تمہید:
پاکستان کی تاریخ قدرتی آفات، حادثات اور سانحات سے بھری پڑی ہے، مگر جو چیز ان سانحات کو مزید بھیانک بناتی ہے وہ ریاستی مشینری کی ناکامی، سیاسی قیادت کی غفلت اور انسانی ہمدردی سے عاری رویہ ہے۔
حالیہ سانحہ سوات بھی ایسا ہی ایک اندوہناک واقعہ ہے، جس میں صرف زمین نہیں کھسکی بلکہ حکومت کی ذمہ داریاں، سیاسی اخلاقیات اور انسانی ضمیر بھی لرز کر رہ گئے۔ قدرتی آفت کے بعد جو ریاستی اور حکومتی رویہ سامنے آیا، اس نے متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کی۔
پس منظر:
خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں حالیہ دنوں موسلا دھار بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد علاقے شدید متاثر ہوئے۔ رابطہ سڑکیں منقطع ہو گئیں، درجنوں مکانات منہدم ہوئے، متعدد افراد جاں بحق ہوئے اور سینکڑوں بے گھر ہو گئے۔
اس تمام صورتحال میں حکومتِ خیبرپختونخوا، ضلعی انتظامیہ اور ریلیف ادارے مکمل طور پر غیر فعال اور غیر موجود نظر آئے۔ عوامی نمائندے اور حکومتی مشینری یا تو تاخیر سے پہنچی، یا پھر صرف فوٹو سیشن کی حد تک موجود رہی۔
وزیر اعلیٰ کا غیر ذمہ دارانہ بیان:
اس ساری صورتحال کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی آمین گنڈاپور کا بیان
"میں نے جا کر وہاں تمبو لگانے تھے؟”
نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ یہ جملہ ایک عوامی منتخب نمائندے کے منہ سے نہیں بلکہ جیسے کسی بے حس تماشائی کی زبان سے نکلا ہو، جو انسانی المیے کو ایک تماشا سمجھ رہا ہو۔
سوال یہ نہیں کہ وزیر اعلیٰ نے خود جا کر تمبو لگانے تھے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ ان کی ذمہ داری نہیں کہ ریلیف اور بحالی کے نظام کو فعال بناتے؟ متاثرین کے لیے مناسب امداد یقینی بناتے؟ ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے؟
انتظامی ناکامی:
اگر ہم سوات کے حالیہ سانحے کا تجزیہ کریں تو ہمیں درج ذیل شدید نوعیت کی کوتاہیاں نظر آتی ہیں:
پیشگی انتباہ کا فقدان:
محکمہ موسمیات کی وارننگ کو سنجیدگی سے نہ لینا اور متاثرہ علاقوں میں پیشگی اقدامات نہ کرنا۔
ریسکیو اداروں کی غیر موجودگی:
بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد کئی گھنٹوں تک کسی قسم کی امدادی کارروائی نظر نہیں آئی۔
بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی:
متاثرین کے لیے نہ کھانے کا بندوبست، نہ طبی امداد، نہ پناہ گاہیں — سب کچھ عوام کو خود کرنا پڑا۔
ضلعی انتظامیہ کی خاموشی:
ڈی سی اور ضلعی افسران میڈیا پر بھی نظر نہیں آئے، متاثرہ علاقوں میں بھی ان کی کوئی موجودگی محسوس نہیں ہوئی۔
سیاسی و انسانی پہلو:
وزیر اعلیٰ کا بیان دراصل اس پورے سیاسی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو عوامی مسائل سے کٹا ہوا ہے۔ آج حکمران صرف اقتدار، پروٹوکول اور پراجیکٹس کے اعلانات تک محدود ہو چکے ہیں۔
انہیں نہ زمینی حقائق کا ادراک ہے، نہ انسانی جذبات کی سمجھ۔ جب عوام کی تکلیف پر ایسے غیر سنجیدہ جملے ادا کیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست، عوام کی ماں نہیں رہی، بلکہ بے حس تماشائی بن چکی ہے۔
ریاستی و اخلاقی ذمہ داری:
اسلامی فلاحی ریاست کا تصور اس وقت مکمل ہوتا ہے جب حاکم، رعایا کی خدمت کو عبادت سمجھے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ:
قدرتی آفات کے لیے پیشگی اقدامات کرے۔
متاثرین کو فوری ریسکیو اور ریلیف فراہم کرے۔
سیاسی قیادت خود جائے اور متاثرہ عوام کے درمیان کھڑی ہو۔
ایسا نظام بنائے جس میں ہر ضلع میں ایمرجنسی ٹیم موجود ہو۔
مگر جب وزرائے اعلیٰ محض اخباری بیانات اور سماجی میڈیا کی پوسٹوں تک محدود ہو جائیں، تو پھر سانحات محض فطری نہیں رہتے، وہ حکومتی مجرمانہ غفلت کا بھی نتیجہ بن جاتے ہیں۔
عوامی ردعمل اور میڈیا کا کردار:
خوش آئند بات یہ ہے کہ اس بار سوشل میڈیا پر عوام نے بھرپور ردعمل دیا، اور میڈیا نے بھی وزیر اعلیٰ کے بیان پر سوالات اٹھائے۔ یہ عوامی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ اب لوگ خاموش نہیں رہیں گے۔ اگر یہی دباؤ برقرار رہا، تو شاید حکومتی رویوں میں کچھ تبدیلی آ سکے۔
نتیجہ اور تجویز:
سانحہ سوات ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں اب صرف آفات پر ماتم نہیں، بلکہ ان کے اسباب پر سوال اٹھانا ہو گا۔
وزیر اعلیٰ کے بیان کی نہ صرف مذمت کی جانی چاہیے بلکہ ان سے عوامی طور پر معافی بھی مانگنے کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔
ریاست کو صرف تمبو نہیں، ایک ایسا نظام مہیا کرنا ہو گا جو ہر شہری کو تحفظ، عزت اور بروقت امداد فراہم کرے۔
ورنہ کل کو شاید یہی عوام کہیں گے:
"کیا ہم نے ووٹ دینے تھے یا خود جا کر ایم پی اے بننا تھا؟”