27 جون 2025 کو سنایا گیا مخصوص نشستوں کا فیصلہ بظاہر آئینی تشریح کا معاملہ لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ پاکستان کے سیاسی اور جمہوری ڈھانچے پر ایک گہرا اور ناقابل تلافی وار ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے نہ صرف عوامی مینڈیٹ کو روند ڈالا گیا، بلکہ عدالت کے کندھوں پر سوار ہو کر ایک اقلیتی حکومتی گروہ کو پارلیمانی دو تہائی اکثریت عطا کر دی گئی وہ بھی ایسی نشستوں کے ذریعے جن پر عوام نے ووٹ تحریک انصاف کے حق میں ڈالا تھا۔
یہ کہنا کہ یہ فیصلہ محض تکنیکی تھا، خود فریب کے سوا کچھ نہیں۔ درحقیقت، اس فیصلے نے آئین کی روح، پارلیمانی جمہوریت کے اصول، اور عوام کے حقِ انتخاب کو ایک طرف پھینک دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ایک ایسے عمل کو قانونی تحفظ دیا جو کہ نہ عوام کی خواہش تھی، نہ آئین کا عکس، بلکہ ایک منظم سیاسی بندوبست کا حصہ تھا جس کے ذریعے عوامی رائے کو کچلا گیا۔
یہ بات انتہائی اہم ہے کہ 12 جولائی 2024 کو جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں دو ٹوک انداز میں لکھا تھا کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ بنیادی طور پر عوام کے ووٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ کسی کاغذی یا مصنوعی جماعت کو اس بات کا حق نہیں کہ وہ ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے والی جماعت کی مخصوص نشستوں پر قبضہ کرے۔ اُن کا وہ فیصلہ آئینی اصولوں، پارلیمانی روایات اور جمہوری اقدار کی شاندار عکاسی تھا۔
لیکن 27 جون 2025 کو سنایا گیا فیصلہ انہی اصولوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ حیرت انگیز طور پر، یہ فیصلہ 13 رکنی بینچ کے ماضی کے فیصلے کے برخلاف صرف 12 رکنی بینچ سے سنایا گیا۔ اصولی طور پر اگر 13 ججوں نے ایک واضح آئینی مؤقف اپنایا تھا، تو اسے بدلنے کے لیے کم از کم ویسا ہی یا اس سے بڑا بینچ درکار تھا۔ مگر یہاں ایسا نہ ہوا۔ عدالتی روایت کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے، ایک چھوٹے بینچ سے وہ فیصلہ واپس لیا گیا جو عوامی مینڈیٹ کا محافظ تھا۔
اگرچہ اس بینچ میں قاضی فائز عیسیٰ شامل نہیں تھے لیکن انکی کمپرومائزڈ عدالتی روح اس فیصلے میں جھلکتی نظر آتی ہے، اس بینچ میں کئی ایسے معزز جج شامل تھے جو ماضی میں تحریک انصاف کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔ اس پس منظر میں عدالت کی غیر جانب داری اور عدالتی عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات جنم لینا فطری ہے۔
بینچ کے اندر سے بھی اختلاف کی صدائیں بلند ہوئیں۔ جسٹس صلاح الدین نے عدالتی وقار اور انصاف کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو اس مقدمے سے الگ کر لیا یہ ایک غیر معمولی مگر قابلِ تحسین قدم تھا، جس سے ظاہر ہوا کہ ہر جج اس فیصلے کا بوجھ اپنے ضمیر پر نہیں اٹھا سکتا۔
فیصلے سے پہلے مخصوص صحافی اور فیصلے کے فوری بعد حکومتی وزراء اور ترجمانوں نے جو بیانات دیے، وہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ محض عدالتی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک سیاسی میچ کا فائنل راؤنڈ تھا۔ فیصل واوڈا کا اے آر وائی پہ یہ دعویٰ کہ انہیں ایک سال پہلے ہی علم تھا کہ یہ نشستیں تحریک انصاف سے چھین کر حکومت کو دے دی جائیں گی، نہ صرف عدلیہ کے وقار پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ پورے انتخابی اور آئینی عمل کو ایک ’’مسلط شدہ منصوبہ‘‘ بنا دیتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد حکومت کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔ اس اکثریت کے ذریعے آئین میں تبدیلیاں، اہم قانون سازی، اور مستقبل کے انتخابی ڈھانچے کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔ یہ تبدیلی جمہوریت کے ماتھے پر ایک اور داغ ہے۔
جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے، تو اس کی عددی طاقت میں مخصوص نشستوں کی غیر موجودگی سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ موجودہ نظام میں پارلیمانی نظام کی حیثیت محض رسمی رہ گئی ہے۔ مگر اس فیصلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ تحریک انصاف کو سیاسی طور پر کچلنے کی منظم کوشش پوری قوت کیساتھ بدستور جاری ہے۔
تاہم، یہ فیصلہ وقتی جیت ہو سکتی ہے۔ مگر جس بیدردی سے عوام کے مینڈیٹ کو مسخ کیا گیا ہے، اس کے ردعمل میں سیاسی شعور اور احتجاجی توانائی مزید تیز ہو گی۔ عمران خان آج بھی پاکستان کے سب سے مقبول رہنما ہیں، اور عدالتی فیصلوں یا سیاسی سازشوں سے ان کی عوامی مقبولیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ یہ ہر وار، ہر ناانصافی، اور ہر عدالتی یوٹرن، تحریک انصاف کے بیانیے کو مزید تقویت دیتا ہے۔
اس فیصلے کے ذریعے عوام کو یہ پیغام دیا گیا کہ ان کا ووٹ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اور سیاسی مستقبل کا تعین وہ حلقے کریں گے جو آئینی مینڈیٹ سے بالا تر ہیں۔ یہ وہ پیغام ہے جس کے نتائج وقتی طور پر خاموش ہو سکتے ہیں، لیکن تاریخ کے صفحات میں چیختے چلاتے نظر آئیں گے۔
یہ فیصلہ محض ایک قانونی جملہ نہیں، بلکہ ایک مکمل سیاسی اسکرپٹ ہے اور اس اسکرپٹ کا اختتام عدلیہ کی ساکھ، پارلیمان کی وقعت، اور عوامی امیدوں کی شکست سے جڑا ہوا ہے۔