جون 2025 کے اختتام پر وزیر اعظم پاکستان نے بڑے فخر سے "اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” نامی ایپ متعارف کروائی۔ سرکاری دعویٰ یہ تھا کہ یہ قدم بجلی کے بلوں میں شفافیت، سبسڈی کے تحفظ، اور اوور بلنگ کے خاتمے کے لیے "انقلابی” ثابت ہوگا۔
مگر ذرا ٹھہر کر سوچیں: کیا واقعی یہ اقدام عوام کے لیے سہولت ہے؟ یا یہ صرف ایک اور چالاکی سے لپٹی چال ہے؟
پہلے بل درست نکالنا بجلی کمپنیوں (DISCOs) کی ذمہ داری تھی۔ اگر ریڈنگ غلط ہوتی، بل زائد آتا، یا سبسڈی چھن جاتی — تو صارف شکایت کر سکتا تھا۔
مگر اب؟
اگر تصویر وقت پر نہ دی تو بل غلط بھی ہو تو ذمہ دار آپ ہوں گے۔ اگر تصویر دھندلی ہو، اپ لوڈ میں مسئلہ آئے یا ایپ کریش کرے — پھر بھی آپ قصور وار۔
حکومت نے اپنی ناکامی اور بدانتظامی کو صارف کے کندھوں پر ڈال دیا۔
یہ شفافیت نہیں، چالاکی ہے۔
اس ایپ کے استعمال کے لیے درکار چیزیں:
اسمارٹ فون، انٹرنیٹ، ایپ کا علم، فوٹو لینے اور اپ لوڈ کرنے کی صلاحیت۔
مگر سوال یہ ہے: کیا دیہی علاقوں، غریب طبقات، بزرگ شہریوں، یا کم تعلیم یافتہ لوگوں کے پاس یہ سہولیات ہیں؟ ہرگز نہیں۔
یہاں لوگوں کو آج تک اپنا موبائل بیلنس تک چیک کرنا نہیں آتا۔
یہاں لوگ آج بھی موبائل نیٹ ورک کمپنیوں سے پیکجوں اور خفیہ کٹوتیوں میں دھوکہ کھا رہے ہیں — کوئی پرسانِ حال نہیں۔
یہاں آج بھی عام شہری موبائل مرمت کرنے والوں، ریچارج کرنے والوں، اور دکانداروں کے ہاتھوں اپنی کھال اتروا رہے ہیں — نہ کوئی پوچھنے والا ہے، نہ کوئی بتانے والا۔
اکثریت لوگ جو اَن پڑھ ہیں، بزرگ ہیں، یا دیہاتوں میں رہتے ہیں، وہ تو آج بھی صرف بٹنوں والے فون استعمال کرتے ہیں۔
ہمارے گاؤں کے تو ماسٹر صاحب بھی بٹنوں والا فون استعمال کرتے ہیں۔
ایسے میں حکومت ان سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ ایپ انسٹال کریں گے، تصویر لیں گے، اپ لوڈ کریں گے، اور وقت پر سب کچھ کر کے بل بچائیں گے؟
یہ سہولت نہیں، مذاق ہے۔
اور سب سے بڑھ کر مذاق؟
واپڈا کے اپنے دفاتر کا حال دیکھیے جہاں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے بہت سے اہلکار ایسے لگتے ہیں جیسے بین کے آگے بھینس بیٹھی ہو۔
واپڈا آج تک اپنے ملازمین کو کمپیوٹر کا استعمال نہیں سکھا سکا ۔
اور اسے یہ گمان ہے کہ گاؤں، دیہات اور گوٹھ کے انپڑھ اور بزرگ لوگ
اپنی دھوتی کے ڈب سے، نسوار کی ڈبیا کی طرح اسمارٹ فون نکالیں گے،
ایپ کھولیں گے، کلک کلک کر کے میٹر کی تصویریں لیں گے،
تمام اندراجات کریں گے
اور تصویر واپڈا کو بھیج کر شاداں فرہاں
چوپال میں بیٹھ کر نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے گن گائیں گے؟
یہ خوش فہمی نہیں، ایک ستم ظریفانہ فریب ہے۔
حکومت کہتی ہے: "ہم چاہتے ہیں آپ کا بل درست ہو تاکہ 200 یونٹ پر سبسڈی آپ کو ملے”۔
مگر دھیان دیں:
اگر ریڈنگ ایک دن تاخیر سے دی، یا ایک یونٹ بھی اوپر ہو گیا تو بل 2,300 روپے سے سیدھا 8,000 روپے ہو جائے گا!
حکومت جانتی ہے کہ ہزاروں صارف ہر ماہ اس غلطی کا شکار ہوں گے، اور سبسڈی سے محروم ہو جائیں گے — اور ان کے منہ سے "اضافی” پیسہ نکلے گا۔
یہ سہولت نہیں، حساب کتاب کی چال ہے۔
فرض کریں آپ نے تصویر وقت پر بھیجی۔
مگر DISCO کا ریڈر آ کر مختلف ریڈنگ لگا دے، یا سسٹم تصویر قبول نہ کرے — پھر؟
کوئی شکایت کا خودکار نظام نہیں
کوئی "ریویو بٹن” نہیں
کوئی آفیشل اعتراف نہیں کہ صارف کی ریڈنگ ہی حتمی ہوگی
اگر کچھ غلط ہو جائے، تو صارف بے بس، اور حکومت بری الذمہ۔
آپ ہر ماہ گھر کا فوٹو، میٹر کی تصویر، مقام، وقت، تاریخ — یہ سب حکومت کے ڈیجیٹل ریکارڈ میں دے رہے ہیں۔ بغیر کسی واضح پرائیویسی پالیسی کے۔
اس سب کو "بلنگ سہولت” کہہ کر حکومت ڈیجیٹل نگرانی کے ایک اور دروازے کی چابی لے چکی ہے۔
حکومت خوشی سے کہتی ہے: "اب ہمیں میٹر ریڈر نہیں رکھنے پڑیں گے”۔
یعنی ہزاروں افراد جو میٹر ریڈنگ کرتے تھے، اب نظام سے باہر ہوں گے۔
ٹیکنالوجی کے نام پر بیروزگاری کا دروازہ کھولا جا رہا ہے۔
حکومت دعویٰ کرتی ہے: شفافیت، سبسڈی کا تحفظ، عوامی سہولت، ڈیجیٹل ترقی، اور اخراجات میں کمی۔
مگر حقیقت ہے:
ذمہ داری عوام پر
ایک یونٹ اوپر گیا، سبسڈی گئی
عوامی امتحان
ڈیجیٹل نگرانی
روزگار کا خاتمہ
سوال ہمارا، جواب حکومت دے:
اگر کوئی بند گھر ہے تو ریڈنگ کون دے؟
اگر کوئی شخص بیمار یا بیرون ملک ہے تو؟
اگر ایپ کام نہ کرے تو؟
اگر غلط ریڈنگ ڈال دی جائے تو انصاف کون کرے؟
حکومت کو یہ یاد رکھنا ہوگا: ٹیکنالوجی صرف تب ہی سہولت بنتی ہے جب اس کے پیچھے نیت درست، نظام واضح، اور رسائی عام ہو۔
"اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” اصل میں "اپنی غلطی، اپنا بل” بنتی جا رہی ہے۔
کیا آپ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ ایپ سہولت ہے یا سازش؟
اپنی رائے ضرور دیں۔