی امتیاز عزت و تکریم سے پیش آیا جاتا۔
حضرت عمر فاروق کی زندگی کا ہر لمحہ ایک درس ہے، ہر قدم ایک نمونہ اور یہ کہ ہر فیصلہ ایک زندہ مثال۔ وہ اسلام کے سپر ہیرو تھے، جنہوں نے نہ صرف اپنے دور کو بدلا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک ناقابلِ فراموش مثال چھوڑی۔ حضرت عمر فاروق کا دور ایسا تھا جس میں ایمان، اصول، اقدار اور نظریات زندگی کے نظام اور لوگوں کے مزاج کا حصہ بن گئے تھے۔
حضرت عمر فاروق حق کے بارے میں نہایت سنجیدہ، انسانیت کے لیے بے انتہا حساس، انصاف کے قیام میں بے حد سخت گیر اور نظم و ضبط کے حوالے سے کمال درجے کا بااصول آدمی تھے۔ آپ کے اقدامات، اصلاحات، ترجیحات اور اعمال میں موجود خوشبو، روشنی اور خیر رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے ہدایت و اصلاح کے طور پر منارہ نور کا کام دیتے رہیں گے۔
سکینڈنیویا کے ممالک میں قائم "سوشل ویلفیئر سسٹم” کو آج بھی "عمر لاز” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہاں لوگ کھلے دل سے برملا اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ "انسانی تاریخ میں ایک فلاحی معاشرت اور ریاست کا نمونہ عمر نے قائم کیا تھا یہ انسانی تاریخ میں ان کا ایسا کنٹربیوشن ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا”۔
اہل مغرب کے تمام تر فکری، مالی اور جنسی مغالطے اپنی جگہ لیکن اس کے باوجود ان میں بعض خوبیاں ایسی بھی پائی جاتی ہیں جنہوں نے مغربی معاشروں کو حیرت انگیز ترقی اور خوشحالی سے ہم کنار کر رکھا ہیں جن کا تفصیلی تذکرہ ہم نے اپنے مضمون "یورپ کے بارے میں” کیا ہے۔ ذہنی آزادی کی بدولت مغربی ممالک کے باشندوں میں اعتراف کا حوصلہ دوسری اقوام کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے نیکی، میرٹ، انصاف، نظم و ضبط، حق پسندی، شفافیت، فرائض کی آدائیگی، انسانی حقوق کی پاسداری اور اقتدار بطورِ امانت، ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کیے تھیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ عظیم مصلح تھے جنہوں نے اجتماعی زندگی میں سخت نظم و ضبط قائم کر کے ایک مثالی، فلاحی، محفوظ، مستحکم اور خوشحال معاشرے کا قیام ممکن بنایا تھا۔ آج کے جدید ترین زمانے میں جن خطوط پر ایک فلاحی ریاستی ڈھانچہ قائم ہوتا ہے ان میں سے ذیادہ تر کا آغاز ان کے مبارک دور میں ہوا تھا۔
حضرت عمر فاروق کے ہاں غیر معمولی طور پر شدید احساس ذمہ داری پائی جاتی تھی۔ وہ اپنے دور خلافت میں بھیس بدل بدل کر مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر جاکر عام لوگوں کے حال احوال معلوم کرتے، اگر کہیں مسائل درپیش ہوتے تو ضروری اقدامات فوراً اٹھاتے اور اس عمل میں خود ہی پیش پیش رہتے۔
حضرت عمر فاروق کے نزدیک اصول پر کمپرومائز کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اصول اور انصاف کی خاطر اپنے بیٹے اور گورنروں تک کو نہیں بخشا۔ ان کے دور خلافت میں اہم مناصب پر فائز لوگ سرکاری خط و کتابت کے دوران اختتام ہمیشہ اس نصیحت پر ضرور کرتے کہ”نا انصافی سے لازم بچیں ورنہ حضرت عمر فاروق کے انصاف سے پھر بچنا ناممکن ہے۔” یہ سرکاری سطح پہ وہ عمومی مزاج تھا جو سخت احتساب کی بدولت پروان چڑھا تھا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نظر میں اپنا پرایا، دور قریب، اونچ نیچ، حسب نسب، کالا گورا، امیر غریب، عرب عجم سب برابر تھے، وہ انہیں بنیادوں پر کوئی امتیاز قطعاً روا نہیں رکھتے تھے۔ ان کے بارے میں خاکسار نے جو کچھ پڑھا، سوچا یا سمجھا ہے اور اس کے نتیجے میں جو احساس پروان چڑھا ہے وہ یہ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سراپا شجاع، متقی، احساس ذمہ داری سے لبالب بھرا، انسانیت کا وسیع ترین تناظر میں خیرخواہ، تصنع و ریا کاری سے آخری حد تک متنفر، اصول کا دامن ہر حالت میں تھامنے والا، انسانی تاریخ میں انصاف کا سب سے بڑا عالمبردار، مثالی حکمران، غیرت ایمانی سے لبریز، بہترین منتظم، صاف گو اور صاف دل انسان تھے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور خلافت اسلام کا روشن ترین باب ہے جس پر مسلمانوں سمیت تمام معقول اور انصاف پسند انسان قیامت تک فخر کریں گے۔ جب تک حق سچ، انسان دوستی، انصاف، میرٹ، اصول پسندی اور نظم و ضبط کی قدر موجود ہے تب تک حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر موجود ہوگا۔
جب سے میں، فخر انسانیت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت اور کردار سے آگاہ ہوا ہوں، میرے دل میں ان کی محبت اور عقیدت کی جڑیں بہت گہرائی سے پیوست ہو گئی ہیں۔ جب بھی کبھی ان کا تذکرہ سنتا یا پڑھتا ہوں تو جذبات کا ایک سمندر سینے میں امڈ آتا ہے، میرا دل ان کی عقیدت اور احترام سے پوری طرح جھک جاتا ہے۔
میرے لیے اگر سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، سب سے ذیادہ کوئی محبوب شخصیت اور کردار ہے تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں۔ میں اکثر دوستوں کے محفلوں میں یہ بات دہراتا رہتا ہوں کہ ہر بندے کا اپنا ایک آئیڈیل سانچہ ہوتا ہے جس میں کوئی نہ کوئی فٹ ہوتا رہتا ہے میرے آئیڈیل سانچے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پوری طرح فٹ ہیں۔
ایک ایسی شخصیت کی عظمت اور بلندی میں کیا بحث ہوسکتی ہے جن کی ہدایت خالق کائنات کی اپنی منشاء میں شامل ہو، جو مراد رسول ہو، جن کی ہدایت کے لیے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالق کائنات کے سامنے دست آرزوں دراز کیا تھا، اور وہ اس قدر سلیم الفطرت واقع ہوگئے تھے کہ اپنی بہن اور بہنوئی سے جب کلام حق سنا تو قبولیت حق میں پل بھر کے لیے بھی تاخیر گوارا نہیں کی، ان کی قبولیت اسلام مسلمانوں کے لیے عزت، طاقت اور تحفظ کی ضمانت بن گئی اور وہ کھل کر آللہ کی عبادت بجا لانے لگے، بہ بانگ دہل ہجرت کرنے لگے جبکہ اپنے اسلام لانے کو بھی ظاہر کرنے لگے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک نہایت مخلص، یکسو، سچا اور حق پسند انسان تھے اپ ایمان لائے تو سراپا اسلام کے سانچے میں ڈھلنے لگے اور اسلام ہی اپ کا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ کا کیا مقام تھا آئیے اس حوالے سے چند ارشادات ملاحظہ کرتے ہیں۔
1 حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "آللہ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کیا ہے”۔ (ترمذی)
2 ایک اور موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ” اے عمر! تم سے شیطان ڈرتا ہے”۔ (ترمذی)
3 حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "میری امت میں اللہ کے اوامر اور نواہی میں سب سے زیادہ سخت عمر ہے”۔ (ترمذی)
4 حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو یقیناً عمر بن خطاب ہوتے”۔ (ترمذی)
5 حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "عمر کے غصے سے بچو، جب وہ ناراض ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہو جاتا ہے”۔ (الریاض النضرہ)
عوامی حقوق اور سرکاری املاک کو برتنے کے حوالے سے جو معیار اور احساس حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں پایا جاتا ہے اس کی مثال ناممکن ہے ایک مرتبہ لوگوں سے مخاطب تھے ایک صاحب اٹھا اور کہنے لگا "ہم اپ کی بات نہیں سنتے”، پوچھنے لگے کیوں؟ مذکورہ صاحب نے کہا "اپ کی چادر ہماری چادروں سے بڑی کیوں ہے”؟ جبکہ ہم سب کو یکساں طور پر چادریں ملے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی ناگواری کا اظہار کئے بغیر اپنے بیٹے کو اشارہ کیا کہ وضاحت کریں اور انہوں نے اٹھ کر کہا کہ "میں نے اپنے حصے کی چادر اپنے والد کی خدمت میں پیش کیا ہے یہ انہوں نے اضافی طور پر قطعاً نہیں لیا”۔ یہ معیار اور کہاں ؟
اسلام انسانی کردار کو کس بلندی اور سماج کو کس خوبی سے ہمکنار دیکھنا چاہتا ہے اس کا سب سے خوبصورت اور مکمل نمونہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت اور خلافت میں دنیا کو نظر آتا ہے۔ حضرت عمر فاروق حقیقی معنوں میں انسانیت کا محسن، امت کا سہارا، انصاف کا علمبردار، استقامت کا کوہ گراں، نظم و ضبط کا بلند پایہ حامل، خیر و خوبی کا پختہ حامی اور حق و سچ کا ہر دم طرف دار رہے۔ تاجدار کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار مرتبہ آپ کی حق پسندی اور جرات پر مسرت کا اظہار کیا۔
مولانا صفی الرحمن مبارک پوری نے اپنی کتاب "تجلیات نبوت” میں حضرت عبدآللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت نقل کیا ہے کہ "جب حضرت عمر فاروق نے اسلام قبول کیا، تو ہم برابر طاقتور اور باعزت رہے”، انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ "ہم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھنے پر قادر نہ تھے، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا۔”
حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے "جب حضرت عمر فاروق اسلام لائیں تو اسلام ظاہر ہوا۔ اسلام کی علانیہ دعوت دی گئی۔ ہم لوگ حلقے لگا کر بیت اللہ کے گرد بیٹھتے اور اس کا طواف کیا کرتے تھے اور جس نے ہم پر سختی کی ہم نے بھی اس سے برابر کا انتقام لیا اور ان کے بعض ذیادتیوں کا جواب دیا”۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت امت مسلمہ کے لیے دور زوال کی جانب گامزن ہونے کا پہلا واقعہ تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دور خلافت سے اسلامی معاشرت کو جو جلال و جمال اور وقار و اقبال میسر ایا تھا ان کی شہادت سے گویا یہ اقدار تیزی سے بدلنا شروع ہوگئے یہ ایک ہمہ جہت نقصان تھا جس کا ازالہ آج تک ممکن نہ ہوسکا۔ آج جب میں مسلم سماج کو انصاف، میرٹ، احساس، استحقاق اور اہلیت سے خالی دیکھتا ہوں تو بخدا بے اختیار دل سے دعا اٹھتی ہے "یا اللہ ایک عمر تو پیدا کر”۔