انسانی نظام، نفسیات اور اسلام کا متوازن تصور

انسانی سماج میں جب کسی فرد یا گروہ سے کوئی لازمی کام لینا مقصود ہو تو اس کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تین بنیادی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں: پہلی تدبیر قوانین کا نفاذ ہے تاکہ کوتاہی کی صورت میں سزا کا تصور ذہن میں رہے؛ دوسری تدبیر تربیت دینا ہے تاکہ فرد کی اخلاقی حس بیدار ہو اور ذمہ داری کا داخلی احساس پیدا ہو؛ تیسری تدبیر نگران مقرر کرنا ہے تاکہ کام کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔

اسی بات کو ہسپتال کے عملی تناظر میں دیکھیں: ڈاکٹر سے بنیادی طور پر یہ لازمی توقع کی جاتی ہے کہ وہ مریضوں کا مناسب اور بہتر علاج کرے۔ اس مطلوبہ کام کو حاصل کرنے کے لیے مذکورہ تینوں طریقے بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر کو طویل تعلیمی مراحل (میڈیکل اسکول، انٹرن شپ، رہائشی تربیت) سے گزارا جاتا ہے جہاں اس کے اندر انسانیت، ہمدردی اور طبّی اخلاقیات (Medical Ethics) کے جذبات کو پروان چڑھایا جاتا ہے، مثال کے طور پر "ہپوکریٹک حلف” (Hippocratic Oath) اسی اخلاقی تربیت کا حصہ ہے۔ دوسری جانب طبی غفلت یا بددیانتی کی صورت میں میڈیکل مہارت کے قانون (Medical Malpractice Law) کے تحت قانونی چارہ جوئی، لائسنس منسوخی یا ہسپتال کے داخلی ضوابط (جیسے مریضوں کے حقوق کا چارٹر) کے ذریعے سزائیں دی جاتی ہیں۔ تیسری تدبیر کے طور پر ہسپتال میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) یا چیف آف اسٹاف جیسے نگران مقرر کیے جاتے ہیں جو ڈاکٹروں کے کام کا باقاعدہ جائزہ لیتے ہیں، کلینکل آڈٹس کرتے ہیں اور مریضوں کی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہیں۔ یہ سارا نظام درحقیقت اسی لیے تشکیل دیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر سے مطلوبہ خدمت مسلسل، معیاری اور بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔

فطری طور پر انسان ایسے نظام کو زیادہ کامیاب، حکمت آمیز اور بصیرت افروز سمجھتا ہے جہاں قانونی پابندیوں اور بالادست افسروں کی مسلسل مداخلت کم سے کم ہو، اور ذمہ داری پوری کرنے میں فرد کی اپنی اخلاقی حس اور داخلی محرکات کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لایا جائے۔ جب کوئی شخص خود کسی ذمہ داری پر فائز ہوتا ہے تو اس کی نفسیاتی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس پر قانون اور افسر کی سختی ہر وقت مسلط نہ ہو، اور اگر کوئی غلطی سرزد ہو تو اسے پہلے اخلاقی بنیادوں پر سمجھا جائے نہ کہ فوری طور پر قانونی دباؤ کے تحت سزا دی جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہی شخص کسی دوسرے فرد کو اسی طرح کی ذمہ داری ادا کرتے دیکھتا ہے تو اس کا رجحان ہوتا ہے کہ اسے قانون کے ذریعے قابو میں رکھا جائے۔ لیکن جب وہ خود کسی اور جگہ یا کردار میں ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ اخلاقی بنیادوں پر ہی معاملہ کیا جائے، قانونی دباؤ کے بغیر۔ یہ تضاد درحقیقت اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان مجموعی طور پر اپنی ذمہ داریوں کے معاملے میں اخلاقیات کو ہی بنیادی محرک اور ترجیح دیتا ہے۔ انسانی نظاموں میں دی جانے والی وارننگز یا "شوکاز نوٹسز” بھی دراصل اسی نفسیات کو مخاطب کرتے ہیں کہ پہلے اخلاقی راہنمائی دی جائے، پھر قانونی اقدام کیا جائے۔

اخلاقی پہلو اس لیے زیادہ مؤثر اور دیرپا ہے کہ انسانی شخصیت کے کئی بنیادی اجزاء ایسے ہیں جن کی اصلاح یا تحریک صرف اخلاقی ترغیب اور داخلی شعور سے ہی ممکن ہے۔ مثلاً نیک نیتی (کام کے پیچھے خلوص کا جذبہ)، اپنے کام سے لگاؤ (ذاتی دلچسپی اور فکرمندی)، اور خیرخواہی (دوسروں کی بھلائی کا جذبہ)۔ یہ کیفیات کسی بیرونی قانون کے زور پر پیدا نہیں کی جا سکتیں۔ اگر یہ داخلی جذبات منفی ہو جائیں (مثلاً بے رغبتی، منافقت، بدخواہی) تو قانونی خوف کے باوجود، فرد موقع ملتے ہی اپنے منفی رجحانات کو عملی شکل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔ اسی طرح جب کسی کام میں ان داخلی جذبات کی قوت موجود نہ ہو تو کام کی معیاری ادائیگی کی توقع بھی بے جا ہوگی۔

فرض کیجیے دو کارخانے ہیں جنہیں مزدوروں کی ضرورت ہے: پہلا کارخانہ جہاں مزدوروں کے ساتھ اخلاقی بنیادوں پر، باہمی احترام اور تفہیم کا رویہ رکھا جاتا ہے، اور دوسرا کارخانہ جہاں محض قانونی ضابطوں اور سخت نگرانی کے تحت مزدوروں سے کام لیا جاتا ہے۔ فطری طور پر، ہر مزدور کی ترجیح پہلے کارخانے میں کام کرنا ہوگی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان اپنی نفسیات کے مطابق ایسے ماحول کو ترجیح دیتا ہے جو اس کی عزت نفس کا احترام کرے اور داخلی محرکات کو جگائے۔

کسی فرد یا گروہ سے بہترین اور پائیدار کام لینے کے لیے سب سے مؤثر نظام وہی ہوگا جو انسانی نفسیات کی گہری سمجھ پر مبنی ہو، انسانی ذہن و دل کی داخلی ساخت سے ہم آہنگ ہو، اور جرم یا کوتاہی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دے، یعنی نظام کی ترتیب ایسی ہو کہ غلط کام کرنا مشکل ہو جائے۔ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ جرم کا ارتکاب ہی نہ ہونے پائے، اور فرد سزا کے مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ہی باز آ جائے۔ اس طرح انسان کی نیت اور ارادے راستے ہی میں "سرد پڑ” جائیں۔ ایسا حکمت و بصیرت پر مبنی نظام نہ صرف افراد سے زیادہ بہتر اور دیرپا کام لیتا ہے، بلکہ اس میں جرائم و کوتاہیوں کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی، فرد اپنی عزت نفس محفوظ رکھتے ہوئے اعتماد اور خلوص کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ قانون کا کردار سرے سے ختم ہو جانا چاہیے، یا ہر فرد کو اخلاقی ترغیب سے ہی کام لیا جا سکتا ہے۔ عملی دنیا میں ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو اخلاقی حس سے یکسر محروم ہوں، جان بوجھ کر بددیانتی یا کوتاہی پر تُلے ہوں، یا مسلسل اپنی عزت نفس کو خود ہی مجروح کر رہے ہوں۔ ایسی صورت حال میں نظام میں سختی اور قانونی کارروائی کا پہلو بھی لازماً موجود ہونا چاہیے۔ مقصد یہ ہو کہ ایسے افراد کو یا تو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جائے، یا پھر انہیں نظام سے خارج کر کے مجموعی عمل کو ان کے منفی اثرات سے محفوظ کر لیا جائے۔ یہ بھی ایک طرح سے جرم کے راستے میں رکاوٹ کا ہی اصول ہے، تاکہ نظام کی صحت برقرار رہے۔

انسانی صلاحیتوں کو ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے مؤثر بنانے کے لیے، ان حقائق کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں اسلام کا فہم و تفہیم کا انداز منفرد ہے: وہ اپنے دلائل کو سادہ پیرائے میں بھی پیش کرتا ہے اور گہرائی کے ساتھ بھی، تاکہ ہر طرح کے فہم رکھنے والوں کے لیے سامانِ ہدایت موجود رہے۔ اسی طرح انسان کی نفسیات میں یہ بات بھی رکھی گئی ہے کہ جب کسی عمل کے اسباب اور عوامل اس کے سامنے موجود ہوں تو اس عمل کی طرف اس کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ مثلاً ہم بچوں کے سامنے سگریٹ نہیں پیتے اور گھر میں بھی کوشش کرتے ہیں کہ سگریٹ پر ان کی نگاہ نہ پڑے۔ یہ دراصل انسانی نفسیات کے انہی داعیات کی وجہ سے کیا جاتا ہے کہ جب کسی عمل کے اسباب سامنے ہوں تو انسان کا ذہن خود بخود اس کی طرف مائل ہوتا ہے، اور اس میں ملوث ہونے کے امکانات کہیں زیادہ ہو جاتے ہیں، بہ نسبت اس صورت کے جب وہ اسباب سامنے موجود نہ ہوں۔ اسلام نے انسان کے اسی فطری رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے جن اعمال سے روکا ہے، ان کے اسباب پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ جیسے زنا کے معاملے میں دیکھا جائے تو اسلام نے مرد و زن کے آزادانہ اختلاط، غیرمحرم کے ساتھ خلوت یا فحش مواد کی ترویج جیسے اسباب کو ناجائز قرار دیا ہے۔

انسانی نفسیات کے حوالے سے اسلام اس کے سامنے اخلاقیات کا بے کنار سمندر کھول کر رکھ دیتا ہے۔ اسلام اپنے پروگرام میں اخلاقیات کے دائرے کو اتنا وسیع کر دیتا ہے کہ وہ زندگی کی ہر چیز پر محیط ہو جاتا ہے۔ اسلام کا اخلاقی تصور یہ ہے کہ ہر شے کو اس کا جائز حق دیا جائے۔

اسلام اپنے اخلاقی نظام کے ذریعے انسانی زندگی کو افراط و تفریط سے پاک کرکے اعتدال کا وہ حسن بخشتا ہے جو حسن نہ گلاب کی پنکھڑیوں میں ہے اور نہ ہی چودھویں کے چاند کے پرکشش نظاروں میں۔

اسلام محض اخلاقی نظام کی وسعت اور حسن میں منفرد نہیں، بلکہ انسان کو اس اخلاقی نظام پر چلانے کے لیے توحید اور آخرت جیسے بنیادی افکار کا بھی حامل ہے۔
اسلام کا اخلاقی نظام ان بنیادوں کی بنا پر اتنا قوی، مدلل اور مؤثر ہے کہ اسی کے ذریعے اسلام نے اپنے معتقدین ہی نہیں، بلکہ مخالفین کو بھی قائل کیا، بلکہ ایسا ہمنوا بنایا جو اس کا دفاع کرنے والا بن گیا۔

وہ شخص بڑا ظالم ہوگا جو اسلام کے اس آفاقی تصورِ اخلاق کو بدھ مت یا ہندوازم سے محض اس بنا پر جوڑتا ہے کہ ان میں بھی اخلاق کا تصور پایا جاتا ہے اور اسلام میں بھی۔ پس محض نام کی یکسانیت کی بنا پر اسلام کو ان انسانی مذاہب سے ملانا سخت زیادتی ہے۔ اسی طرح، اسلام اخلاقیات کے سلسلے میں انسانی نفسیات کے ان گوشوں کو بھی ایسے ایسے تعبیرات کے ذریعے مخاطب کرتا ہے جن تک انسان صدیوں تحقیق و جستجو کے بعد بھی نہیں پہنچ سکا۔ انسان کو انسانی نفسیات کے ان پیچیدہ گوشوں کا تب علم ہوتا ہے جب وہ خود تجربات سے گزرتا ہے، اور ان تجربات کے بعد بھی انسان کا یہ علم نامکمل اور ادھورا ہی رہتا ہے۔ اسلام، انسانی نفسیات کے انہی پیچیدہ پہلوؤں کو ایک ایسے فرد کے ذریعے پوری باریک بینی سے پیش کرتا ہے جس نے کبھی انسانی نفسیات کے بارے میں ایک صفحہ بھی نہیں پڑھا، اس شخص کی تعلیمات میں انسانی نفسیات کی جو جامع تصویر ملتی ہے وہ لاکھوں انسانوں کے تجربات سے بھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سب سے زیادہ جس وسیلے سے انسانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، وہ اس کا جامع اور معقول اخلاقی نظام ہے۔

اسلام اپنی معقولیت، تصورِ آزادی، جرائم سے پہلے زبردست رکاوٹیں کھڑی کرنے اور اخلاقی نظام کے ساتھ ساتھ انسان کو قائل کرنے کے لیے اس کی ضروریات کا بھی کماحقہ لحاظ رکھتا ہے، کیونکہ انسان جب تک انسان ہے، وہ اپنی ضروریات کو نظرانداز کرکے زندہ نہیں رہ سکتا۔ انسان کسی ایسے نظام کو عملاً قبول نہیں کر سکتا جس میں خوراک، پانی اور جنسی ضروریات وغیرہ پر مکمل پابندی ہو۔ اسلام کے پاس اس حوالے سے ایک منفرد اور جامع منصوبہ بندی موجود ہے، جیسے نظامِ معیشت، نکاح اور رشتہ داری وغیرہ۔ اسلام انسانی معاشی ضرورت کو اس قدر اہمیت دیتا ہے کہ جو شخص روزی کمانے کے لیے گھر سے دور جاتا ہے، اس کی موت کو باعثِ اجر قرار دیتا ہے۔ اسی طرح نکاح کے بارے میں اس کا موقف یہ ہے کہ "جو نکاح نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔”

یہاں سے ان لوگوں کے اعتراضات کی قلعی بھی کھل جاتی ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام میں بھی عمل کے بدلے جنت یا حور مانگنا رشوت ہے۔ حالانکہ یہی تو اسلام کی خوبی ہے کہ وہ انسان کی حقیقی ضروریات (جیسے جزا کی امید) کا ادراک کرکے کسی رویے کو اپنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسی طرح، ان لوگوں کے اعتراضات کا کھوکھلا پن بھی واضح ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام میں بھی عیسائیت کی طرح رہبانیت ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ پھر اسلام میں ایسا کیا خاص ہے جو اسے رہبانیت والے مذاہب سے ممتاز بناتا ہے؟ ایسے حضرات کو اسلام کے انسانی ضروریات سے متعلق نقطہ نظر پر معمولی سا بھی غور کرنا چاہیے، اور اسلام کے حوالے سے اپنے بے بنیاد، ناروا اور غیر معقول رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات کا ایک اور نہایت قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ وہ انسان سے بحیثیت انسان جرم کے سرزد ہونے کو مطلقاً ناممکن نہیں سمجھتیں، کیونکہ انسان کے مزاج میں جہاں اچھائی کا داعیہ موجود ہے، وہیں برائی کا رجحان بھی اس کے دل و دماغ میں پایا جاتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے عفو و درگزر کے دروازے کو ہمیشہ کھلا رکھا ہے۔ اسلام میں ایسا نہیں کہ اگر کسی سے جرم ہو جائے اور وہ پشیمان ہو کر نیکی کی طرف پلٹنا چاہے تو اس کے لیے دروازے بند ہوں۔ بلکہ اسلام باقاعدہ طور پر انسان کو یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ پلٹ کر آؤ گے تو تمہارے لیے ایسی معافی ہے جسے دیکھ کر جرم کے احساس سے بھی نجات مل جائے گی، جو ساری زندگی تمہیں پریشان کیے رکھتا ہو۔ مگر یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اسلام متاثرہ شخص کو معافی دینے پر مجبور نہیں کرتا۔ اگر وہ معافی نہ دینا چاہے تو کوئی بھی اسے بالجبر ایسا کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتا۔

اسلام کا یہ موقف ان لوگوں کے اعتراضات کا بھی جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی سے زیادتی ہو جائے تو اسلام صرف مجرم کو ہی تحفظ دیتا ہے۔ حالانکہ اسلام جہاں متاثرہ فرد کو یہ ترغیب دیتا ہے کہ عفو و درگزر اور احسان سے کام لینا بڑی نیکی ہے۔وہی مجرم سے متاثرہ فرد سے معافی مانگنے اور اس کے حق واپس کرنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ اسی طرح اگر جرم ایسا ہو جس کے اجتماعی اثرات ہوں، جیسے عوامی خزانے سے چوری یا کسی ٹھیکے میں خردبرد، تو ان امور میں مجرم صرف معافی مانگ کر بری نہیں ہو سکتا بلکہ اسلام کے مقرر کردہ قانونی راستے (مثلاً حدود و تعزیرات) سے ہی گزرے گا۔ اسی طرح جن امور کا تعلق حدود سے ہو، ان میں نہ ریاست معاف کر سکتی ہے اور نہ ہی متاثرہ شخص۔ البتہ جن معاملات کا تعلق حدود سے نہ ہو، ان میں قاضی، سیاستاً وقت اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی، بشرطیکہ متاثرہ شخص کو اعتماد میں لیا جائے۔

اسلام کا یہ مؤقف ان لوگوں کے اعتراضات کا کافی جواب ہے جو اسلام پر تشدد، انتہاپسندی یا جہاد کے نام پر الزامات عائد کرتے ہیں اور لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسلام آخر میں انسانی معاشرے کی ناگزیر ضرورت کے تحت اپنا ایک جامع نظامِ قانون بھی رکھتا ہے۔ اگر معقولیت، اخلاقیات، نفسیاتی بصیرت، باہمی رحمدلی، معقول آزادی، اور قبول یا ردِ اسلام میں آزادی جیسے عناصر کے بعد بھی کوئی شخص جرائم سے باز نہ آئے اور زمین میں فساد پھیلانے سے باز نہ آئے، تو اسلام اپنے انہی تعلیمات کے نفاذ کے لیے ایک معقول قانونی نظام پیش کرتا ہے، اور قانون کے لیے ایسی تعریف شدہ بنیادیں فراہم کرتا ہے جو دنیا کے کسی اور "ازم” کے پاس موجود نہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں جہاں ہمیں اخلاقیات وغیرہ کی صورت میں نرمی دکھائی دیتی ہے، وہیں اس کے قوانین میں شانِ بے نیازی بھی جھلکتی ہے۔ میرے خیال میں اگر کوئی بالکل ان پڑھ ہو، تب بھی اس نے اسلامی تعلیمات میں "حدود”، "تعزیرات” اور حضرت ابوبکرؓ کا مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف جہاد کا واقعہ ضرور سنا ہوگا۔اسی طرح، انتظامی عہدوں کے بارے میں اسلام کا مؤقف بھی بالکل واضح ہے کہ ان کے لیے عدالت شرط ہے۔ خلیفہ کے انتخاب کے سلسلے میں اسلام کی تعلیمات یہ ہیں کہ کوئی شخص خود اس کا طلب گار نہ ہو اور وہ ذاتی اوصاف اور انتظامی امور نبھانے کے حوالے سے اہل ہو۔

یہاں سے اسلام کے قانونی اور انتخابی نظام کے حوالے سے ان لوگوں کے اشکالات کا بخوبی جواب مل جاتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام محض اخلاقیات تک محدود ہے اور اس کے پاس کوئی قانونی یا انتظامی ڈھانچہ نہیں، لہٰذا ہمیں اپنے اجتماعی و ریاستی نظام کے لیے دیگر نظاموں کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ لھذا،بات صرف اتنی نہیں کہ اسلام کے پاس نظامِ حکومت کے لیے قانون موجود ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں واحد اسلام ہی ہے جس کے پاس قانون کی ایسی ابدی اور آفاقی بنیادیں موجود ہیں جو ہر زمانے میں نہ صرف کارآمد ہیں، بلکہ اپنی جامعیت اور معقولیت کی بنا پر انہیں منطقی لحاظ سے رد کرنا بھی ممکن نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے