محبت: ایک فریب

محبت ایک جھوٹ ہے۔ شاید سب سے خوبصورت، سب سے خطرناک اور سب سے تباہ کن جھوٹ۔ یہ وہ دھوکہ ہے جو ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے — کہ محبت خالص ہوتی ہے، محبت بے غرض ہوتی ہے، محبت انسان کو مکمل کر دیتی ہے۔ لیکن جیسے جیسے ہم عمر کے سچ کے قریب آتے ہیں، ویسے ویسے یہ دھوکہ واضح ہوتا جاتا ہے۔ ہم سیکھتے ہیں کہ محبت کے نام پر سب کچھ لیا جاتا ہے، مگر بہت کم دیا جاتا ہے۔ اور جو کچھ دیا جاتا ہے، اس کا بل بعد میں جذباتی بلیک میلنگ، احسان جتانے اور وفاداری کے تقاضوں کی صورت میں چکانا پڑتا ہے۔

ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ والدین سے بڑھ کر کوئی محبت کرنے والا نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ والدین کی محبت بھی اکثر اپنی مرضی اور انا کے گرد گھومتی ہے۔ وہ اپنی اولاد کو صرف اس وقت تک قبول کرتے ہیں جب تک وہ ان کے خوابوں کے مطابق چلتے ہیں۔ اولاد اگر اپنی پسند سے شادی کرنا چاہے تو اکثر ماں باپ کی محبت، عزت نفس اور سماجی "شرم” کے نیچے دفن ہو جاتی ہے۔ وہ اس بات پر خوش نہیں ہوتے کہ ان کا بچہ خوش ہے، بلکہ اس بات پر کہ وہ یہ دنیا کو دکھا سکیں کہ ان کی بیٹی یا بیٹا فلاں بڑے نام یا مشہور خاندان میں شادی شدہ ہے۔ یعنی محبت نہیں، بلکہ سماج کے سامنے فخر کا سامان۔

کیا یہ محبت ہے؟ یا صرف رشتہ داری کے لبادے میں لپٹی ہوئی خودغرضی؟ والدین اکثر اپنی قربانیوں کا حساب رکھتے ہیں، اور اولاد سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ساری زندگی ان قربانیوں کے بوجھ تلے دب کر جئیں۔ "ہم نے تمہارے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟” یہ جملہ شاید سب سے عام اور سب سے ظالم ہتھیار ہے جو والدین اپنی محبت کے نام پر استعمال کرتے ہیں۔ محبت اگر واقعی خالص ہوتی، تو اس میں احسان جتانے کی گنجائش نہ ہوتی۔ یہ محض جذباتی قرض ہے جسے محبت کا نام دے دیا گیا ہے۔

دوسری طرف، رومانوی محبت کا جو تصور ہمیں فلموں، شاعری اور ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے، وہ اس سے بھی زیادہ جھوٹا ہے۔ وہ خوبصورت الفاظ، بارش میں بھیگتے عاشق، اور جان دینے تک کی قسمیں — سب محض من گھڑت خواب ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر محبتیں مفادات پر قائم ہوتی ہیں۔ لوگ محبت اس وقت کرتے ہیں جب انہیں کچھ چاہیے ہوتا ہے — توجہ، تحفظ، جسمانی تعلق یا صرف تنہائی کا مداوا۔ جیسے ہی وہ چیز مل جائے، یا جیسے ہی دوسرا شخص اپنی مرضی کی راہ اپنائے، محبت دم توڑ دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اکثر رشتے محض سودے ہوتے ہیں — میاں بیوی کا رشتہ، دوستوں کا رشتہ، بہن بھائی، یہاں تک کہ اولاد اور والدین کا رشتہ — سب کچھ لین دین پر مبنی ہے۔ آپ جب تک ان رشتوں کی شرائط مانتے رہیں، آپ محبوب ہیں۔ جیسے ہی آپ اپنی آواز اٹھاتے ہیں، اپنی مرضی کرتے ہیں، یا بس تھوڑا سا الگ ہٹتے ہیں، آپ مجرم ٹھہرتے ہیں۔ محبت ختم ہو جاتی ہے، یا پھر الزام میں بدل جاتی ہے۔

دوستویفسکی، جو انسانی روح کی گہرائیوں میں جھانکنے والا ادیب تھا، اس نے کہا تھا کہ انسانیت سے محبت کرنا آسان ہے، مگر ایک شخص سے، مسلسل، اس کی خامیوں سمیت محبت کرنا، سب سے مشکل کام ہے۔ اس کی تحریروں میں محبت کبھی بھی وہ چمکدار، خوشگوار جذبہ نہیں ہے جو ہمیں دکھایا جاتا ہے۔ اس کے کردار محبت میں مبتلا ہو کر خود کو تباہ کر دیتے ہیں، کیونکہ وہ خالص محبت کی تلاش میں ہوتے ہیں — ایک ایسی محبت جو شاید اس دنیا میں موجود ہی نہیں۔

محبت اکثر صرف ایک عادت ہوتی ہے، ایک ضرورت۔ جب وہ پوری نہ ہو تو محبت کا پردہ چاک ہو جاتا ہے۔ اور اگر کسی نے واقعی خالص محبت کرنے کی کوشش کی، کسی کو بنا کسی لالچ، بنا کسی امید کے چاہا — تو وہ اکثر تنہا رہ جاتا ہے، ٹوٹ جاتا ہے، ختم ہو جاتا ہے۔ ایسی محبت کو دنیا بے وقوفی کہتی ہے، جذباتی کمزوری سمجھتی ہے۔ اور سچ یہی ہے کہ اس دنیا میں سچی محبت کی کوئی جگہ نہیں، کیونکہ سچائی خود تکلیف دہ ہے، اور لوگ صرف وہی دیکھنا چاہتے ہیں جو خوشنما ہو۔

سوال یہ ہے کہ اگر محبت صرف دینا ہے، تو کیا انسان واقعی اتنا عظیم ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی بغیر کسی بدلے کی توقع کے صرف دیتا رہتا ہے؟ شاید کوئی ہو، مگر وہ دنیا میں اجنبی سمجھا جاتا ہے، پاگل کہلاتا ہے۔ کیونکہ یہ دنیا صرف وہی محبت سمجھتی ہے جس میں کچھ حاصل ہو — چاہے وہ کسی کی ذات ہو، وقت ہو، یا معاشرتی سٹیٹس۔

محبت کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ وہ ایک خوشنما جھوٹ ہے — ایک ایسا جھوٹ جس پر انسان اپنے سب سے قیمتی جذبات قربان کر دیتا ہے، صرف اس لیے کہ اسے یقین دلایا گیا ہے کہ محبت سب کچھ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ محبت کچھ نہیں۔ یہ صرف ایک خیال ہے، ایک تصور — اور سب سے بڑا فریب۔ ہم جسے محبت کہتے ہیں، وہ اکثر محض جذباتی تسلط، سماجی مجبوری یا نفسیاتی کمزوری ہوتی ہے۔ محبت کے نام پر لوگ دوسرے کو قابو میں رکھنا چاہتے ہیں، ان پر احسان جتاتے ہیں، یا انہیں اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اور سب سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس جھوٹ کو ہم سب خوشی خوشی قبول کرتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی کا مقصد محبت میں پانا چاہتے ہیں، اس جھوٹ میں اپنا وجود فنا کر دیتے ہیں، اور جب وہ محبت ہمیں توڑ دیتی ہے، تو ہم یا تو خود کو الزام دیتے ہیں یا دنیا کو — مگر سچ کبھی تسلیم نہیں کرتے کہ محبت ایک جھوٹ تھی، ایک بہت خوبصورت مگر زہریلا جھوٹ۔

آخر میں، اگر کوئی شخص واقعی محبت کرتا ہے، بنا کسی امید، بنا کسی بدلے، صرف اس لیے کہ وہ دینا چاہتا ہے — تو وہ شاید اس جھوٹ سے باہر نکل چکا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ محبت کا کوئی وجود نہیں، مگر پھر بھی محبت کرتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں محبت سچ بن جاتی ہے — مگر صرف اس لمحے کے لیے، جب دینے والا کچھ نہ مانگے، اور لینے والا کچھ نہ سمجھے۔

مگر اس سچ کی قیمت بہت مہنگی ہے — خودی کی فنا، تنہائی کی گود، اور اس تلخ حقیقت کا سامنا کہ محبت… بس ایک جھوٹ ہے، جو ہم سب نے اپنے دل کو بہلانے کے لیے ایجاد کیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے