ایران، امریکہ اور ایران، اسرائیل کے درمیان جاری جنگ آخرکار اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ بظاہر دونوں جانب کے میڈیا نے اسے اپنی فتح سے تعبیر کیا، لیکن حقیقی نقصان ہمیشہ کی طرح عوام کا ہی ہوا، انسانی جانیں، معاشی تباہی، اور سیاسی عدم استحکام۔
اس پس منظر میں، ہم اپنی محدود فہم اور مشاہدے کی روشنی میں ریاستِ ایران اور دنیا بھر میں موجود اس کے فکری و نظریاتی حامیوں، بالخصوص تہرانی ذہنیت رکھنے والے افراد، کو چند مخلصانہ مشورے دینا چاہتے ہیں۔ یہ مشورے نہ تو کسی دشمنی کی بنیاد پر ہیں، نہ تعصب کی۔ بلکہ یہ اصلاح، اخوت، اور وحدتِ امت کے جذبے کے تحت پیش کیے جا رہے ہیں۔
پہلا مشورہ:
پروکسی وار کا خاتمہ اور ہمسائیوں کا احترام
ایران کو اپنے ہمسایہ ممالک میں، خصوصاً پاکستان، شام، عراق، لبنان، افغانستان ،پاکستان، بحرین اور دیگر قرب و جوار کے ممالک میں، جاری پروکسی جنگی پالیسیوں سے گریز کرنا چاہیے۔
ایران کے لیے ہرگز لازم نہیں کہ وہ بطور ریاست دنیا بھر میں، بالخصوص اسلامی دنیا میں، اپنی مخصوص فقہی تشیع کو ریاستی و انقلابی انداز میں رائج و نافذ کرے۔
یہ طرز عمل نہ صرف دیگر مسلم فرقوں میں تشویش کا باعث بنتا ہے بلکہ امت مسلمہ کی وحدت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایران اگر واقعی اسلامی اخوت کا داعی ہے تو اسے احترامِ مسالک اور ہم آہنگی کو ترجیح دینی چاہیے۔
دوسرا مشورہ:
صفوی تشیع سے علوی تشیع کی طرف رجوع
ہم ریاست ایران، پاکستان اور خصوصاً گلگت بلتستان میں موجود اہل تشیع برادری سے ایک مخلصانہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ صفوی شیعیت سے باہر نکل کر علوی شیعیت کی طرف رجوع کریں۔
علوی تشیع وہ ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے علم، عدل، زہد، تقویٰ، حلم اور وحدت پر مبنی ہے۔
جبکہ صفوی تشیع ایک مخصوص ایرانی ریاستی مفاد، تاریخی دشمنی، اور سیاسی مقاصد پر مبنی تشیع ہے جس میں نفرت، طعن، اور فرقہ واریت کا رنگ نمایاں ہے۔
علوی تشیع نہ صرف اہل سنت کے لیے قابل احترام ہے بلکہ یہ امت مسلمہ کے اتحاد کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس صفوی تشیع عالم اسلام میں افتراق، انتشار اور تصادم کو جنم دیتی ہے۔
تیسرا مشورہ:
دفاع پر توجہ اور شور و غوغا سے پرہیز
ایران کو چاہیے کہ وہ اپنی عسکری توانائی، مالی وسائل اور ریاستی کوششوں کو بنیادی دفاعی صلاحیتوں کی بہتری پر صرف کرے۔
جتنا وقت، سرمایہ، اور توانائی پروکسی وار، میڈیا پروپیگنڈہ، اور شور شرابے پر صرف کی جا رہی ہے، اگر اس کا نصف بھی ایران کی حقیقی دفاعی ضروریات، جیسے ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، میزائل سسٹمز اور دفاعی اتحادی پالیسیوں پر لگایا جائے تو ایران واقعی ایک مضبوط اور قابل احترام ریاست بن سکتا ہے۔
یہ تینوں مشورے کسی بغض یا مخالفت پر مبنی نہیں بلکہ خلوصِ دل سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان پر غور کرنا یا نظر انداز کرنا ایران اور اس کے فکری حامیوں کا حق ہے۔ البتہ ہمارا مؤقف یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود افہام و تفہیم اور مکالمے کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنے چاہییں۔
اگر واقعی ہم حضرت علیؓ کے ماننے والے ہیں تو علیؓ کی طرح سچ کو قبول کرنے، اختلاف کو برداشت کرنے، اور دلیل سے بات کرنے کی روایت کو زندہ رکھیں۔