2005 سے 2008 کے درمیان جب انڈیا میں منموہن سنگھ انڈین کانگریس کی احکامات کے وزیرِ اعظم تھے اور امریکہ میں جارج بش صدر تھے، انڈیا نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے ایران کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا۔ انڈیا نے امریکہ کے ساتھ ایک خصوصی ایٹمی معاہدہ حاصل کرنے کے لیے ایران کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
اس وقت ایران پر یہ الزام لگایا جا رہا تھا کہ وہ خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، حالانکہ بین الاقوامی ایٹمی ادارے (IAEA) کی رپورٹوں میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوا تھا کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے۔ تیکنیکی بنیادوں پر نان کمپلائینٹ کے الزامات کے بعد ایران نے تو بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اپنے جوہری پروگرام کا مکمل اور مزید گہرا معائنہ کرنے کی اجازت بھی دی تھی۔
ایسے وقت میں جب ایران امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کا سامنا کر رہا تھا، انڈیا نے جوہری توانائی کے نگراں عالمی ادارے ۔ آئی اے ای اے (IAEA) کے اجلاس میں ایران کے خلاف ستمبر 2005 میں ووٹ دیا تھا جس کی اس وقت کسی کو توقع بھی نہیں تھی کہ انڈیا ایران کے خلاف ووٹ دے گا۔
یہ ووٹ بہت اہم تھا کیونکہ اس کی بنیاد پر ایران کے مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجا گیا جہاں پھر اس پر بتدریج سخت پابندیاں لگائی گئیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کے جوہری پروگرام کو لے جانے کے لیے اور ایران پا پابندی لگانے کے لیے اس وقت ضروری تھا کہ آئی اے ای اے کا بورڈ آف ڈائریکٹر ایران کے خلاف قرار داد منظور کرے۔
انڈیا نے یہ قدم اس لیے اٹھایا تاکہ امریکہ اس کے ساتھ ایک خاص سول نیوکلیئر معاہدہ طے کرے، جس کے تحت انڈیا کو ایٹمی ایندھن، بجلی پیدا کرنے والے ری ایکٹر اور جدید جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی ملے، باوجود اس کہ انڈیا ایٹمی عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (NPT) کا حصہ نہیں تھا۔ انڈیا کو یہ خصوصی بے مثال سہولت ایران کے خلاف ووٹ ڈالنے کی وجہ سے ملی۔
عام طور پر صرف وہ ممالک ایٹمی ٹیکنالوجی خرید سکتے ہیں جو این پی ٹی (NPT) پر دستخط کر چکے ہوں، لیکن انڈیا نے نہ صرف این پی ٹی (NPT) پر دستخط نہیں کیے، بلکہ وہ خود بھی ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے۔ اس کے باوجود، امریکہ نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) میں انڈیا کے لیے خصوصی رعایت حاصل کی تاکہ انڈیا کو جوہری ٹیکنالوجی دی جا سکے۔
یہ رعایت 2008 میں منظور ہوئی اور انڈیا کو وہ سب کچھ حاصل ہو گیا جو این پی ٹی (NPT) کے رکن ممالک کو ملتا ہے، لیکن بغیر ان ذمہ داریوں کے جو این پی ٹی (NPT) پر دستخط کنندگان پر عائد ہوتی ہیں۔ ایران این پی ٹی کا رکن ہے اور کوئی ثبوت نہیں تھا کہ وہ نیوکلیئر بم بنا رہا ہے، لیکن انڈیا نیوکلیئر بم ہونے کے باوجود ایران کے خلاف ووٹ دیا۔
انڈیا نے اس ساری ڈیل کے بدلے ایران کو مایوس کیا اور اپنی غیرجانبدار خارجہ پالیسی سے پیچھے ہٹ گیا۔ ایران کو یہ محسوس ہوا کہ انڈیا نے امریکہ سے فائدوں کے لیے اس کے مفادات کو قربان کر دیا ہے۔ اس سے نہ صرف ایران انڈیا سے دور ہو گیا بلکہ انڈیا کا یہ تاثر بھی گہرا ہوا کہ انڈیا امریکہ کی قیادت میں چلنے والے عالمی نظام کا ایک تابع دار ملک بن گیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ انڈیا نے ایران کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا ہو۔ اس سے پہلے بھی انڈیا نے چاہ بہار بندرگاہ سے زاہدان تک ریلوے لائن بچھانے کا وعدہ کیا تھا، جو ایران کے ریل نیٹ ورک سے جُڑنے کا ایک اہم منصوبہ تھا اور جس کا انڈیا کو بھی فائدہ تھا۔ لیکن بظاہر “مالی تعاون میں بار بار تاخیر” کے باعث ایران نے 2020 میں خود اس منصوبے کو مکمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
اسی طرح، اگرچہ پاکستان اور ایران کے درمیان بھی ایک گیس پائپ لائن منصوبہ (IPI) کئی سال پہلے طے پایا تھا جو پاکستان کی انرجی ضروریات کے لیے اہم ہے، لیکن پاکستان نے امریکی پابندیوں کے خدشے کے باعث اس منصوبے پر واضح پیش رفت نہیں کی۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح خطے کے ممالک امریکی دباؤ کے تحت اپنے مفادات سے بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں
میری ناقص رائے میں ایران، انڈیا اور پاکستان دونوں کے اس رویے کے باوجود، ایک ڈپلومیٹک "ہیجنگ” (Hedging) کی حکمت عملی کے تحت "سٹریٹجک انگیجمنٹ” (Strategic Engagement) برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ “گلوبل ساؤتھ” (Global South) کے دیگر ممالک بھی ایران سے تعلقات کو ظاہری طور پر بہتر رکھ کر امریکہ اور اسرائیل سے سیاسی یا معاشی فائدے حاصل کرتے ہیں۔
اگر وہ ایران سے تعلقات منقطع کرلیں امریکہ سے سودا کیا کریں گے۔ اس سے ایران کی “جیوپولیٹیکل اہمیت” کا اندازہ ہوتا ہے! باالفاظ دیگر ایران جانتا ہے کہ انڈیا شاید مکمل مخلص نہیں، لیکن پھر بھی وہ اس کے ساتھ “حکمت عملی کے تحت تعلقات” قائم رکھتا ہے۔ کیونکہ دنیا کے بہت سے ممالک ایران سے “ظاہری دوستی” دکھا کر امریکہ اور اسرائیل سے فائدہ اٹھاتے ہیں—یہی ایران کی طاقت ہے!