سپریم کورٹ آف پاکستان کے 27 جون 2025 کے فیصلے نے پاکستان کے پارلیمانی نظام میں ایک ایسی نظیر قائم کر دی ہے جس پر اہلِ عقل ماتم نہ کریں تو کیا کریں؟ مخصوص نشستوں کا وہ مالِ مفت، جسے عوامی ووٹ کے بجائے سیاسی سوداگری سے بھرا گیا، اب "دلِ بے رحم” حکمران اتحاد کے ہاتھ میں مکمل آ چکا ہے۔
جن نشستوں پر تحریک انصاف کا آئینی حق مانا جا رہا تھا، وہ سب کی سب مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف کے درمیان بانٹ دی گئیں، گویا پارلیمانی حلوہ بانٹنے کی ایک "نئی روایتی” تقریب کا انعقاد ہوا، اور عدالتی دستاویزات کو اس کا دعوت نامہ بنا دیا گیا۔
آئینِ پاکستان کی شق 51 واضح طور پر کہتی ہے کہ مخصوص نشستیں پارلیمنٹ میں موجود نمائندگی کے تناسب سے دی جاتی ہیں۔ جب ایک جماعت تحریک انصاف سب سے زیادہ ووٹ لے کر پارلیمان میں آتی ہے، تو مخصوص نشستوں سے اس کی مکمل محرومی آئینی، اخلاقی اور جمہوری ہر زاویے سے سوالات کھڑے کرتی ہے۔
فیصلہ ساز قوتیں اور عدلیہ یہ دلیل دے رہی ہیں کہ چونکہ تحریک انصاف نے "خود” کسی جماعت سے اتحاد نہیں کیا بلکہ آزاد حیثیت میں جیتنے والوں کو سنی اتحاد کونسل میں شامل کر دیا، اس لیے مخصوص نشستوں کا مطالبہ بے بنیاد تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ووٹرز نے سنی اتحاد کونسل کو ووٹ دیا تھا؟ یا عمران خان کے نام پر آزاد کھڑے امیدواروں کو؟
اصل سیاسی نمائندہ کون ہے؟ وہ جو عوام کے ووٹ سے آیا، یا وہ جسے اتحادیوں کے تاش میں شامل کر کے نشست عطا کی گئی؟
یہ مخصوص نشستیں، جو عوامی ووٹ سے نہیں بلکہ انتخابی تناسب سے دی جاتی ہیں، اب ایک "ریاستی انعام” کی شکل اختیار کر گئی ہیں جو جس کے قریب ہے، وہ لے جائے۔ جن کے پاس ووٹ ہیں، ان کے حصے میں محرومی ہے اور جن کے پاس تعلقات ہیں، ان کے حصے میں ”قانون” آتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔ اب آئینی ترامیم، نیب قوانین، عدالتی حدود، الیکشن کمیشن کے اختیارات سب کچھ تختہ مشق بن سکتے ہیں۔ایک ایسا اتحاد جو عوامی مینڈیٹ سے نہیں، بلکہ پارلیمانی انجینئرنگ سے قائم ہو جب آئین سے کھیلنے کا اختیار پائے گا، تو جمہوریت کس کھاتے میں بچے گی؟
عدلیہ سے عوام کی توقع یہی تھی کہ وہ طاقتور کا احتساب کرے، نہ کہ کمزور کی گردن پر ہاتھ ڈالے۔ مگر اب عدلیہ خود ایک فریق بنتی جا رہی ہے اور فیصلے جمہور کی حمایت میں نہیں، اقتدار کے تحفظ میں سنائے جا رہے ہیں۔
یہ فیصلہ نہ صرف تحریک انصاف کو پارلیمانی حقوق سے محروم کرتا ہے، بلکہ ایک خطرناک پیغام بھی دیتا ہے کہ "آپ ووٹ لے آئیں، سیٹ نہیں ملے گی، آپ نظریہ لے آئیں، نشستیں بانٹ دی جائیں گی، آپ عوامی لیڈر ہوں، تو آپ کو پارلیمان میں نہیں جیل میں جگہ ملے گی!”
ایسے فیصلے وقتی فائدہ ضرور دیتے ہیں، لیکن تاریخ کا ترازو ہمیشہ سچ کی طرف ہی جھکتا ہے، اصول کی طرف جھکتا یے، اور عوام کی آواز کی طرف جھکتا ہے۔ جنہوں نے آج مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ سے پارلیمان کی شکل بدلی ہے، وہی کل پارلیمان سے بے دخل بھی ہو سکتے ہیں۔
"مالِ مفت، دلِ بے رحم” صرف ایک محاورہ نہیں، بلکہ پاکستانی سیاست اور عدالتی فیصلوں کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ مخصوص نشستوں کا یہ فیصلہ اس جمہوری نظام کی بنیادوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ عوام تماشائی ہیں، ووٹ بے وقعت ہے، اور پارلیمان ایک بند کمرے کی مرضی کا خاکہ بن چکا ہے۔
اب یہ دیکھنا ہے کہ قوم کب بیدار ہوتی ہے، اور کب ووٹ کو عزت، صرف نعرہ نہیں، ایک ناقابلِ انکار حقیقت بن کر ابھرتی ہے۔