خدارا! سیاحت کو موت نہیں، خوشی کا موقع بنایا جائے

ڈسکہ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان سوات سیر و تفریح کیلئے گیا تھا۔ بچوں اور خواتین سمیت اس قافلے میں کل 18 افراد شریک تھے۔ 27 جون کو علی الصبح، سوات بائے پاس کے قریب دریا کے کنارے پہنچیں اور پھر کشتی کے ذریعے دریا میں سیر کے لیے چلے گئے۔ موسم خراب تھا، زور دار بارش ہوئی اور اچانک دریا میں طغیانی آئی اور بے قابو ریلے چاروں اطراف پھیلنے لگے۔ مذکورہ افراد چونکہ دریا کے عین بیچوں بیچ گھیر گئے تھے۔ آس پاس میں گو کافی افراد جمع ہو گئے لیکن ان کے پاس کوئی اوزار نہیں تھے اس لیے چیخ و پکار اور موبائل فون سے ویڈیوز بنانے کے علاؤہ کچھ بھی نہیں کر سکیں۔ ڈیڑھ دو گھنٹے زندگی اور موت کے درمیان چیخ و پکار اور آس و یاس کی کشمکش برپا تھی کہ اسی اثناء میں کئی بے رحم لہروں نے ایک ایک دو دو کر کے پندرہ افراد کو نگل لیا۔ اطلاعات کے مطابق اس سانحے میں تین افراد کو بچا بھی لیا گیا جن کی کوئی تفصیل میرے علم میں نہیں۔

آج تیسرا دن ہے اور اس واقعے سے لگا دکھ، افسوس اور فکر مندی کم نہیں ہو رہی۔ برسوں نہیں عشروں سے سیاحتی مقامات پر اس طرح کے سینکڑوں نہیں، ہزاروں واقعات رونما ہو چکے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ نہ لوگ احتیاط کرنے پر آمادہ ہیں اور نہ ہی حکومت خصوصی اقدامات اٹھانے پر۔ ایک ہمہ جہت غفلت، بدانتظامی اور نااہلی نے پورے معاشرے کا احاطہ کیا ہے اور کوئی بھی ادارہ یا فرد اپنے حصے کی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا۔ تازہ ترین اندوہناک واقعے میں بھی غفلت، بدانتظامی اور نااہلی جا بجا رقصاں نظر آ رہی ہے۔ سیاح اس قدر خوش تھے کہ انہیں موسم کی شدت اور دریا میں پانی کی سطح کا بالکل اندازہ نہ ہو سکا حالانکہ سوات کا موسم اور دریائے سوات کی حالت کا اندازہ فوری ہو جاتا ہے۔ لاپرواہی اور ہر معاملے میں "دیکھا جائے گا” والا مزاج ہماری قومی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے جس کے تباہ کن نتائج اور مظاہر ہر وقت اور ہر جگہ نظر آ رہے ہیں۔

ملک میں باقاعدہ ایک محکمہ سیاحت موجود ہے لیکن اس کا کوئی کام اور کارکردگی تو کم از کم میرے علم میں نہیں۔ دفاتر ہوں گے، افسران اور ملازمین بھی اور طرح طرح کے دعوے اور اشتہارات بھی چلیں گے البتہ اس کی خدمات اور کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ چاہیے تھا کہ تمام سیاحتی مقامات پر محکمے کا تربیت یافتہ عملہ، درکار ساز و سامان اور سب سے اہم یہ کہ سیاحوں کو ضروری رہنمائی اور آگہی فراہم ہو۔ حفاظت کے لیے درکار اوزار اور اقدامات کا عام لوگوں کو درست پتہ نہیں لگتا یہ متعلقہ ادارے کا کام ہے کہ لوگوں کو ہر جگہ ضروری رہنمائی فراہم کرے۔

دریائی سیر و تفریح دنیا بھر میں ایک مقبول ترین سیاحتی سرگرمی ہے اور اس کے لیے تمام ضروری انتظامات حکومتی نگرانی میں انجام پاتے ہیں لیکن پاکستان میں حکومت کا کام، بقول جاوید چوہدری "صرف اور صرف حکمرانوں کی سیکورٹی اور پروٹوکول رہ گیا ہے اور بس” کے پی کے حکومت تو صرف خان کے لیے وقف ہو کر رہ گئی ہے۔ خان سے ملاقاتوں کا انتظام، خان کے قیام و طعام کا پروگرام، فلاں معاملے میں خان کی مرضی فلاں کام میں خان کی اجازت، خان کے لیے دھرنے، خان کے لیے جلسے خان کے لیے یہ خان کے لیے وہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قوم حیران و سرگرداں ہے کہ کے پی کے حکومت کا خان کے علاؤہ بھی کوئی کام ہے یا نہیں اور جواب بزبان حال نفی میں ہوتا ہے۔ گزشتہ تیرہ سال سے صوبے میں تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والی پارٹی کی حکومت ہے لیکن ہر شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے اور خدمت قوم کی نہیں صرف خان کی ہو رہی ہے۔ خیر بات دور تک چلی گئی اب ہم واپس ایک محفوظ سیاحت کے لیے درکار اقدامات کا جائزہ لینے پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں تاکہ سیاحت اور موت کا "گٹھ جوڑ” ختم ہو جائے اور ایک محفوظ سیاحت کا موقع اور ماحول عوام کو میسر آ جائے۔

یہ حقیقت ہے کہ سیاحت کسی بھی ملک کی معیشت، معاشرت، ثقافت اور بین الاقوامی شہرت کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ پاکستان، جس میں قدرتی حسن، تاریخی ورثہ اور ثقافتی تنوع کی بے پناہ دولت موجود ہے، سیاحت کے لحاظ سے دنیا کے چند منفرد ممالک میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ تاہم، بدقسمتی سے، پچھلی کئی دہائیوں سے دہشت گردی، نااہلی، بنیادی سہولیات کی نایابی، عدم تحفظ، انفراسٹرکچر کی کمی اور بدانتظامی کی وجہ سے پاکستان کی سیاحت کی صنعت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگرچہ وفاقی سطح پر حالیہ برسوں میں حکومت نے ویزا پالیسیوں میں نرمی، پروموشنل مہمات اور سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے جیسے اقدامات کیے ہیں، تاہم صوبائی اور مقامی سطح پر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ صوبائی اور مقامی سطح پر بدقسمتی سے سیاحت بچاس ویں ترجیح بھی نہیں۔ اس کے لیے وسائل ہیں نہ ہی تربیت یافتہ عملہ، توجہ ہے نہ ہی ضروری اقدامات تو کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ سیاحت ایک نفع بخش انڈسٹری تو دور کی بات خود سیاحوں کے لیے موت سے بچنا تک کیا ممکن ہو سکے گا؟

سیاحت کو فروغ دینے کے لیے سب سے اہم چیز سیاحوں کا تحفظ ہے۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ سیاحتی مقامات پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں آئے خصوصاً شمالی علاقہ جات، سوات، مری، ہنزہ اور دیگر اہم مقامات پر سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ اس طرح کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری مدد کے لیے ایک مختصر نمبر (جیسا کہ ٹورسٹ پولیس ہاٹ لائن) قائم کی جائے۔ اس طرح سیکیورٹی کیمرے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے، سیاحتی مقامات پر سیکیورٹی کیمرے لازم نصب کیے جائیں اور سیاحتی مقامات کے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو بڑھایا جائے۔

پاکستان کے بیشتر سیاحتی مقامات تک رسائی مشکل ہے، جبکہ وہاں بنیادی سہولیات کا بھی شدید فقدان ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کی ترقی خاص طور پر شمالی علاقوں میں پہاڑی سڑکوں کی مرمت اور جدید ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف کرایا جائے۔ اگر چہ بعض تجارتی کمپنیاں ٹرانسپورٹ کے دائرے میں خدمات فراہم کر رہی ہیں لیکن وہ بہر صورت ناکافی ہیں۔ اس طرح صاف پانی اور صحت کی دیگر سہولیات بھی ناگزیر ہیں مثلاً سیاحتی مقامات پر صاف پانی، بیت الخلاء اور طبی امداد کی سہولیات فراہم کیے جائیں۔ اس طرح ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کا معیار بہتر بنانا بھی اہم ہے یعنی سیاحوں کے لیے مناسب رہائش کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے اور نجی شعبے کو معیاری ہوٹلز کی تعمیر کے لیے ضروری مراعات دئیے جائیں۔

دنیا بھر میں پاکستان کی مثبت تصویر پیش کرنے کے لیے موثر مارکیٹنگ کی ضرورت ہے یعنی بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کی سیاحتی نمائشوں کا اہتمام ہو مثلاً بی بی سی، سی این این اور دیگر عالمی چینلز پر پاکستان کے سیاحتی مقامات کے پرکشش ڈاکومنٹریز اور اشتہارات دکھائے جائیں۔ اس طرح سوشل میڈیا پر مختلف موثر مہمات کا انتظام ہو اس مقصد کے لیے انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر کام کر کے پاکستان کی خوبصورتی کو اجاگر کیا جائے۔ اس طرح سیاحتی ویزوں میں مزید آسانی پیدا کی جائے مختلف ممالک کے شہریوں کے لیے آن arrival ویزے کا نظام متعارف کرایا جائے اور ای ویزہ سسٹم کو مزید وسعت اور تیزی سے ہم کنار کیا جائے۔

مقامی لوگوں کو سیاحت کی صنعت میں شامل کرنے سے نہ صرف روزگار کے خاطر خواہ مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اس عمل سے سیاحوں کو بھی مثبت سماجی اور ثقافتی تجربات اور مشاہدات میسر آئیں گے۔ لوگوں کو ترغیب اور تشویق دلایا جائے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنے گھروں اور حجروں کو گیسٹ ہاؤسز بنائیں۔ اس طرح مقامی گائیڈز کو ضروری اخلاقی اور پیشہ ورانہ تربیت کا انتظام کیا جائے تاکہ سیاحوں کو مختلف مقامات کے بارے میں تاریخی اور ثقافتی نوعیت کے معلومات دستیاب رہیں۔ اس طرح سیاحتی علاقوں میں رہنے والوں کو ہوٹل مینجمنٹ، فوڈ سروسز اور دستکاری جیسے شعبوں میں بھی تربیت دی جائے۔

سیاحتی مقامات پر بڑھتے ہوئے کچرے اور آلودگی کے مسئلے کو بھی حل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ تمام سیاحتی مقامات پر واٹسٹ اینڈ ری سائیکلنگ سسٹم لگایا جائے اور سیاحوں کی بڑی تعداد والے مقامات پر کچرا جمع کرنے اور ری سائیکلنگ کے نظام کو فعال بنایا جائے۔ اس طرح ایک باقاعدہ ماحول دوست سیاحت کو فروغ دیا جائے یعنی ٹریکنگ اور کیمپنگ کے دوران ماحول کو نقصان نہ پہنچانے کے لیے سیاحوں کو آگاہ کرنے کا عمل جاری و ساری رکھا جائے۔ سیاحت بلند انسانی و سماجی شعور اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے کا متقاضی عمل ہے اس کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرامات کا انعقاد عمل میں لایا جائے۔

حکومت پاکستان نے سیاحت کے شعبے میں کچھ نہ کچھ مثبت اقدامات ضرور کیے ہیں، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔ وزیراعظم، وزیر سیاحت اور دوسرے تمام متعلقہ اداروں کو درج ذیل کام فوری طور پر کرنے چاہئیں:

1. سب سے پہلے ایک باقاعدہ سیاحتی پالیسی بنائے، اس میں جو بھی طریق کار طے پا جائے اس پر پوری دلجمعی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

2. سیاحتی مقامات پر سیکیورٹی اور سہولیات کا جائزہ لیا جائے۔ حفاظتی ہیلی کاپٹرز، کشتیوں، ڈرونز اور دوسرے تمام آلات و اوزار کا انتظام کیا جائے۔ ایسی چیزوں پر سرمایہ ایک بار لگتا ہے لیکن بعد میں اس سے مسلسل زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ سوات کے حالیہ سانحے میں بھی ہیلی کاپٹر کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی۔

3. سیاحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور نجی شعبے کو اس عمل میں باقاعدہ شامل کیا جائے۔ مقامی لوگوں کو سیاحت سے منسلک کر کے غربت کم کرنے کی کوشش کی جائے۔

4. بین الاقوامی سیاحوں کے لیے اشتہاری مہم چلائی جائے۔ مقامی لوگوں سے ان کو ملنے کے مواقع فراہم کیے جائیں ایسے اقدامات سے دنیا بھر میں پاکستان کا امیج خوبصورت اور دلکش بنے گا۔ ہمارے ہاں تنگ نظری اور خام انسانی رویوں کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ ہمیں دوسری اقوام سے ملنے جلنے کے مواقع فراوانی سے دستیاب نہیں۔

5. سیاحوں کو پاکستانی معاشرے کے اہم دینی، علمی، سماجی اور ثقافتی مقامات کے دورے کروائے جائیں بالخصوص مساجد، مدارس اور حجروں وغیرہ کے تاکہ جو خوف، تشویش یا نفرت خاص کر مغربی باشندوں کو لاحق ہے وہ ختم ہو۔

پاکستان میں عالمی اور قومی سیاحت کے لیے بے پناہ گنجائش موجود ہے، لیکن اسے محفوظ، منظم اور پرکشش بنانے کے لیے حکومت، عوام اور نجی شعبے کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ اگر صحیح منصوبہ بندی اور ایمانداری سے اقدامات کیے جائیں تو یقین کریں پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں ایک اہم سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی نظریاتی، اخلاقی، سماجی، ثقافتی اور جمالیاتی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کریں اور سیاحت کو ملکی ترقی کا ایک اہم ذریعہ بنائیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے